کفارے کے بارے میں مختلف نظریات کیا ہیں؟


سوال: کفارے کے بارے میں مختلف نظریات کیا ہیں؟

جواب:
کلیسیائی تاریخ میں مختلف افراد یا فرقوں کی جانب سے کفارے کے بارے میں بعض سچے، بعض جھوٹے کئی مختلف نظریات سامنے آئے ہیں۔ مختلف نظریات کی ایک وجہ یہ ہے کہ پُرانے اور نئے دونوں عہد نامے مسیح کے کفارے کے بارے میں کسی ایک نظریے کی دریافت کو مشکل بناتے ہوئے کئی سچائیاں ظاہر کرتےہیں جو مکمل طور پر کفارے کی زرخیزی بیان کر سکیں۔ جب ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو جو کچھ ہم دریافت کرتے ہیں وہ کفارے کی ایک سیر حاصل اور کثیر جہتی تصویر ہےجیسا کہ بائبل کفارے کے بارے میں بہت سی باہمی تعلق رکھنے والی سچائیاں پیش کرتی ہے جن کو مسیح نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ کفارے کے بارے میں بہت سے مختلف نظریات کے لئے ایک اور مدگار عنصر یہ ہے کہ جو کچھ ہم کفارہ کے بارے میں سیکھتے ہیں اُس میں سے زیادہ تر کو ہمارے تجربے سے پُرانے عہد نامہ کی قربانیوں کے نظام کے تحت خُدا کے لوگوں کے نقطہ نظر سے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مسیح کا کفارہ اپنے مقصد اور اپنی تکمیل میں اتنا زرخیز مضمون ہے کہ اِس کے بارے میں لاتعداد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ آرٹیکل بہت سے نظریات کا صرف مختصر جائزہ مہیا کرتا ہے جو مختلف اوقات میں سامنے آئے۔ کفارے کے مختلف نظریات پر غور کرتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ایسا کوئی بھی نظریہ جو انسان کی گنہگاری یا کفارے کے عوضی ہونے کی فطرت کو آشکارہ نہیں کرتا وہ بالکل ناقص نظریہ اور بدترین بدعت ہے۔

شیطان کو فدیہ (رینسم ٹُو سیٹن)
اِس نظریہ کے مطابق مسیح کا کفارہ فدیہ کے طور پر انسان کی آزادی خریدنے اور اُسے شیطان کی غلامی سے آزاد کرنے کے لئے شیطان کو ادا کیا گیا۔ اِس کی بنیاد اِس عقیدے پر ہے کہ انسان روحانی طور پر شیطان کا غلام ہے اور مسیح کےکفارے کا مقصد شیطان پر خُدا کی فتح کو یقینی بنانا تھا۔ اِس نظریہ کو اگر بائبل میں سے کچھ حمایت حاصل ہے تو وہ روحانی ہے اور کلیسیا کی تاریخ میں چند حامیوں کی بھی مدد حاصل ہے۔ یہ غیر بائبلی ہے کیونکہ خُدا کی بجائے شیطان کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرتا ہے جس نے گناہ کے لئے ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اِس طرح، یہ خُدا کے انصاف کے مطالبات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے جو بائبل میں پائے جاتے ہیں۔ یہ نظریہ شیطان کا جتنا تصور ہونا چاہیے اُس سے زیادہ بُلند بیان کرتا ہے، اور جنتی قوت وہ رکھتا ہے اُس سےکہیں زیادہ دکھاتا ہے۔ اِس خیال کو بائبلی حمایت بالکل حاصل نہیں ہے کہ گنہگار ابلیس کے ہاں ہر چیز کے مقروض ہو جاتے ہیں، بلکہ پوری بائبل میں ہم دیکھتے ہیں کہ صرف خُدا ہی ہے جو گناہ کے لئے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے۔

بحالی کا نظریہ (رِی کیپیچو لیش تھیوری)
یہ نظریہ بیان کرتا ہے کہ مسیح کے کفارے نے انسان کا چال چلن نافرمانی سے فرمانبرداری میں بدل دیا ہے۔ اِس نظریہ کے پیروکار یہ ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کی زندگی نے انسانی زندگی کے تمام مراحل کو بحال کر دیا ہے اور ایسا کرنے سے آدم کی طرف سے شروع ہونے والی نافرمانی کو فرمانبرداری میں بدل دیا ہے۔ بائبل کے مطابق اِس نظریے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔

ڈرامائی نظریہ (ڈریمیٹک تھیوری)
یہ نظریہ مسیح کے کفارے کو اچھائی اور بُرائی کے درمیان ہونے والی روحانی لڑائی اور شیطان کی غلامی سے انسان کی آزادی جیتنے کی فتح کو محفوظ کرتا ہے۔ اِس نظریہ کے مطابق مسیح کی موت کا مقصد شیطان پر خُدا کی فتح کو یقینی بنانا اور دُنیا کو بُرائی کی غلامی سے چھڑانے کا راستہ مہیا کرنا تھا۔

مخفی نظریہ (مِسٹیِکل تھیوری)
مخفی نظریہ کے مطابق مسیح کا کفارہ اُس کی اپنی گناہ آلودہ فطرت پر فتح کا شادیانہ ہے جو اُسے روح القدس کی قدرت سے حاصل ہوا۔ اِس نظریہ کے حامیوں کا ایمان ہے کہ اِس کا علم پوشیدگی سے انسان پر اثر کرتا ہے اور اُس کے "الٰہی شعور" کو بیدار کرتا ہے۔ وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ انسان کی روحانی حالت گناہ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ صرف "الٰہی شعور" کی کمی کا نتیجہ ہے۔ واضح طور پر نظرآتا ہے کہ یہ نظریہ غیر بائبلی نظریہ ہے۔ اِس پر یقین کرنے کے لئے یہ ایمان رکھنا ضرور ہے کہ مسیح کے اندر گناہ آلودہ فطرت موجود تھی، جبکہ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ یسوع کامل مجسم خُدا ، اور اپنی فطرت کے ہر پہلو میں گناہ سے پاک شخص تھا (عبرانیوں 4:15)۔

اخلاقی تاثیر کا نظریہ (مورل اِنفلُو انس تھیوری)
یہ ایک عقیدہ ہے کہ مسیح کا کفارہ خُدا کی محبت کا مظاہرہ ہے جو انسان کے دل کو نرم کرنے اور توبہ کرنے کا سبب بنا۔ اِس نظریہ کے حامیوں کا ایمان ہے کہ انسان روحانی طور پر بیمار ہے اُسے مدد کی ضرورت ہے اور انسان خُدا کی محبت کو دیکھتے ہوئے خُدا کی معافی کو قبول کرنے کے لئے اُس کی طرف رُخ کرتا ہے۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کے کفارے کا اِرادہ اور مقصد انسان کے لئے خُدا کی محبت کا اظہار کرنا تھا۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ مسیح کا کفارہ خُدا کی محبت کی حتمی مثال ہے، لیکن یہ نظریہ غیر بائبلی ہے کیونکہ یہ انسان کی گناہوں اور قصوروں میں حقیقی روحانی حالت مردہ پن کو ردّ کرتا ہے (افسیوں 2:1)، اور خُدا کے گناہوں کی ادائیگی کے مطالبہ کا انکار کرتا ہے۔ مسیح کے کفارے کا یہ نظریہ انسان کی حقیقی قربانی یا گناہوں کی ادائیگی کی ضرورت کا انکار کرتا ہے۔

ایک اچھی مثال کا نظریہ (اگزیمپل تھیوری)
اِس نظریہ کے مطابق مسیح کا کفارہ صرف ایمان اور فرمانبرداری کی مثال ہے اور اِس کا مقصد انسان کو خُدا کی فرمانبرداری کی تحریک دینا تھا۔ اِس نظریہ کے حامیوں کا ایمان ہے کہ انسان روحانی طور پر زندہ ہے اور مسیح کی زندگی اور کفارہ حقیقی ایمان اور فرمانبرداری کے لئے صرف ایک مثال ہے، اِس لئے انسانوں کو چاہیے کہ وہ اِس نظریہ کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ایمان اور فرمانبرداری کی زندگی گزار سکیں۔ یہ نظریہ اور اخلاقی تاثیرکا نظریہ دونوں اِس بات کے انکار کرنے میں متفق ہیں کہ خُدا کا عدل گناہ کے لئے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے اور مسیح کا صلیب پر کفارہ گناہوں کی ادائیگی تھی۔ اخلاقی تاثیر کے نظریے اور مثال کے نظریہ میں اہم فرق یہ ہے کہ اخلاقی تاثیر کا نظریہ کہتا ہے کہ مسیح کی موت ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا ہم سے کتنا پیار کرتا ہے اور مثال کا نظریہ کہتا ہے کہ مسیح کی موت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔ بے شک یہ سچ ہے کہ مسیح ہمارے لئے ایک مثال ہے، یہاں تک کہ اُس کی موت ہمارے لئے مثال ہے، لیکن مثال کا نظریہ پہچاننے میں ناکام ہو جاتا ہے کہ انسان کی حقیقی روحانی حالت کیا ہے اور خُدا کا عدل گناہ کے لئے ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے جس کی ادائیگی کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔

تجارتی نظریہ (کمرشل تھیوری)
تجارتی نظریہ مسیح کے کفارہ کو خُدا کو لامحدود جلال بخشنے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اِس نظریہ کے مطابق، خُدا نے مسیح کو ایک انعام دیا جس کی اُس کو ضرورت نہیں تھی، اور مسیح نے وہ انعام انسانوں کو دے دیا۔ اِس نظریہ کے حامیوں کا ایمان ہے کہ انسان کی روحانی حالت خُدا کو رُسوا کرتی ہے اور لہذہ مسیح کی موت کا اطلاق جس نے خُدا کو لامحدود جلال بخشا نجات کے لئے گنہگاروں پر ہو سکتا ہے۔ یہ نظریہ بہت سے دوسرے نظریات کی طرح گنہگاروں کی حقیقی روحانی حالت، اور اُن کی مکمل طور پر نئی فطرت کی ضرورت کو مسترد کرتا ہے جو صرف مسیح میں میسر ہے (2 کرنتھیوں 5:17)۔

حکومتی نظریہ (گورنمنٹل تھیوری)
یہ نظریہ بیان کرتاہے کہ مسیح کا کفارہ اِس بات کا اظہار ہے کہ خُدا اپنے قوانین اور گناہ کی طرف اپنے رویہ کا احترام کرتا ہے۔ یہ صرف مسیح کی موت کے وسیلہ سے ممکن ہے کہ خُدا کے پاس اُن سب کے گناہوں کی معافی کی وجہ موجود ہے جو توبہ کرتے اور مسیح کی عوضی موت کو قبول کرتے ہیں۔ اِس نظریہ کے ماننے والوں کا ایمان ہے کہ انسان کی روحانی حالت ایسے شخص کی مانند ہے جس نے خُدا کے اخلاقی قانون کی خلاف ورزی کی اور مسیح کی موت کا مقصد گناہوں کی سزا کے لئے عوضی بننا تھا۔ کیونکہ مسیح نےگناہ کی قیمت ادا کر دی، اِس لئے قانونی طور پر خُدا کے لئے اُن لوگوں کو معاف کرنا ممکن ہو گیا جو مسیح کو اپنے عوضی کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہ نظریہ تھوڑی سی کمزوری کی وجہ سے ناکام ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ نہیں سکھاتا کہ مسیح نے اصل میں کسی بھی شخص کے حقیقی گناہوں کی قیمت ادا کر دی ہے، بلکہ اِس کی بجائے یہ سکھاتا ہے کہ مسیح کی ایذارسانیاں انسانوں پر صرف یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا کے قوانین ٹوٹے تھے اور اُن کی کچھ قیمت ادا کر دی گئی ہے۔

قابلِ سزا عوضی نظریہ (پینل سبسِٹیوشن تھیوری)
یہ نظریہ مسیح کے کفارہ کو متبادل، عوضی قربانی ہونے کے طور پر دیکھتا ہے جس نے گناہ پر خُدا کے عدل کے مطالبات کو مطمئن کیا۔ مسیح نے اپنی قربانی کے ساتھ، انسان کے گناہوں کی قیمت ادا کی، جس سے گناہوں کی معافی اور راستبازی حاصل ہوئی، اور انسان کی خُدا کے ساتھ صلح ہو گئی۔ اِس نظریہ کے حامیوں کا ایمان ہے کہ گناہ کی وجہ سے انسان کے تمام پہلو، اُس کا ذہن، اُس کی مرضی، اور اُس کے جذبات متاثر ہوئے اور انسان مکمل طور پر بگڑ گیا اور روحانی طور پر مر گیا۔ اِس نظریہ کے مطابق مسیح کی موت نے گناہوں کی قیمت ادا کر دی اور انسان ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی ادائیگی کے طور پر موت کو بطورِ عوضی قبول کر سکتا ہے۔ کفارے کا یہ نظریہ بالکل بائبل کے مطابق ہے، اِس کا گناہ کے بارے میں نظریہ ، انسان کی فطرت، اور صلیب پر مسیح کی موت کے نتائج کے نظریات بالکل بائبل کے مطابق ہیں۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
کفارے کے بارے میں مختلف نظریات کیا ہیں؟