قائم مقام بنانے والا فدیہ کیا ہے؟



سوال: قائم مقام بنانے والا فدیہ کیا ہے؟

جواب:
قائم مقام بنانے والا فدیہ یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتاہے جو گنہ گاروں کے لئے فدیہ دینے بطور مرا تھا۔ کلام پاک سکھاتا ہے سب کے سب گنہ گار ہیں۔ (رومیوں 23، 18 – 9 : 3)- ہماری گنہ گاری کے لئے خمیازہ موت ہے۔ رومیوں 6:23 میں اس طرح پڑھنے کو ملتاہے کہ "گناہ کی مزدوری تو موت ہے، مگر خداکی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے"۔

یہ آیت ہم کو بہت کچھ سکتا تی ہے۔ مسیح کے بغیر ہم اپنی ہمیشگی کی موت ہمارے گناہوں کی قیمت بطور جہنم میں گزارنے جار ہے ہیں۔ کلام پاک میں موت "خدا سے ہمیشہ کی جدائی" کی طرف اشارہ کرتاہے۔ ہر کوئی مرے گا مگر کچھ لوگ خداوند مسیح کے ساتھ ہمیشہ کے لئے آسمان میں زندہ رہیں گے،جبکہ دیگر لوگ ابد تک کے لئے جہنم میں ایک درد ناک زندگی جئیں گے۔ جس موت کے بارے میں یہاں پر کہا گیا ہے وہ جہنم میں زندہ رہنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

کسی طرح جو دوسری بات ہے یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیشہ کی زندگی یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمارے لئے دستیاب ہے۔ یہ اس کا قائم مقام بنانے والا فدیہ ہے۔ یسوع مسیح جو صلیب پر مصلوب ہوا تھا وہ ہمارے بدلے میں مرا تھا۔اس صلیب پر ہم کو مرنا ضروری تھا کیونکہ وہ ہم تھے جو گناہ کی زندگی گزارتے تھے۔ مگر مسیح ہماری جگہ اس سزاکو اپنے اوپر لے لیا۔ اس نے اپنے آپکو فدیہ بطور دیدیا اور اس نے وہ سب کچھ سہہ لیا جس کے ہم حقدار تھے۔ "جو گناہ سے واقف نہ تھااسی کو اس نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرا یا تاکہ ہم اس میں ہو کر خداکی راستبازی ہو جائیں" (2 کرنتھیوں 5:21)۔

وہ آپ ہمارے گناہوں کو اپنے بدن پر لئے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گناہوں کے اعتبار سے مر کر راستبازی کےاعتبار جئیں اور اسی کے مار کھانے سے تم نے شفا پائی" (1 پطرس 2:24)۔ یہاں پھر سے ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح نے ان گناہوں کو اپنے او پر لے لیا جو ہم نے کئے تھے تاکہ ہمارے گناہ کی قیمت کو چکائے۔ اس کے بعد کچھ ایک آیت ہم اس طرح پڑھتے ہیں کہ "اس لئے کہ مسیح نے بھی یعنی راستباز نے نا راستوں کے لئے گناہوں کے باعث ایک بار دکھ اٹھایا تاکہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے۔ وہ جسم کےاعتبار سے تو مارا گیا لیکن روح کےاعتبار سے زندہ کیا گیا۔( 1 پطرس 3:18)۔ نہ صرف یہ آیتیں ہم کو فدیہ کی بابت سکھاتی ہیں کہ مسیح ہمارے لئے قائم مقام بنا تھا، بلکہ ہم کو یہ بھی سکھاتے ہیں وہ خود ہمارے لئے فدیہ تھا۔ جس کے معنی یہ ہوئےکہ بنی نوع انسان کی گنہ گاری کے لئے اس قرضہ کی قیمت سے مسیح نے تقاضا پورا کیا۔

ایک اور عبارت ہے جو قائم مقام بنانے والی فدیہ کی بابت بتاتا ہے وہ یہ ہے یسعیاہ 53:5۔ یہ آیت آنے والے مسیح کی بابت بتاتی ہے جس کو ہمارے گناہوں کے لئے صلیب پر مرنا چاہئے تھا۔ یہ نبوت بالکل تفصیل سے ہے اور مسیح کی مصلوبیت ویسے ہی واقع ہوئی جس طرح سے پیش کی گئی تھی۔ "حالانکہ وہ ہمارے خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکاری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں"۔ اس میں قائم مقام بننے کی بابت غور کریں۔ سو یہاں ہم پھر سےدیکھتے ہیں کہ مسیح نے ہمارے لئے قیمت چکایا!

ہم صرف اپنے حصہ کی قیمت چکا سکتے ہیں جب ہم سزایافتہ ہوتے اور تمام ابدیت کے لئے جہنم میں ڈالے جاتے ہیں۔ مگر خداکا بیٹایسوع مسیح دنیا میں آیا کہ ہمارے تمام گناہوں کی قیمت چکائے۔ اس لئے یہ اس نے ہمارے ہمارے لئے کیا، اب ہمارے پاس موقع ہے کہ نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوں بلکہ ابدیت ہم مسیح کے ساتھ گزار سکیں۔ ایسا کرنے کے جو کچھ مسیح نے صلیب پر انجام دیا ہم کو اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم خود سے بچائے نہیں جا سکتے۔ ہماری جگہ لینےکے لئے ایک قائم مقام کی ضرورت ہے۔ سو یسوع مسیح کی موت ہی ہمارے لئے قائم مقام بنانے والا فدیہ ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



قائم مقام بنانے والا فدیہ کیا ہے؟