کس طرح مجھے اپنی نجاتک ا یقین ہو سکتاہے؟



سوال: کس طرح مجھے اپنی نجاتک ا یقین ہو سکتاہے؟

جواب:
کئی ایک مسیح کے پیچھے چلنے والے نجات کے یقین کے لئے غلط جگہوں کی طرف نظر کرتے ہیں۔ ہم نجات کے یقین کو ڈھونڈنے کے لئے ان باتوں کی طرف مائل ہو تے ہیں جن کو خدا ہماری زندگیوں میں انجام دیتا ہے، ہماری روحانی ترقی میں، ہمارے نیک کاموں میں اور خداکے کلام کو وفاداری سے مان کر اس کی اتباع کرنے میں یہی باتین ہیں جو ہماری مسیحی زندگی کے ثبوت ہیں۔ جب یہ چیزیں نجات کے ثبوت ہو سکتے ہیں تو پھر بھی یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جو ہماری نجات کے بنیادی ثبوت ہو سکتے ہیں بلکہ کسی قدر ہم کو نجات کے لئے خدا کے کلام کی جو بنیادی اصول ہیں انہیں معلوم کرنی چاہئے۔ جو وعدے خدا نے اپنے کلام میں اعلان کئے ہیں ان پر یقینی طور سے بھروسہ کرنی چاہئے نہ کہ ہمارے شخصی تجربوں کی وجہ سے۔

آپ کو نجات کا یقین کیسے ہو سکتا ہے؟ دھیان دیجئے 1 یوحنا 13-11 :5 پر۔ "اور وہ گواہی یہ ہے کہ خدا نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشی اور یہ زندگی اس کے بیٹے میں ہے۔ جس کے پاس بیٹا ہے اس کے پاس زندگی ہے اور جس کے پاس خدا کا بیٹا نہیں اس کے پاس زندگی بھی نہیں۔ میں نے تم کو جو خدا کے بیٹے کے نام پر ایمان لائے ہو یہ باتیں اس لئے لکھیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زندگی رکھتے ہو"۔ وہ کون ہے جس کے پاس بیٹا ہے؟ یہ وہ ہیں جنہوں نے اس پر ایمان لایا ہے۔ (یوحنا 1:12)۔ اگر آپ کے پاس یسوع ہے تو آپ کے پاس زندگی ہے۔ عارضی زندگی نہیں بلکہ مستقل یعنی ہمیشہ کی زندگی۔

خدا ہم سے چاہتاہے کہ ہم نجات کا یقین رکھیں۔ ہم کو اپنی مسیحی زندگی یونہی تعجب کرتے ہوئے اور ہر دن بیجا فکر کرتے ہوئے نہیں جینا ہے یہ سوچ کر کہ ہم سچ مچ بچائے گئے ہیں یا نہیں۔ اسی لئے کلام پاک از حد صاف طور سے ہمارے نجات کے منصوبے کو ظاہر کرتاہے اور کہتا ہے کہ مسیح یسوع پر ایمان لاؤ (یوحنا 3:16؛ اعمال 16:31)۔ رومیوں کی کتاب میں پولس لکھتا ہے کہ "اگر تو اپنی زبان سے یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا تو تو نجات پائے گا (رومیوں 10:9)۔ کیا آپ نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ہے؟ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع آپکے لئے مرا اور آپکے گناہوں کا خمیازہ ادا کیا اور وہ مردوں میں سے زندہ ہوا؟ (رومیوں 5:8؛ 2 کرنتھیوں 5:21)۔ کیا آپ اپنی نجات کے لئے اس اکیلے پر بھروسا کرتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کے لئے آپکا جواب "ہاں" ہے تو آپ بچائے گئے ہیں۔ یقین کا مطلب ہے کسی طرح کے شک سے آزادی۔ خداکے کلام کو اپنے دل میں لیتے ہوئے آپ اپنی ابدی نجات کی سچائی کی بابت بغیر کسی شک کے اپنے میں تسلی رکھ سکتے ہیں۔

جو یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے خود یسوع یقین دلاتاہے: "اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتاہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہونگی اور کوئی انہیں میرے باتھ سے چھین نہ لے گا۔ میرا باپ جس نے مجھے انہیں دی ہے سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا" (یوحنا 29-28 :10)۔ ہمیشہ کی زندگی ایسے ہی ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی ہے۔ مسیح کے وسیلہ سے خدا کے دیئے ہوئے نجات کے انعام کو آپ سے کون چھین سکتا ہے؟ یہاں تک کہ آپ خود بھی نہیں۔

"ہم خدا کے کلام کو اپنے دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں تاکہ خدا کے کلام کے خلاف کوئی گناہ نہ کریں۔ (زبور شریف 119:11)، اور یہ شک کے گناہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ خدا کا کلام جو آپ سےکہہ رہاہے اس میں خوش رہیں: بجائے اس کے کہ شک کریں ہم بھروسہ کے ساتھ جی سکتے ہیں ہم مسیح کے خود کے کلام سے یقین کر سکتے ہیں کہ ہماری نجات میں کوئی سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔ ہماری نجات کا یقین اس کامل اور مکمل خداکی نجات پر ٹکی ہوئی ہے جسے خدا نے ہمارے لئے مسیح یسوع کے وسیلہ سے انتظام کیا ہوا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کس طرح مجھے اپنی نجاتک ا یقین ہو سکتاہے؟