settings icon
share icon
سوال

مَیں دھوکے کے درد پر کس طرح قابو پا سکتا ہوں؟

جواب


دھوکہ دینا مجموعی طور پراعتماد کی سراسر خلاف ورزی ہے اور یہ انسان کو ملنے والے درد کی سب سے تباہ کن شکلوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ دھوکہ دہی کا دُکھ اکثر کمزوری کے احساس اور لوگوں کے سامنے دُکھ کی نمائش کی بدولت بڑھایا جا سکتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کے لیے دھوکہ دہی کا درد جسمانی تشدد، فریب یا تعصب سے بھی بد تر ہوتا ہے۔ دھوکہ دہی اعتماد کی بنیاد کو تباہ کر دیتی ہے۔

داؤد دھوکہ دہی سے ناواقف نہیں تھا: "جس نے مجھے ملامت کی وہ دُشمن نہ تھا ورنہ مَیں اُس کو برداشت کر لیتا اور جس نے میرے خِلاف تکبُّر کِیا وہ مجھ سے عداوت رکھنے والا نہ تھا نہیں تو مَیں اُس سے چُھپ جاتابلکہ وہ تو تُو ہی تھا جو میرا ہمسر۔ میرا رفِیق اور دِلی دوست تھا۔ہماری باہمی گُفتگُو شِیرین تھی اور ہجوم کے ساتھ خُدا کے گھر میں پھرتے تھے " (55زبور 12-14 آیات)۔ جس قدر گہرا تعلق ہوگا اُسی قدر گہرا دھوکے کا درد بھی ہوگا۔

‏خُداوند یسوع بھی دھوکہ دہی کے درد کو براہِ راست طور پر جانتا تھا۔ ہر ایک دور میں ہونے والے سبھی دھوکوں میں سے سب سے زیادہ بُرا اور سب سے بڑی دغا بازی پر مبنی دھوکہ یہوداہ کی طرف سے چاندی کے تیس سکوں کے عوض خُداوند یسوع کے ساتھ کیا گیا (متی 26باب15 آیت)۔ " میرے دِلی دوست نے جس پرمجھے بھروسا تھا اورجو میری روٹی کھاتا تھا مجھ پر لات اُٹھائی ہے" (41 زبور 9 آیت بالموازنہ یوحنا 13 باب 18 آیت)۔ اِس دھوکے کی وجہ سے یسوع تلخ یا ناراض نہیں ہوا تھا نہ ہی وہ اِس کا انتقام لینا چاہتا تھا۔ بلکہ اُس کا رویہ اِس کے برعکس تھا۔ یہوداہ سے غداری کا بوسہ پانے کے بعد خُداوند یسوع نے یہوداہ کو "میاں /دوست" کے طور پر مخاطب کیا (متی 26باب50 آیت)۔

اِس سارے درد کے باوجود ایک طریقے سے ہم دھوکہ دہی پر قابو پا سکتے ہیں۔ اِس کے لیے قوت براہِ راست خُدا اور معافی کی طاقت سے آتی ہے۔

زبور 55 میں داؤد اپنے ٹوٹے ہوئے اعتماد پر افسوس کا اظہار کرنے کے بعد اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے اعتماد کے درد پر کیسے قابو پایا جائے۔ وہ کہتا ہے کہ "پر مَیں تو خُدا کو پکارُوں گااور خُداوند مجھے بچالے گا۔صُبح و شام اور دوپہر کو مَیں فریاد کرُوں گا اور کراہتا رہُوں گا اور وہ میری آواز سُن لے گا " (55 زبور 16-17 آیات)۔

اِس کی پہلی کلید خُدا کو پکارنا ہے۔ اگرچہ ہمارا دِل تو یہی چاہے گا کہ ہم دھوکہ دینے والے پر حملہ آور ہو جائیں لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا مسئلہ خُداوند کے پاس لیکر جائیں ۔"بدی کے عِوض بدی نہ کرو اور گالی کے بدلے گالی نہ دو بلکہ اِس کے برعکس برکت چاہو کیونکہ تم برکت کے وارِث ہونے کے لئے بُلائے گئے ہو " (1 پطرس 3باب9 آیت)۔

دھوکہ دہی کے درد پر قابو پانے کی ایک اور کلید خُداوند یسوع کی مثال کو یاد رکھنا ہے۔ ہماری گناہ آلود فطرت ہمیں بُرائی کا بدلہ بُرائی سے" دینے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن خُداوند یسوع نے ہمیں اِس کے برعکس تعلیم دی ہے : "لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہُوں کہ شریر کا مُقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔۔۔ لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو " (متی 5باب39، 44 آیات)۔خُداوند یسوع کے حوالے سے پطرس بیان کرتا ہے کہ "نہ وہ گالِیاں کھا کر گالی دیتا تھا اور نہ دُکھ پا کر کسی کو دھمکاتا تھا " (1 پطرس 2باب23 آیت)۔ ہمیں بد سلوکی کے بدلے میں بدسلوکی نہ کر کے یسوع مسیح کی مثال کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے، اور کسی بھی طرح کی بد سلوکی میں دھوکہ دہی کا بھی شمار کر لیں۔ ایمانداروں کو تو اُن لوگوں کے ساتھ بھی بھلائی کرنی چاہیے جو اُنہیں نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ] براہِ کرم نوٹ کر لیں کہ اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بد سلوکی اور کاروباری خلاف ورزیوں وغیر کے معاملات میں مناسب فوجداری انصاف کی تلاش نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم اِس طرح کے انصاف کے حصول کو انتقام کی خواہش کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔[

دھوکہ دہی کی تلخیوں پر قابو پانے میں ایک اور طاقتور کلید دھوکہ دینے والے کو معاف کرنے کے لیےہمیں خُدا کی طرف سے دی گئی صلاحیت ہے۔ انگریزی زبان میں معافی کے لیے استعمال ہونے والے لفظ Forgive کے اندر give بمعنی دینا بھی شامل ہے ۔ جب ہم کسی کو معاف کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم اصل میں اُس شخص کو ایک تحفہ دیتےہیں، یعنی ذاتی انتقام سے آزادی کا تحفہ۔ اور ایسا کرنے کی بدولت ہم اپنے آپ کو بھی ایک تحفہ دے سکتے ہیں –یعنی "بغض سے پاک زندگی" کا تحفہ۔ اپنے غصے، تلخی اور انتقام کےجذبے کو دے کر خُدا سے اُس کی محبت کو حاصل کرنا ایک زندگی بخش تبادلہ ہے۔

خُداوند یسوع نے سکھایا ہے کہ "اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت کر" اور اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پیار کرنے میں پہل کرنے کی ضرورت ہے : "لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو "(متی 5باب44 آیت)۔ بلا شک و شبہ کسی بھی ایسے شخص کو معاف کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے جس نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو معاف کرنا صرف خُدا کی مدد کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے (لوقا 18باب27 آیت)۔

وہ لوگ جنہوں نے خُدا کی محبت کا تجربہ کیا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ غیر مستحق ہوتے ہوئے غیر مشروط محبت پانے کا کیا مطلب ہے۔ صرف خُدا کے رُوح کی مدد سے ہم اُن لوگوں سے محبت اور اُن کے لیے دُعا کر سکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں (رومیوں 12باب14-21 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں دھوکے کے درد پر کس طرح قابو پا سکتا ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries