settings icon
share icon
سوال

آرمینیت کیا ہے اور کیا یہ بائبلی ہے؟

جواب


آرمینیت جسے انگریزی میں آرمینین ازم کہا جاتا ہے ایسا عقائدی نظام ہے جو خصوصی طور پر نجات کے تعلق سے خدا کی خودمختاری اور بنی نوع انسان کی آزاد مرضی کے درمیان تعلق کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آرمینیت کے اِس نظریے کا نام جیکب آرمینئیس (1560- 1609) کے نام پر رکھا گیا تھا جو ایک ڈچ عالمِ الٰہیات تھا۔ اگرچہ کیلون ازم خدا کی خودمختاری پر زور دیتا ہے لیکن آرمینیت کا نظریہ انسان کی ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔ اگرآرمینیت کی پڑتال کے لیے اِس کی زمرہ بندی کی جائے تو اِس نظریے کو پانچ نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، بالکل ویسے جیسے کیلون ازم کے پانچ نکات ہیں۔ پس اِس کے پانچ نکات یہ ہیں۔

1) جزوی بگاڑ/گراوٹ: -– انسانیت گناہ میں گرنے کی وجہ سے بگاڑ اور گراوٹ کی شکار ہے لیکن پھر بھی خدا کی تلاش کرنے کے قابل ہے۔ ہم گناہ میں گرے ہوئے اور اُس کی وجہ سے داغدار ہیں۔ لیکن ہم اِس حد تک بھی گراوٹ کا شکار نہیں ہیں کہ ہم خدا کی طرف سے ملنے والے فضل کی بدولت اُس کی طرف آنےاور نجات قبول کرنے کا انتخاب نہ کر سکیں۔ایسا فضل ملنے کے باوجود انسانی مرضی آزاد ہے اور انسانی مرضی میں یہ اختیار موجود ہے کہ انسان خود کو اپنی رضامندی سے رُوح القدس کے اثر کے تابع کریں۔

2) مشروط چناؤ – خدا صرف ان لوگوں کو "چُنتا " ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اُس پر ایمان لے آئیں گے۔ کسی بھی انسان کے فردوس یا جہنم میں جانے کے حوالے سے پہلے سےکچھ بھی طے نہیں ہوا۔

3) لامحدود کفارہ – یسوع نے ہر ایک انسان کے لیے اپنی جان دی۔ حتیٰ کہ اُن لوگوں کے لیے بھی جو چُنے ہوئے نہیں ہیں اور جو اُس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یسوع کی موت تمام انسانیت کے لیے تھی اور جو کوئی بھی اُس پر ایمان لائے گا وہ بچ جائے گا۔

4) قابلِ مزاحمت فضل – خدا کی طرف سے بچائے جانے کی جو بلاہٹ ہے اُس کے خلاف مزاحمت کی جا سکتی ہے/یا اُسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ خُدا ہمیں نجات حاصل کرنے کے لیے اپنی طرف کھینچتا ہے، لیکن اگر ہم چاہیں تو ہم اُس کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔

5) مشروط نجات – مسیحی اگر اپنی زندگی میں مسلسل طور پر رُوح القدس کے کام کو رَد کریں تو وہ اپنی نجات کھو سکتے ہیں۔ ایک مسیحی سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی نجات کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل طور پر اِس کی برقراری کے لیے ضروری کام کو جاری رکھے۔ نوٹ:آرمینیت کے بہت سارے حامی "مشروط نجات" کے عقیدے کا انکار کرتے ہیں اور اِس کی بجائے وہ "ابدی تحفظ" کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں۔

کیلون ازم کے چار نکات کو مانے والے لوگ آرمینیت کے جس واحد نکتے کو سچا مانتے ہیں وہ تیسرا نکتہ یعنی "لامحدود کفارہ" ہے۔ 1 یوحنا 2باب2آیت بیان کرتی ہے کہ "اور وہی ہمارے گناہوں کا کفّارہ ہے اور نہ صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ تمام دُنیا کے گناہوں کا بھی۔ " 2 پطرس 2باب1آیت بیان کرتی ہے کہ یسوع نے تو اُن جھوٹے اُستادو ں کو بھی اپنے خون سے مُول لیا تھا جو کہ ہلاکت کا شکار ہونگے۔ "اور جس طرح اُس اُمّت میں جھوٹے نبی بھی تھے اُسی طرح تم میں بھی جھوٹے اُستاد ہوں گے جو پوشیدہ طَور پر ہلاک کرنے والی بدعتیں نکالیں گے اور اُس مالِک کا اِنکار کریں گے جس نے اُنہیں مول لِیا تھا اور اپنے آپ کو جلد ہلاکت میں ڈالیں گے۔ "یسوع کے وسیلے مہیا کردہ نجات کسی بھی ایسے شخص کے لیے دستیاب ہے جو اُس پر ایمان لائے گا۔ یسوع نے صرف اُنہی لوگوں کے لیے اپنی جان نہیں دی جو اُس پر ایمان لائیں گے۔

چار نکاتی کیلون ازم کے مطابق (جو کہ Got Questions Ministries کا باقاعدہ عقائدی موقف ہے) آرمینیت کی طرف سے پیش کئے جانے والے باقی چار نکات مختلف درجو ں تک غیر بائبلی ہیں۔ رومیوں 3باب10-18آیات بڑے موثر طریقے سے مکمل بگاڑ/گراوٹ کی بات کرتی ہیں۔ مشروط چناؤ یا خُدا کے علمِ سابق کی بنیاد پر کیا جانے والا چناؤ خُدا کی حاکمیت کو کم کرتا ہوا معلوم ہوگا ہے (رومیوں 8باب 28-30آیات)۔ قابلِ مزاحمت فضل خُدا کی قدرت اور اُس کے ارادے کو کمتر حالت میں پیش کرتا ہے۔ اور مشروط نجات انسان کی نجات کو خُدا کی طرف سے فضل کی بدولت ملنے والے تحفے کی بجائے انسان کے کاموں کا اجر بنا دیتی ہے (افسیوں 2باب8-10آیات)۔ دونوں نظاموں میں ہی مسائل پائے جاتے ہیں لیکن کیلون ازم آرمینیت کے مقابلے میں زیادہ بائبلی نقطہ نظر کا حامل نظریہ ہے۔ بہر حال دونوں ہی نظام خُدا کی حاکمیت اور انسان کی آزاد مرضی کے درمیان کسی مناسب تعلق کو بیان کرنے سے قاصر رہے ہیں – اور یہاں پر اِس حقیقت کو بھی مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ محدود ذہن رکھنے والا انسان لامحدود خُدا کو پورے طور پر نہیں سمجھ سکتا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آرمینیت کیا ہے اور کیا یہ بائبلی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries