settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل صرف ایماندار/ایمان کا اقرار کرنے والے کو بپتسمہ دینے کے بارے میں ہی تعلیم دیتی ہے ؟

جواب


بپتسمہ مسیحی حلقوں میں بہت سالوں سے موضوعِ بحث بنا چلا آ رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابتدائی کلیسیا میں بھی اِس کے حوالے سے مسئلہ پایا جاتا تھا۔ پولس 1 کرنتھیوں 1باب12-16آیات کے اندر اِس معاملے کے بارے میں بات کرتا ہے۔ کرنتھس کے رہنے والے اِس بات پر فخر کررہے تھے کہ اُنہیں کون سے رسول نے بپتسمہ دیا ہے، اور وہ آپس میں اِس بات پر بحث کر رہے تھے کہ اُن میں سے کس کا بپتسمہ بہتر ہے۔ پولس نے اُن کی فرقہ بندی کی وجہ سے اُنہیں سرزنش کی اور اپنی بات کا اختتام اِن الفاظ کے ساتھ کیا" مسیح نے مجھے بپتسمہ دینے کو نہیں بھیجا بلکہ خُوشخبری سُنانے کو" اِس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہےکہ خوشخبری کو قبول کرنے اور بپتسمہ لینے کے عمل میں واضح فرق ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں لیکن اپنی اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔

کلامِ مُقدس کے ایک بڑے حصے کے مطا بق پانی کا بپتسمہ لینا یسوع کی پیروی کرنے کے عمل میں ایک اہم قدم ہے۔ یسوع کو بپتسمہ دیا گیا (متی 3 باب16آیت؛ لوقا 3باب21آیت) اور جتنے اُس کے نام کا اقرار کرتے ہیں اُنہیں اُس نے بتایا کہ وہ اپنے دِلوں کی تبدیلی کی گواہی کے طور پر اُس کی پیروی کریں (اعمال 8باب16آیت؛ 19باب5آیت)۔ ایک ایماندار کا بپتسمہ دراصل ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سے وہ ایماندار بپتسمہ لینے کا انتخاب کرتا ہے تاکہ وہ مسیح پر اپنے ایمان کی گواہی دے سکے۔ ایماندار کے بپتسمے کے لیے" Credobaptism" کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے جو ایک لاطینی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ "creed" یعنی عقیدہ ہے، جو اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بپتسمہ کسی بھی شخص کی طرف سے کسی خاص عقیدے کو قبول کرنے کی علامت ہے۔

ایماندار کے بپتسمے کے بارے میں واضح طور پر اعمال 2باب میں تعلیم دی گئی ہے۔ اِس باب میں پطرس یروشلیم کے اندر پنتیکست کے دن انجیل کے پیغام کی منادی کر رہا تھا۔ رُوح القدس کی قوت میں پطرس نے بڑی دلیری کے ساتھ یسوع مسیح کی موت اور جی اُٹھنے کا اعلان کیا اور وہاں پر موجود ہجوم کو یہ حکم دیا کہ وہ توبہ کرے اور یسوع مسیح پر ایمان لائے (اعمال 2باب36-38آیات)۔ پطرس کی طرف سے انجیل کی اُس منادی کے جواب کو41 آیت کے اندر بیان کیاگیا ہے: "پس جن لوگوں نے اُس کا کلام قبول کِیا اُنہوں نے بپتسمہ لِیا ۔" یہاں پر واقعات کی ترتیب کا اندازہ لگائیں، اُنہوں نے اُس پیغام (یسوع کی انجیل ) کو قبول کیا اور پھراُنہوں نے بپتسمہ لیا۔ صرف اُنہی لوگوں نے بپتسمہ لیا جو اُس پر ایمان لائے تھے۔ ہم اعمال 16باب میں فلپی قیدخانے کے دروغہ اور اُس کے گھر والوں کے نجات پانے کے وقت پر بھی بالکل ایسی ہی ترتیب دیکھتے ہیں ۔ وہ ایمان لائے اور پھر اُنہوں نے بپتسمہ پایا (اعمال 16باب29-34آیات)۔ رسولوں کی طرف سے ایمان لانے والوں کو بپتسمہ دیا جاتا تھا غیر ایمانداروں کو نہیں۔

ایماندار کا بپتسمہ ایک نوزائیدہ بچّے کے بپتسمے سے اِس طرح مختلف ہے کہ بچّے کے بپتسمے کے دوران اُس بچّے کو جو انجیل کے پیغام کو بالکل بھی نہیں سمجھتا ایک "ایماندار" نہیں کہا جا سکتا۔ ایماندار کے بپتسمے کے عمل میں ایک شخص انجیل کے پیغام کو سُنتا ہے، مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا ہے اور پھر بپتسمہ لینے کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ اُس کا اپنا انتخاب ہے۔ بچّے کے بپتسمے کے دوران یہ انتخاب بپتسمہ لینے والے بچّے کی طرف سے نہیں بلکہ کسی اور شخص کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو بچّوں کو بپتسمہ دیتے ہیں وہ اکثر یہ سکھاتے ہیں کہ پانی کا بپتسمہ کسی شخص کی زندگی میں رُوح القدس کے آنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ اپنے اِس بیان کی بنیاد خصوصی طور پر اعمال 2باب38آیت کے اندر پطرس کے بیان پر رکھتے ہیں جو کہتا ہے کہ " تَوبہ کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنے گُناہوں کی معافی کے لئے یسو ع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو تُم رُوحُ القدس اِنعام میں پاؤ گے۔ " وہ سب لوگ جو بچّوں کے بپتسمے کے عقیدے کو مانتے ہیں وہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ بپتسمے کا عمل اُس بچّے کو مخصوص کرتا ہے اور اُس کی نجات کو یقینی بناتا ہے۔ کلامِ مُقدس میں کہیں پر بھی بچّوں کے بپتسمے کو عمل میں نہیں لایا تھا۔ کچھ لوگ رسولوں کی طرف سے پورے کے پورے گھرانے کو بپتسمہ دینے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں (اعمال 11باب14آیت؛ 16باب15، 33 آیات) جس میں وہ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پورے گھرانے کے اندر شیر خوار بچّے بھی ہوتے ہیں، لیکن ایسا کچھ بھی کہنے یا فرض کرنے والے کلام کے بیان سے تجاوز کر جاتے ہیں۔

نئے عہد نامے کے اندر پانی کے ساتھ بپتسمہ لینا نجات بخش ایمان اور یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کا فطری نتیجہ تھا (اعمال 2باب42آیت؛ 8باب35-37آیات)۔ اب جبکہ شِیر خوار اور دیگر چھوٹے بچّے یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کا باضابطہ اقرار نہیں کر سکتے اِس لیے اُن کے بپتسمے کی کوئی رُوحانی اہمیت نہیں ہے۔ اگر چھوٹے بچّوں کا بپتسمہ اُنہیں راستباز اور نجات یافتہ ٹھہراتا ہے تو پھر وہی بچّے "نجات " پائیں گے جن کے والدین چاہیں گے۔ اور جن کے والدین ایماندار نہیں ہونگے وہ تو بچپن میں ہی غیر نجات یافتہ ہونے کی وجہ سے رَد کر دئیے جائیں گے، اور یہ ایک ایسا تصور ہے جس کی کوئی بائبلی بنیاد نہیں ہے۔ کلامِ مُقدس اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ خُدا ہر کسی انسان کے دِل کو جانچتا ہے، اور اُس شخص کے فیصلوں کی بنیاد پر اُس کی عدالت کرتا ہے یا پھر اُسے اجر دیتا ہےنہ کہ اُس شخص کے والدین کے کسی فیصلے کی بنیاد پر (رومیوں 2باب5-6آیات؛ یرمیاہ 17باب10آیت؛ متی 16باب27آیت؛ 2 کرنتھیوں 5باب10آیت)۔

دیگر کئی ایسے ہیں جو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ بپتسمہ نجات کے لیے ایک ضروری تقاضا ہے اور یہ توبہ کرنے اور یسوع مسیح پر اپنے شخصی ایمان کا اظہار کرنے کےبرابر عمل ہے (رومیوں 10باب 8-9آیات) جبکہ بائبلی مثالیں ہمیں دکھاتی ہیں کہ بپتسمہ ہمیشہ ہی لوگوں کی زندگی کی تبدیلی کے عمل کے بعد لیا گیا، یسوع نے کسی بھی جگہ پر یہ تعلیم نہیں دی کہ بپتسمہ لوگوں کو بچائے گا۔ آخری کھانے کے موقع پر اُس نے کہا کہ " کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خُون ہے جو بہتیروں کے لئے گُناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے " (متی 26باب28آیت)۔ ایک گناہگار کو خُدا کی حضوری میں راستباز قرار دینے کا واحد تقاضا یسوع مسیح کے بہائے گئے خون کے وسیلے گناہوں کی معافی پر ایمان لانا ہے۔ رومیوں 5باب8-9آیات بیان کرتی ہیں کہ " لیکن خُدا اپنی محبّت کی خوبی ہم پر یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مُؤا۔پس جب ہم اُس کے خُون کے باعث اب راست باز ٹھہرے تو اُس کے وسیلہ سے غضبِ اِلٰہی سے ضرور ہی بچیں گے۔ "

اگر ابدی زندگی میں داخل ہونے کے لیے بپتسمہ لینا بہت ہی لازمی تھا تو پھر یسوع صلیب پر لٹکے ہوئے اُس ڈاکو کو یہ کہنے میں بالکل غلط تھا کہ "آج ہی تُو میرے ساتھ فردَوس میں ہو گا " (لوقا 23باب43آیت)۔ اُس ڈاکو کے پاس خُدا کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے بپتسمہ لینے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ وہ اِس لیے راستباز قرار دیا گیا کیونکہ وہ اُس سب پر ایمان لایا تھا جو خُدا کا بیٹا اُس کی جگہ پر کر رہا تھا (یوحنا 3باب16آیت؛ رومیوں 5باب1آیت؛ گلتیوں 5باب4آیت)۔ گلتیوں 2 باب16 آیت اِس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہماری طرف سے کیا گیا کوئی بھی عمل بشمول بپتسمہ ہماری جگہ پر یسوع کی طرف سے صلیب پر کئے گئے کام میں نہ تو کچھ شامل کر سکتا ہے اور نہ ہی اُس میں سے کچھ نکال سکتا ہے: " تَو بھی یہ جان کر کہ آدمی شرِیعت کے اَعمال سے نہیں بلکہ صرف یسو ع مسیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے خود بھی مسیح یِسُو ع پر اِیمان لائے تاکہ ہم مسیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہریں نہ کہ شرِیعت کے اَعمال سے۔ کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا۔ "

یسوع کی پیروی کرنے کے لیے پانی کا بپتسمہ لینا تابعداری کابہت ہی اہم لیکن پہلا قدم ہے۔ ایمانداروں کو بپتسمہ لینا چاہیے۔ لیکن بپتسمہ نجات کو ممکن بنانے والاعمل نہیں بلکہ نجات کا نتیجہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل صرف ایماندار/ایمان کا اقرار کرنے والے کو بپتسمہ دینے کے بارے میں ہی تعلیم دیتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries