settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کے پاس ابلیس کو ڈانٹنے کا اختیار ہے ؟

جواب


‏‏کچھ مسیحی ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں نہ صرف شیطان کو ڈانٹنے کا اختیار حاصل ہے بلکہ اُنہیں بد ارواح کو مسلسل طورپر جھڑکنے جیسی سرگرمیوں اور کام میں ملوث ہونا چاہیے۔ اِس طرح کی سوچ یا عقیدے کی کوئی بائبلی بنیاد موجود نہیں ہے۔خُد اکی ذات کے برعکس شیطان ہمہ گیر یا ہر جگہ حاضرو ناظر نہیں ہے۔ وہ ایک وقت میں صرف ایک جگہ پر ہو سکتا ہے، اور اُس کی طرف سے ذاتی طور پر انفرادی مسیحیوں کو ہراساں کرنے کا امکان بہت کم ہے۔ یقیناً اس کے پاس بدرُوحوں کے لشکر ہیں جو اُس کی زبان جانتے ہیں اور ہر جگہ پر ایمان داروں کی گواہیوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں پر ایک خاص بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ جس طرح ہم بائبل کے اندر لوگوں کو بدرُوح گرفتہ دیکھتے ہیں اُس طرح مسیحی جن میں رُوح القدس بسا ہوا ہے بد رُوح گرفتگی کا شکار نہیں ہو سکتے۔

‏ مسیحی ہونے کے ناطے ہمیں برائی کی موجودگی کی حقیقت سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اپنے عقیدے پر قائم رہنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں تو ہمیں یہ احساس کرنا چاہیے کہ ہمارے دشمن محض انسانی خیالات نہیں بلکہ حقیقی قوتیں ہیں جو تاریکی کی طاقتوں سے آتی ہیں۔ بائبل میں بیان کیا گیا ہے کہ " کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت سے کُشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور اِختیار والوں اور اِس دُنیا کی تارِیکی کے حاکموں اور شرارت کی اُن رُوحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں "‏‏(افسیوں 6باب12)۔‏‏ ‏

‏ یہ بات واضح ہے کہ خُدا نے شیطان کو اِس دُنیا پر کم از کم اِس وقت بہت بڑے پیمانے پر طاقت اور اثر دیا ہے ، لیکن اُسکی یہ طاقت اور اثر ہمیشہ ہی خُدا کی حاکمیت کے ماتحت ہے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان اپنے شکار کی تلاش میں گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھر رہا ہے کہ کسے پھاڑ کھائے۔ (1پطرس 5 باب8آیت) شیطان کے پاس اُن لوگوں کے دلوں میں کام کرنے کی طاقت ہے جو خدا کی تابعداری سے انکار کرتے ہیں (‏‏افسیوں 2 باب2 آیت) ۔ہر وہ انسان جو خود مختار خدا کےتابع نہیں وہ شیطان کے قبضے میں ہوتا ہے(‏‏اعمال 26باب18آیت؛ 2 کرنتھیوں 4باب4آیت‏‏) ۔ نئے سرے سے پیدا ہونے والے مسیحی اب شیطان یا گناہ‏‏(رومیوں 6باب6-7آیات)‏‏کے غلام نہیں رہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اُن فتنوں /آزمائشوں سے محفوظ ہیں جو وہ ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ ‏

‏ بائبل مسیحیوں کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ شیطان کو ڈانٹیں بلکہ بائبل اُنہیں اُس کا مقابلہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ یعقوب 4باب7آیت بیان کرتی ہے کہ " پَس خُدا کے تابع ہو جاؤ اور اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔ "‏‏ ‏‏زکریا ہ 3باب 2 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان کو ڈانٹنے کا اصل اختیار صرف خُداوند کی اپنی ذات کے پاس ہی ہے۔ یہاں تک کہ مقرب فرشتے میکائیل نے بھی ابلیس کے ساتھ بحث و تکرار کرتے وقت لعن طعن کے ساتھ اُس پر نالش کرنے کی جرات نہ کی(یہوداہ 9آیت ) ۔ شیطان کو شکست دینے کے لیے ہر ایک مسیحی کو خُداوند یسوع مسیح کی طرف رجوع لانا چاہیے۔ اِس کی بجائے کہ ہم خود لڑ کر اُسے شکست دینے کی کوشش کریں ہمیں اپنی ساری توجہ یسوع مسیح کی پیروی کرنے پر لگانی چاہیے(عبرانیوں 12باب 2 آیت) اور اس بات پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ ہمارا خُداوند برائی کی قوتوں کو شکست دے گا۔

‏‏ کسی مسیحی کے لیے شیطان کو ڈانٹنا ضروری نہیں کیونکہ خدا نے ہمیں برائی کے خلاف کھڑے ہونے کے لئےاپنے سب ہتھیار عطا کئے ہیں (افسیوں 6باب10-18آیات) ‏‏ شیطان کے خلاف ہمارے پاس سب سے موثر ہتھیار ہمارا ایمان، حکمت اور خدا اور اُس کے کلام کے بارے میں علم ہے۔ جس وقت شیطان نے مسیح کو آزمایا تو مسیح نے ہر ایک آزمائش کا جواب کلامِ مُقدس میں سے دیا (متی 4باب1-11آیات)۔ رُوحانی معاملات میں فتح حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے ضمیر کو شفاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ " کیونکہ ہم اگرچہ جسم میں زِندگی گذارتے ہیں مگر جسم کے طور پر لڑتے نہیں۔اِس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں بلکہ خُدا کے نزدِیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اُونچی چیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخلاف سر اُٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں "‏‏(2 کرنتھیوں 10باب3-5آیات)۔‏

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کے پاس ابلیس کو ڈانٹنے کا اختیار ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries