کیا مسیحیوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے؟


سوال: کیا مسیحیوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے؟

جواب:
اکثر پوچھے جانے والا سوال یہ ہے کہ "اگر میں گناہ کرتا ہوں، اور خُدا کے سامنے اُس گناہ کے اعتراف سے پہلے مر جاتا ہوں تو کیا ہوتا ہے؟" ایک اور عام سوال یہ ہے "اگر میں گناہ کا ارتکاب کرتا ہوں، اور اُس کے بارے میں بھول جاتا ہوں اور پھر خُدا کے سامنے اعتراف کرنے کے لئے کبھی گناہ یاد بھی نہیں آتا تو کیا ہوتا ہے؟ دونوں سوالات کا تعلق ناقص مفروضات سے ہے۔ نجات کا تعلق ایمانداروں کے ہر گناہ کے اعتراف کرنے اور توبہ کرنے سے نہیں ہے جو وہ مرنے سے پہلے کرتے ہیں۔ نجات کی بنیاد اِس بات پر نہیں کہ آیا مسیحی ہر گناہ کا اعتراف کرتا اور توبہ کرتا ہے یا نہیں۔ ہاں، جب بھی ہمیں پتہ چلے کہ ہم نے گناہ کیا ہے ہمیں خُدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے ۔ لیکن ہمیں ہر وقت خُدا سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہم نجات کے لئے یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں، ہمارے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اِس میں ہمارے ماضی، حال، اور مستقبل کے چھوٹے بڑے تمام گناہ شامل ہیں۔ ایمانداروں کو ضرورت نہیں کہ وہ گناہوں کی معافی کے لئے توبہ کرتے یا دُعا مانگتے رہیں۔ یسوع ہمارے تمام تر گناہوں کی قیمت چُکانے کے لئے مر گیا، اور ہمارے سب گناہ معاف ہو چُکے ہیں (کُلسیوں۱۴:۱؛اعمال۴۳:۱۰)۔

ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا ہے، "اگر ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے" (۱۔یوحنا۹:۱)۔ یہ آیت ہمیں خُدا کے سامنے اپنے گناہوں کا "اقرار " کرنے کی تعلیم دیتی ہے ۔ اِس آیت میں مُستعمل انگلش لفظ "کنفیس" کے معنی "مُتفق ہونا، اتفاق کرنا" کے ہیں۔ جب ہم اپنے گناہوں کا اقرار خُدا کے سامنے کرتے ہیں، تو ہم خُدا کے ساتھ متفق ہوتے ہیں کہ ہم غلط ہیں اور ہم نے گناہ کیا ہے۔ خُدا اقرار کے سبب ، اور اِس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ "سچا اور عادل" ہے ہمیں معاف کر دیتا ہے۔ خُدا "سچا اور عادل " کیسے ہے؟ وہ ہمارے گناہ معاف کرنے میں سچا ہے، کیونکہ اُس نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا ہے اُس کے گناہ معاف کئے جائیں گے۔ وہ عادل ہے۔ ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے طور پر مسیح کوپیش کرنے ، اور پہچان دینے میں عادل ہے کہ گناہوں کے لئے واقعی کفارہ دے دیا گیا ہے۔

اِس کے ساتھ ہی ۱۔یوحنا۹:۱ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کسی بھی قسم کی معافی کا انحصار خُدا کے سامنے ہمارے گناہوں کے اعتراف پر ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے اگر ہمارے سب گناہ اُسی لمحے معاف ہو جاتے ہیں جب ہم یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جس معافی کا ذکر یوحنا رسول یہاں کر رہا ہے وہ " ری یشنل یعنی نسبتی" معافی ہے۔ ہمارے تمام گناہ " پوزیشنلی " اُس لمحے معاف ہو جاتے ہیں جب ہم یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ پوزیشنل معافی ہماری نجات کی ضمانت دیتی ہے اور آسمان پر ابدی گھر کا وعدہ کرتی ہے۔ موت کے بعد ہم جب خُدا کے سامنے کھڑے ہوں گے، خُدا ہمارے گناہوں کی وجہ سے فردوس میں ہمارے داخلے سے انکار نہیں کرے گا۔ یہ پوزیشنل معافی ہے۔ نسبتی معافی کے تصور کی بنیاد اِس حقیقت پر ہے کہ جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خُدا کو ناراض کرتے اور روح القدس کو رنجیدہ کرتے ہیں (افسیوں۳۰:۴)۔ اگرچہ خُدا نے حتمی طور پر ہمارے گناہ معاف کر دیئے ہیں ، لیکن اُن کا نتیجہ ابھی بھی خُدا اور ہمارے درمیان رشتہ میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ ایک نوجوان لڑکا جو اپنے باپ کے خلاف گناہ کرتاہے اپنے خاندان سے خارج نہیں کیا جاتا۔ راستباز باپ اپنے فرزندوں کو غیر مشروط طور پر معاف کر دیتا ہے۔ لیکن اِس کے باوجود بھی باپ اور بیٹے کے درمیان ایک اچھا تعلق قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ رشتے کو بحال نہ کیا جائے۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہےجب ایک بچہ اپنے باپ کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔ اِس لئے ہم خُدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ نجات کو قائم کرنے یا بحال کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے ساتھ قریبی تعلق میں لانے کے لئے جس نے ہم سے پیار کیا ہے اور پہلے سے ہمیں معاف کر دیا ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
کیا مسیحیوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے؟