settings icon
share icon
سوال

کیا برگشتہ ہو جانے والا مسیحی بھی نجات یافتہ ہوتا ہے؟ایک سچا مسیحی کس حد تک برگشتہ ہو سکتا ہے؟

جواب


یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر کئی سالوں یا دہائی سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ لفظ برگشتہ یا برگشتگی کا ذکر نئے عہد نامے میں ایمانداروں کے تعلق سے نہیں کیا گیا، ہاں اگرچہ اِس کا ذکر پرانے عہد نامے میں خصوصی طور پر بنی اسرائیل کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ یہودی اگرچہ خُدا کے چنے ہوئے لوگ تھے پھر بھی بہت دفعہ وہ خُدا سے اپنا منہ موڑ لیتے تھے اور اُس کے کلام کے خلاف بغاوت کرتے تھے (یرمیاہ 8 باب 9آیت)۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ خُدا کو ناراض کر لیتے تھے تو پھر اُنہیں اُس کے ساتھ اپنے تعلق کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے بار بار مختلف قسم کی قربانیاں گزراننی پڑتی تھیں۔ مسیحیوں کو بہرحال یہودیوں کے برعکس خُداوند یسوع مسیح کی ایک ہی بار گزرانی گئی قربانی کا فائدہ ہے اور اُنہیں اپنے گناہوں کے لیے بار بار قربانیاں گزراننے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خُدا نے خود ہمارے لیے ہماری نجات کا انتظام کیا ہے (2 کرنتھیوں 5 باب 21آیت) اور چونکہ ہمیں اُس کی طرف سے نجات عطا کی گئی ہے، پس ایک حقیقی مسیحی کبھی اپنے ایمان سے اِس حد تک برگشتہ نہیں ہو سکتا کہ وہ واپس نہ آ سکے۔

مسیحی گناہ کرتے ہیں (1 یوحنا 1 باب 8آیت)، لیکن مسیحی زندگی کی شناخت ایک گناہ آلود زندگی کے طور پر نہیں کی جا سکتی۔ ایماندار ایک نیا مخلوق ہیں (2 کرنتھیوں 5 باب 17آیت)۔ رُوح القدس ہمارے اندر بسا ہوا ہے جو ہماری زندگیوں میں نیک پھل پیدا کرتا ہے (گلتیوں 5 باب 22-23آیات)۔ ایک مسیحی زندگی مکمل طور پر تبدیل شدہ زندگی ہونی چاہیے۔ ایک حقیقی مسیحی نے جتنے بھی گناہ کئے ہوں یسوع مسیح کے وسیلے خُدا کے فضل سے اُنہیں اُن کی معافی عطا کر دی گئی ہے، لیکن ایمان لانے کے بعد ایک مسیحی کو ایسی زندگی گزارنی چاہیے کہ جیسے جیسے وہ مسیح کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے ، ویسے ویسے اُس کی زندگی میں بھی پاکیزگی کے حوالے سے ترقی ہوتی رہنی چاہیے۔ کوئی بھی ایسا شخص جو ایماندار ہونے کا دعویدار ہو لیکن اُس کی زندگی اُس کے ایمان کے برعکس کہانی بیان کر رہی ہو، ہمیں اُس شخص کے ایماندار ہونے کے حوالے سے بڑے واضح اور سنجیدہ نوعیت کے شکوک و شبہات ہونے چاہییں۔ ہاں مگر ایک سچا مسیحی کسی طور پر گناہ میں گر جائے تو بھی وہ نجات یافتہ ہے، لیکن اِس کے ساتھ ہی یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی شخص جو ایسی زندگی گزارتا ہے جس پر ہر لحاظ سے گناہ کا راج ہو وہ قطعی طور پر سچا مسیحی یا ایماندار نہیں ہے۔

اُس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو مسیح کا انکار کر دیتا ہے؟ بائبل بیان کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص مسیح کا انکار کر دیتا ہے تو اُس کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی مسیح کو جانتا ہی نہیں تھا۔ 1 یوحنا 2 باب 19آیت بیان کرتی ہے کہ " وہ نکلے تو ہم ہی میں سے مگر ہم میں سے تھے نہیں ۔ اِس لئے کہ اگر ہم میں سے ہوتے تو ہمارے ساتھ رہتے لیکن نکل اِس لئے گئے کہ یہ ظاہر ہو کہ وہ سب ہم میں سے نہیں ہیں۔" ایک شخص جو مسیح کو رَد کر دیتا ہے اور مسیحی ایمان سے اپنا منہ موڑ لیتا ہے وہ اِس بات کا اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ اُس کا مسیح کے ساتھ کبھی تعلق تھا ہی نہیں۔ وہ سب لوگ جن کا تعلق مسیح کے ساتھ ہوتا ہے وہ مسیح کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن وہ جو اپنے ایمان کا انکار کر دیتے ہیں، وہ شروع ہی سے ایمان نہیں رکھتے تھے۔ 2 تیمتھیس 1 باب 11-13 آیات بیان کرتی ہیں کہ، " یہ بات سچ ہے کہ جب ہم اُس کے ساتھ مَر گئے تو اُس کے ساتھ جئیں گے بھی۔اگر ہم دُکھ سہیں گے تو اُس کے ساتھ بادشاہی بھی کریں گے۔ اگر ہم اُس کا اِنکار کریں گے تو وہ بھی ہمارا اِنکار کرے گا۔اگر ہم بے وفا ہو جائیں گے تَو بھی وہ وفادار رہے گا کیونکہ وہ آپ اپنا اِنکار نہیں کر سکتا۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا برگشتہ ہو جانے والا مسیحی بھی نجات یافتہ ہوتا ہے؟ایک سچا مسیحی کس حد تک برگشتہ ہو سکتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries