settings icon
share icon
سوال

خُدا کی صفات کیا ہیں؟ خُدا کیسا ہے؟

جواب


بائبل مُقدس یعنی خُدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا کیسا ہے اور کیسا نہیں ہے۔ بائبل مُقدس کی تعلیمات کی روشنی کے بغیر خُدا کی ذات اور اوصاف کو بیان کرنے کی کوشش کسی ایسے خیال سے بہتر نہ ہوگی جو اپنے آپ میں اکثر غلط ہوتا ہے، بالخصوص خُدا کی ذات کو سمجھنے کے حوالے سے (ایوب 42باب7آیت)۔ یہ کہنا بھی ایک بہت بڑی غلط بیانی ہے کہ ہمارے لیے یہ بات خاص اہمیت کی حامل ہےکہ ہم خود یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خُدا کیسا ہے ۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں اور اس کوشش میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر یہ چیز اِس بات کی وجہ بن سکتی ہے کہ ہم بائبل کے پاک خُدا کی مرضی کے خلاف بہت سارے دیگر دیوتاؤں اور نام نہاد خُداؤں کے پیچھے بھاگتے پھریں اور اُن کی پرستش شروع کر دیں۔ (خروج 20 باب3-5آیات)

ہم خُدا کے بارے میں صرف اُتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا اُس نے خود اپنی ذات کے بارے میں ظاہر کیا ہے۔ خُدا کی بہت ساری صفات میں سے ایک صفت "نور" بھی ہے، مطلب یہ کہ اپنی ذات کے بارے میں وہ خود ہی معلومات کو ظاہر کرنے والا ہے (یسعیاہ 60باب 19 آیت؛ یعقوب 1باب 17آیت)۔ اِس حقیقت کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ خُدا نے خود اپنی ذات کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے (عبرانیوں 4باب1آیت)۔ خُدا کی مخلوقات، بائبل مُقدس اور مجسم کلام (یسوع مسیح) ہماری یہ جاننے میں مدد کریں گے کہ خُدا کیسا ہے۔

آئیے آغاز میں ہم اِس بات کو سمجھ لیں کہ خُدا ہمارا خالق ہے اور ہم سب اُس کی مخلوقات کا حصہ ہیں (پیدایش 1باب 1آیت؛ زبور 24باب 1آیت) اور ہم اُس کی شبیہ پر تخلیق کئے گئے ہیں۔ انسان باقی مخلوقات سے برتر ہے، یعنی اشرف المخلوقات ہے اور اُسے باقی سب مخلوقات پر اختیار دیا گیا ہے(پیدایش 3باب17-18آیات؛ رومیوں 1باب 19- 20آیات)۔ جب ہم خُدا کی مخلوقات کی وسعت، پیچیدگی، خوبصورتی اور ترتیب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں خُدا کے جلال اور قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اگر ہم خُدا کے کچھ ناموں کو پڑھیں تو اِس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ خدا کیسا ہے۔ ذیل میں خدا کے کچھ نام دئیے گئے ہیں۔

الوہیم – قادر، الٰہی اور پاک (پیدایش 1باب 1آیت)

ادونائی – خُداوند، مالک ، یہاں پر ایک مالک اور اُس کے خادم یا غلام کے باہمی رشتے کو مدِنظر رکھا جائے تو یہ سمجھنے میں مددگار ہوگا(خروج 4باب10، 13آیات)

ایل ایلیون – اعلیٰ و ارفع، برتر، طاقتور ترین (پیدایش 14باب20آیت)

ایل روئی – بصیر ، قادرِ مطلق جو سب کچھ دیکھتا ہے (پیدایش 16باب13آیت)

ایل شیدائی – خُدائے قادر (پیدایش 17باب1آیت)

ایل اولام – خُداوند خُدایِ ابدی(یسعیاہ 40باب 28آیت)

یہواہ – خُداوند خُدا "مَیں ہوں" مطلب ابدی اور واجب الوجود خُدا (خروج 3باب 13، 14آیات)

خُدا ابدی ہے، مطلب یہ کہ اُس کے وجود کا کوئی آغاز نہیں تھا اور نہ ہی اُس کے وجود کا کوئی اختتام ہوا۔ وہ غیر فانی اور لا محدود ہے (استثنا 33باب27آیت؛ 90 زبور 2آیت؛ 1تیمتھیس 1باب17آیت)۔ خُدا لاتبدیل ہے، یعنی اُس کی ذات اور اوصاف میں کبھی کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہوتا، اُس کی اِس خوبی کا مطلب یہ بھی ہے کہ خُدا مکمل طور پر قابلِ اعتماد ہے اُس پر مکمل طور پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے (ملاکی 3باب 6آیت؛ گنتی 23باب 19آیت؛ 102زبور 26، 27آیات)۔ خُدا لاثانی و بے نظیر ہے، کوئی بھی کام یا چیز/ہستی اُس جیسی نہیں ہے ، وہ یکتا ، منفرد اور کامل ہے (2 سموئیل 7باب22آیت؛ 68زبور 8آیت؛ یسعیاہ 40باب25آیت؛ متی 5باب 48آیت)۔ خُدا کی ذات ماورائے ادراک ہے، وہ لا انتہا اور عمیق ہے، وہ ناقابلِ تلاش یا جستجو ہے اور اُس کی ذات کو مکمل طور پر سمجھنا ناممکن ہے (یسعیاہ 40باب 28آیت؛ 145زبور 3آیت؛ رومیوں 11باب 33، 34آیات)۔

خُدا سچا منصف ہے، وہ کسی کا طرفدار نہیں بلکہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہے (استثنا 32باب4آیت؛ 18زبور30آیت)۔ خُدا قادرِ مطلق ہے، وہ ساری طاقت کا سرچشمہ ہے، وہ اپنی پاک مرضی کے مطابق جو کچھ چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن اُس کا ہر ایک کام اُسکے کردار سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے(مکاشفہ 19باب 6آیت؛ یرمیاہ 32باب 17، 27آیات)۔

خُدا حاضرو ناظر ہے، مطلب یہ کہ وہ ہر ایک جگہ پر موجود ہے، لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خُدا ہر ایک چیز ہے، یا ہر ایک چیز ہی خُدا ہے (139زبور 7- 13آیات؛ یرمیاہ 23باب 23آیت)۔ خُدا علیمِ کُل ہے، یعنی وہ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر ایک چیز کے بارے میں جانتا ہے، اور اِس سب میں وہ سب باتیں بھی شامل ہیں جو ہم کسی بھی وقت سوچ رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے اِس لیے اُس کا انصاف ہمیشہ ہی بالکل راست ہوگا (139 زبور 1-5آیات؛ امثال 5باب 21آیت)۔

خُدا ایک ہے؛ اُس کے سوا اور کوئی خُدا کائنات میں موجود نہیں، اور نہ صرف یہ بلکہ یہ بھی کہ ہماری بڑی سے بڑی ضروریات اور ہمارے دل کی مُرادیں پوری کرنے والا بھی فقط وہی ایک خُدا ہے۔ صرف خُدا ہی ہماری ساری عبادت اور پرستش کے لائق ہے (استثنا 6باب4آیت)۔ خُدا راستباز ہے مطلب یہ کہ وہ ہماری خطاؤں، گناہو ں ، تقصیروں اور بُرے کاموں کو دیکھ کر نظر انداز نہیں کر سکتا۔خُدا کی راستبازی اور انصاف ہی کہ یہ تقاضا تھا کہ ہمارے گناہوں کی معافی کی خاطر خُداوند یسوع کو خُدا کے غضب کو اپنے اوپر لینا پڑا ، اور یہ اُس وقت ہوا جب صلیب پر ہمارے گناہ اُس پر لادے گئے (خروج 9باب27آیت؛ متی 27باب45-46آیات؛ رومیوں 3باب21-26آیات)۔

خُدا مطلق العنان یعنی خودِمختارِ اعلیٰ، بلند و برتر ہے۔ اُس کی ساری مخلوقات مل کر بھی اُس کے کسی منصوبے کی راہ میں نہ تو رکاوٹ بن سکتی ہیں اور نہ ہی اُس کے کسی منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔ (93زبور 1آیت؛ 95 زبور 3؛ یرمیاہ 23باب20آیت)۔ خُدا رُوح ہے، مطلب یہ کہ اُسے انسانی نظر سے دیکھا نہیں جا سکتا (یوحنا 1باب 18آیت؛ 4باب 24آیت)۔ خُدا ثالوث ہے، یعنی اُس میں تین اقنوم ہیں، تینوں اقنوم اپنے جوہر، قدرت اور جلال میں یکساں ہیں۔ خُدا صادق ہے ، وہ ہمیشہ فنا نا پذیر ہے اور کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا (117زبور 2آیت؛ 1 سموئیل 15باب 29آیت)

خُدا پاک ہے، وہ ہر طر ح کی اخلاقی بدی اور بد اندیشی سے دُور اور ہمیشہ اُس کے خلاف ہے۔ خُدا ہر طرح کی بدی اور بُرائی کو دیکھتا ہے اور اُس سب کو دیکھ کر غضبناک ہوتا ہے۔ کلام میں خُدا کو بھڑکتی ہوئی آگ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے (یسعیاہ 6باب3آیت؛ حبقوق 1باب13آیت؛ خروج 3باب 2، 4-5آیات؛ عبرانیوں 12باب 29آیت) ۔ خُدا پُر فضل ہے اور اُس کے فضل میں اُس کی بھلائی ، مہربانی ، رحم اور محبت شامل ہے۔ اگر خُدا کا فضل نہ ہوتا تو اُس کی پاکیزگی ہمارے گناہ آلود ہونے کی وجہ سے ہمیں اُس کی حضوری سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خارج کر دی۔خُداوند کا شکر ہے کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ وہ ہم میں سے ہر کسی کو شخصی طور پر جاننا چاہتا ہے (خروج 34باب 6آیت؛31زبور 19آیت؛ 1 پطرس 1باب 3آیت؛ یوحنا 3باب 16آیت؛ 17باب 3آیت)۔

اب جبکہ خُدا ایک لامحدود ذات ہے اِس لیے ہم اُس کی ذات کے تعلق سے اتنے بڑے سوال کا جواب مکمل طور پر تو نہیں دے سکتے، لیکن خُدا کے کلام کی مدد سے ہم کسی طور پر یہ ضرور سمجھ سکتے ہیں کہ خُدا کون ہے اور کیسا ہے۔ دُعا ہے کہ ہم سب پورے دل سے اُس کو ڈھونڈنا جاری رکھیں (یرمیاہ 29باب 13آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کی صفات کیا ہیں؟ خُدا کیسا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries