میں مسیحی کیسے بن سکتا ہوں؟



سوال: میں مسیحی کیسے بن سکتا ہوں؟

جواب:
مسیحی بننے کے لیے پہلا قدم یہ سمجھنا ہے کہ ’’مسیحی‘‘ اصطلاح کا کیا مطلب ہے۔ ’’مسیحی‘‘ اصطلاح کا آغاز پہلی صدی عیسوی میں انطاکیہ کے شہر میں ہوا (دیکھیں اعمال ۲۶:۱۱)۔ ممکن ہے کہ پہلے پہل ’’مسیحی‘‘ اصطلاح کو ہتک آمیز نظر سے دیکھاجاتا ہو۔ بنیادی طور پر اِس لفظ کے معنی ’’چھوٹا مسیح‘‘ کے ہیں۔ تاہم صدیوں سے مسیح میں ایمانداروں نے اِس اصطلاح کو اپنایا ہے ، اور مسیح کے پیروکاروں کے طور پر اپنی شناخت کروانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لفظ مسیحی کی ایک سادہ تعریف یہ ہے "ایسا شخص جو یسوع مسیح کی پیروی کرے"

مجھے مسیحی کیوں بننا چاہیے؟

یسوع مسیح نے اعلان کیا کہ ’’وہ اِس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے‘‘ (مرقس ۴۵:۱۰)۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں فدیہ کی کیا ضرورت تھی؟ فدیہ کا تصور یہ ہے کہ ایسی ادائیگی جو کسی فرد کی رہائی کے بدلے ضرور ادا کی جائے۔ فدیہ کا تصور اکثر اغوا ہونے کے واقعات میں استعمال کیا جاتا ہے ، جب کسی شخص کو اغوا کیا جاتا ہے تو وہ شخص اُس وقت تک قیدی کی حثییت رکھتا ہے جب تک اُس شخص کی رہائی کے لیے فدیہ (تاوان) ادا نہ کیا جائے۔

یسوع نے ہمیں غلامی سے آزاد کرنے کے لیے ہمارا فدیہ ادا کیا! کونسی غلامی سے؟ گناہ اور اُس کے نتائج کی غلامی سے، خُدا سے ابدی جُدائی کے بعد جسمانی موت کی غلامی سے۔ یسوع کو فدیہ ادا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیونکہ ہم سب گُناہ سے مُتاثر ہوئے ہیں (رومیوں۲۳:۳) اور اِسی لیے خُدا کی عدالت کے حق دار ہیں (رومیوں۲۳:۶)، یسوع نے ہمارا فدیہ کیسے دیا؟ ہمارے گُناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے صلیب پر مر کر (۱۔کرنتھیوں۳:۱۵؛۲۔کرنتھیوں۲۱:۵)۔ یسوع کی موت ہمارے گُناہوں کی قیمت کیسے ادا کر سکتی ہے؟ یسوع انسانی جسم میں خُدا تھا، خُدا خُود ہم میں سے ایک بننے کے لیے زمین پر آیا تاکہ وہ ہمارے مشابہہ ہو کر ہمارے گُناہوں کی خاطر جان دے سکے (یوحنا۱:۱؛۱۴:۱)۔ خُدا کے طور پر یسوع کی موت کی قیمت بے انتہا، تمام دُنیا کے گُناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے کافی تھی (۱۔یوحنا۲:۲)۔ یسوع کی موت کے بعد اُسکا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ثابت کرتا ہے کہ اُسکی موت کامِل قُربانی تھی۔ اُس نے حقیقی طور پر گُناہ اور موت پر فتح پائی ہے۔

میں مسیحی کیسے بن سکتا ہوں؟

یہ سب سے اچھا حصہ ہے۔ خُدا نے اپنی محبت کی وجہ سے ہمارے لیے مسیحی بننا بہت آسان بنا دیا ہے۔ آپ کو صرف یسوع کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا، اور مکمل طور پر اُس کی موت کو ایسی قُربانی کے طور پر قبول کرنا ہے جو کافی ہے (یوحنا۱۶:۳)۔ اپنے نجات دہندہ کے طور پر مکمل طور پر صرف اُسی پر بھروسا کرنا ہے (یوحنا۶:۱۴؛اعمال۱۲:۴) مسیحی بننا صرف رسومات پر عمل کرنا، چرچ جانا، کچھ چیزوں کو کرنا، کچھ سے بازرہنا ہی نہیں ہے۔ مسیحی بننے سے مُراد یسوع مسیح کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا ہے۔ ایمان کے وسیلہ سے یسوع مسیح کے ساتھ ذاتی رشتہ قائم کرنا ہی ایک شخص کو مسیحی بناتا ہے۔

کیا آپ مسیحی بننے کے لیے تیار ہیں؟

اگر آپ یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کر کے مسیحی بننے کے لیے تیار ہیں تو آپ کو صرف ایمان لانا ہے۔ کیا آپ سمجھتے اور ایمان لاتے ہیں کہ آپ نے گُناہ کیا ہے اور خُدا کی عدالت کے مستحق ہیں؟ کیا آپ سمجھتے اور ایمان لاتے ہیں کہ یسوع نے آپ کی سزا کو اپنے اُوپر لے لیا، اور آپ کی جگہ مر گئے؟ کیا آپ سمجھتے اور ایمان لاتے ہیں اُس کی موت آپ کے تمام گُناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے ایسی قُربانی ہے جو کافی ہے؟ اگر آپ کے اِن تینوں سوالات کے جوابات ہاں ہیں، تو سادگی کے ساتھ اپنا بھروسا یسوع پر رکھیں کہ وہ آپ کا نجات دہندہ ہے۔ ایمان کے ساتھ اُسے قبول کریں، اور مکمل طور پر صرف اُسی پر توکّل کریں۔ یہی سب کرنے سے مسیحی بنتے ہیں۔

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں مسیحی کیسے بن سکتا ہوں؟