کیا مرقس 16 باب 16آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے بپتسمہ ضروری ہے؟


سوال: کیا مرقس 16 باب 16آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے بپتسمہ ضروری ہے؟

جواب:
جب ہمارے سامنے کوئی ایک آیت یا ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے تو یہ جاننے کے لیے کہ یہ آیت یا حوالہ کیا تعلیم دیتا ہے ہم اِس کے پیغام کو بائبل مُقدس کے مجموعی پیغام کی روشنی میں پرکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جس موضوع کے بارے میں وہ آیت یا حوالہ بات کر رہا ہے اُس کے بارے میں ساری بائبل کیا تعلیم دیتی ہے۔ بپتسمے اور نجات کے تعلق سے بائبل بالکل واضح ہے کہ ہمیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملتی ہے اور یہ کسی طرح کے اعمال(بشمول بپتسمہ) کے سبب سے نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے (افسیوں 2 باب 8-9آیات)۔ پس کوئی بھی ایسی تفسیر جو یہ بیان کرتی ہو کہ بپتسمہ یا کوئی بھی اور کام (عمل)نجات کے لیے ضروری یا لازمی ہے تو وہ تفسیر غلط ہے۔ مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی ہماری ویب سائٹ پر اِس مضمون کا مطالعہ کیجئے "کیا نجات صرف ایمان کے وسیلے سے ہے یا پھر ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں؟"

مرقس 16باب 16آیت کے بارےمیں اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ مرقس 16باب 9-20آیات کے متن کے بارے میں کچھ مسائل ہیں ۔ اس کے بارے میں کچھ سوالات پائے جاتے ہیں جیسے کہ آیا یہ آیات مرقس کی انجیل کا اصل متن ہیں یا کاتب نے اِن کو بعد میں شامل کیا تھا ۔ اس سب کی روشنی میں زیا دہ بہتر یہی ہے کہ اپنے کلیدی عقیدے کی بنیاد مرقس 16باب 9-20 آیات کی کسی بھی ایسی بات( جیسا کہ سانپوں کو اُٹھانا وغیر ہ)پر نہ رکھی جائے جب تک اُسے بائبل مقدس کے دوسرے حوالہ جات کی حمایت حاصل نہیں ہوتی ۔

اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ 16آیت مرقس کی انجیل کا اصل متن ہے تو کیا یہ آیت سکھاتی ہے کہ نجات کےلیے بپتسمہ لینا ضروری ہے ؟اس کا مختصر جواب ہے "نہیں "۔ یہ سکھانے کےلیے کہ نجات کے لیے بپتسمہ ضروری ہے ایک شخص کو اُس بات سے بھی آگے تک جانا ہو گا جو اصل میں یہ آیت بیان کرتی ہے ۔جو کچھ یہ آیت سکھاتی ہے وہ یہ ہے کہ نجات کےلیے ایمان لانا ضروری ہے اور یہ بات بائبل کی اُن بے شمار آیا ت کے مطابق ہے جہاں صرف ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے ( مثلا ً یوحنا 3باب 18آیت ؛ یوحنا 5باب 24آیت؛ یوحنا 12باب 44آیت ؛ یوحنا 20باب 31آیت؛ 1یوحنا 5باب 13آیت)۔

"جو اِیمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا اور جو اِیمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائے گا" ( مرقس 16باب 16آیت)۔ یہ آیت دو بنیاد ی بیانا ت پر مشتمل ہے (1) جو شخص ایمان لائے اور بپتسمہ لے نجات پائے گا ۔(2) جو ایمان نہیں لاتا مجرم ٹھہرایا جائےگا ۔

گوکہ یہ آیت ہمیں بپتسمہ لیے ہوئے ( نجات یافتہ ) ایمانداروں کے بارے میں کچھ بتاتی ہے مگر یہ اُن ایمانداروں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی جنہوں نے بپتسمہ نہیں لیا ۔ اس آیت کو یہ تعلیم دینے کےلیے کہ بپتسمہ نجات کےلیے ضروری ہے ایک تیسرا بیان پیش کرنے کی بھی ضرورت ہو گی جیسے کہ " وہ جو ایمان لاتا ہے اور بپتسمہ نہیں لیتا مجرم ٹھہرایا جائے گا " یا " جو بپتسمہ نہیں لیتا مجرم ٹھہرایا جائے گا "۔ مگر عام طور پر اس آیت میں ایسا کوئی بیان نہیں پایا جاتا ۔

وہ لوگ جو مرقس 16باب 16آیت کو یہ تعلیم دینے کےلیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بپتسمہ نجات کےلیے ضروری ہے ایک عام لیکن سنگین غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں جسے بعض اوقات منفی تخمینی مغالطہِ استدلال بھی کہا جاتا ہے ۔ اس استدلال پر عمل پیرا ہونے کا طریقہ کارکچھ یوں ہے کہ : "اگر کوئی بیان سچاہے تو ہم یہ فرض نہیں کر سکتے ہیں کہ اس بیان کے تمام تر منفی ( یا متضاد ) بیانات بھی درست ہیں۔ " مثال کے طور پر یہ بیان کہ "بھورے دھبوں والا کتا ایک جانور ہے " درست ہے ؛ تاہم اس کا منفی بیان کہ " اگر کسی کتے کے بھورے دھبے نہیں ہیں تو وہ جانور نہیں ہے " غلط ہے ۔ اسی طرح " وہ جو ایمان لاتا ہے اور بپتسمہ لیتا ہے نجات پائے گا " درست ہے ؛ تاہم یہ بیان کہ " جو ایمان لاتا ہے مگر بپتسمہ نہیں لیتا نجات نہیں پائے گا " یہ بے بنیاد مفروضہ ہے ۔ مگر بپتسمے کے وسیلہ سے سے نئی پیدایش کی حمایت کرنے والے لوگوں کی طرف سے بالکل یہی مفروضہ پیش کیا جاتا ہے ۔

اس مثال پر غور کریں : " جو ایمان لاتا ہے اور کینساس میں رہتا ہے نجات پائے گا مگر جو ایمان نہیں لاتا مجرم ٹھہرایا جائےگا "۔ یہ بیان پوری طرح درست ہے ؛کینساس کے باشندوں میں جو بھی مسیح پر ایمان لائےگا نجات پائے گا ۔ تاہم یہ کہنا کہ صرف وہی ایماندار جو کینساس میں رہتے ہیں نجات پائیں گے ایک غیر منطقی اور غلط مفروضہ ہے ۔ اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ فردوس میں جانے کے لیے کسی ایماندار کا کینساس میں رہنا ضروری ہے ۔ بالکل ایسے ہی مرقس 16باب 16آیت یہ نہیں بیان کرتی کہ ایماندار کو بپتسمہ لینا ضروری ہے ۔ آیت میں بپتسمہ یافتہ ایمانداروں کے بارے میں تو ایک حقیقت بیان کی گئی ہے ( وہ نجات پائیں گے ) لیکن اس آیت میں غیر بپتسمہ یافتہ ایمانداروں کے بارے میں قطعاً کچھ نہیں کہا گیا ۔ ہو سکتا ہے وہ ایماندار جو کینساس میں نہیں رہتے وہ بھی نجات یافتہ ہوں ؛ اور ایسے ایماندار بھی ہو سکتے ہیں جو بپتسمہ کے بغیر بھی نجات یافتہ ہوں ۔

نجات کےلیے ایک خاص شرط جس کا تقاضا کیا گیا ہے وہ مرقس 16باب 16آیت کے دوسرے حصہ میں بیان کی گئی ہے : " جو اِیمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائے گا ۔" خلاصہ یہ ہے کہ یسوع نے ایمان لانے کی مثبت شرط ( جو ایمان لائے گا نجات پائے گا ) اور ایمان نہ لانے کی منفی شرط ( جو ایمان نہ لائے مجرم ٹھہرایا جائے گا) دونوں بیان کی ہیں ۔ لہذا ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نجات کے لیے ا صل تقاضا ایمان لانا ہی ہے ۔ اس سے بڑھ کر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس شرط کو تمام کلام ِ مقدس میں منفی اور مثبت دونوں انداز میں دُہرایا گیا ہے ( یوحنا 3باب 16آیت؛ یوحنا 3باب 18آیت؛ یوحنا 3باب 36آیت ؛ یوحنا 5باب 24آیت؛ یوحنا 6باب 53-54آیات؛ یوحنا 8باب 24آیت؛ اعمال 16باب 31آیت)۔

یسوع مرقس 16باب 16آیت میں نجات کے تعلق سے ایک منسلک تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ لیکن ہمیں اصل شرط اور منسلک تقاضے کے درمیان واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اِن دونوں کا آپس میں الجھانا نہیں چاہیے۔ مثا ل کےطور پر بخار کا تعلق بیمار ہونے سے ہے لیکن بیماری کی موجودگی کےلیے بخارکا ہونا لازمی نہیں ہے ۔ بائبل میں ہمیں کہیں بھی ایسا بیان نہیں ملتا ہے کہ " جس نے بپتسمہ نہیں لیا وہ مجرم ٹھہرایا جائےگا "۔ لہذا ہم مرقس 16باب 16آیت یا کسی اور آیت کی بنیاد پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ بپتسمہ نجات کےلیے ضروری ہے

کیا مرقس 16باب 16آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات کے لیے ضروری ہے ؟ نہیں ، یہ آیت ایسی تعلیم نہیں دیتی۔ یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ نجات کےلیے ایمان لانا ضروری ہے مگر یہ آیت نجات کے لیے بپتسمے کے لازمی مطالبے کے تصور کو صحیح یا غلط ثابت نہیں کرتی ۔ پھر ہم کیسے جا ن سکتے ہیں کہ نجات کےلیے کسی شخص کو بپتسمہ لینا ضروری ہے ۔ اس کےلیے ہمیں کلام ِ خدا کی تعلیم پر غور و خوص کرنا چاہیے ۔ ان شواہد کا خلاصہ درج ذیل ہے :

‌أ. بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ ہم نے صرف اور صرف ایمان کے وسیلہ سے نجات پائی ہے ۔ ابرہام ایمان کے وسیلہ سے بچایا گیا تھا اور ہم بھی ایمان کے وسیلہ سے نجات پاتے ہیں ( رومیوں 4باب 1-25آیات؛ گلتیوں3 باب 6-22آیات)۔

‌ب. بائبل کے شروع سے آخر تک ہر حصے میں لوگوں کو بپتسمہ کے بغیر ہی نجات دی گئی ہے ۔ پرانے عہد نامے کے ہر ایماندار ( جیسا کہ ابرہام ، یعقوب ، داؤد ، سلیمان ) کو نجات تو دی گئی تھی مگر بپتسمہ نہیں ۔ صلیب پر موجود چور کوفردوس کی خوشخبر ی تو دی گئی مگر اُس نے بپتسمہ نہیں لیا تھا ۔ کر نیلیس کو بپتسمہ لینے سے پہلے ہی نجات ملی گئی تھی ( اعمال 10باب 44-46آیات)۔

‌ج. بپتسمہ ہمارے ایمان کی گواہی اور کھلے عام یہ اعلان کرنے کا اظہار ہے کہ ہم مسیح یسوع پر ایمان رکھتے ہیں ۔ کلام مقدس ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم ایمان لاتے ہیں اُسی وقت ہمیں ابدی زندگی مل جاتی ہے ( یوحنا 5باب 24آیت) اور ایمان لانا ہمیشہ بپتسمہ لینے سے پہلے ہو تا ہے ۔ بپتسمہ ہمیں اُسی طرح نجات نہیں دے سکتا جیسے گرجا گھر کے بغلی راستے سے گزرنا یا محض دُعا کرنا ہمیں نجات نہیں دے سکتا ہے ۔

‌د. بائبل کبھی نہیں کہتی کہ اگر کوئی شخص بپتسمہ نہیں لیتا تو وہ نجات نہیں پائے گا ۔

‌ه. اگر نجات کےلیے بپتسمہ لینا ضروری تھا تو پھر کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی موجود گی کے بغیر نجات نہیں پا سکتا تھا ۔ ایک شخص کو بپتسمہ دینے کےلیے کسی اور شخص کا موجودہونا ضروری ہے تاکہ وہ نجات پا سکے ۔ یہ بات مؤثر طور پراِس چیز کو محدود کرتی ہے کہ کون نجات پا سکتا ہے اور کب نجات پا سکتا ہے ۔ اس عقید ے کے اثرات کو جب منطقی نتائج تک پہنچایا جاتا ہے تو یہ بڑے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک سپاہی جو ِ ایمان تو رکھتا ہے مگر بپتسمہ لیے بغیر ہی میدان جنگ میں مارا جاتا ہے تو جہنم میں جائےگا ۔

‌و. تمام بائبل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایماندار عین ایمان لانے کے موقع پر ہی نجات کے تمام وعدوں اور برکات کا مالک بن جاتا ہے ( یوحنا 1باب 12آیت ؛ 3باب 16آیت؛ 5باب 24آیت؛ 6باب 47آیت؛ 20باب 31آیت؛ اعمال 10باب 43آیت؛ 13باب 39آیت؛ 16باب 31آیت)۔ اس سب سے پہلے کہ وہ بپتسمہ لے جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اُسی وقت اُسے ہمیشہ کی زندگی مل جاتی ہے ، اُسے عدالت کا سامنا نہیں ہوتا اور وہ موت سے نکل کر زندگی میں آجا تا ہے ( یوحنا 5باب 24آیت)۔

اگر آپ بپتسمہ کے وسیلہ سے نئی پیدایش کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کو دُعا کرنے کے ساتھ اس بات کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا کہ آپ حقیقتاًکس پر اور کیا ایمان رکھے ہوئے ہیں۔ کیا آپ جسمانی عمل ( بپتسمہ ) یا مسیح کے اُس کامل کفارے پر ایمان رکھتے ہیں جو اُس نے صلیب پر دیا ہے ؟ آپ نجات کے لیےکس پر یا کیا ایمان رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے ایمان کا مرکز یہ سایہ ( بپتسمہ ) ہے یا ٹھوس حقیقت ( مسیح یسوع ) ہے ؟ ہمارا ایمان صرف اور صرف یسوع مسیح پر ہونا چاہیے "ہم کو اُس میں اُس کے خون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی قصوروں کی معافی اُس کے اُس فضل کی دولت کے موافق حاصل ہے" ( افسیوں 1باب 17آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا مرقس 16 باب 16آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے بپتسمہ ضروری ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں