عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا؟



سوال: عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا؟

جواب:
عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا ، یہ ایسا سوال ہے جِس نے صدیوں سے علم الہٰیات کے عُلما کرام ، بائبل کے طالب علموں، اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مسحُور کیا ہے۔ یہوداہ کے بادشاہ یوسیاہ نے اپنی سلطنت کے اٹھارویں برس عہد کے صندوق کے محافظوں کو اِسے یروشلیم کی ہیکل میں واپس لانے کا حکم دیا(2 تواریخ باب 35 آیات 1 تا 6؛ دوسرا سلاطین باب 23 آیات 21 تا 23)۔ یہ آخری وقت تھا جب کتابِ مقدس میں عہد کے صندوق کے مقام کا ذکر کیا گیا ۔ چالیس سال بعد، بابُل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلیم پر قبضہ کر لیا اور ہیکل کو لُوٹ لیا۔ اِس واقعے کے دس سالوں سے بھی کم عرصہ کے بعد، وہ دوبارہ واپس آیا اور جو کچھ ہیکل میں بچ گیا تھا وہ بھی ساتھ لے گیا اور پھر ہیکل اور شہر کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ لہذہ، عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا اُسے نبوکدنضر لے گیا؟ کیا یہ شہر کے ساتھ تباہ ہو گیا تھا؟ یا اِسے بحفاظت چھُپا دیا گیا تھا، جیسے ثبوت کے طور پر تب چھُپایا گیا تھا جب شاہِ مصر سیسق نے سلیمان کے بیٹے رحبعام کے دور میں ہیکل کو لوٹا تھا۔ ("ثبوت کے طور پر" اِس لئے کیونکہ اگر سیسق عہد کے صندوق کو لے گیا ہوتا، تو یوسیاہ لاویوں سے کیوں کہتا کہ اِسے واپس لاؤ؟ اگر عہد کا صندوق مصر میں ہوتا ، تو لاپتہ عہد کے صندوق کے لُوٹنے والوں کی سازش کے بعد، یہ لاویوں کے پاس نہ ہوتا اور اِس وجہ سے وہ اِسے واپس نہ لا سکتے)۔

غیر مُستند کتاب 2 مکابین بیان کرتی ہے کہ بابلی حملوں سے تھوڑی دیر پہلے یرمیاہ نے "بمطابق اُس وحی کے جو اُس پر نازل ہوئی حکم دیا تھا کہ مسکن اور صندوق اُس کے ساتھ لے چلیں جب کہ وہ اُس پہاڑ پر چڑھنے لگا جِس پر چڑھ کر مُوسیٰ نے خُدا کی میراث پر نگاہ کی تھی[یعنی کوہِ نبو؛ اِستثناء باب 34 آیت 1]۔ اور یرمیاہ نے وہاں پہنچ کر غار پایا جو قابلِ سکونت تھا اور اُس کے اندر مسکن اور صندوق اور بخور کا مذبح رکھ دیئے اور مدخل کو بند کر دیا "(2 مکابین باب 2 آیات 4 تا 5)۔ تاہم، "جب اُس کے ساتھیوں میں سے بعض آئے تاکہ راہ پر نشان کر دیں مگر اُسے نہ پا سکے تو یرمیاہ نے یہ اَمر معلُوم کر کے اُنہیں ملامت کی اور کہا کہ وہ جگہ نامعلوم ہی رہے گی جب تک خُدا اپنی اُمت کو دوبارہ فراہم کر کے رحم نہ کرے۔ اُسی وقت خُداوند اِن تمام چیزوں کو پھر ظاہر کرے گا اور خُداوند کا جلال اور بادل نمُودار ہو گا۔ جس طرح مُوسیٰ کے دِنوں میں ظاہر ہوا اور اُس وقت کی طرح جب سُلیمان نے دُعا کی کہ یہ مقام بہت ہی مُقدس ہو"(دوسرا مکابین باب 2 آیات 6 تا 8)۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ سیکنڈ ہینڈ بیان درُست ہے(باب 2 پہلی آیت)، یہاں تک کہ اگر یہ درُست ہو بھی ، تو بھی ہم اُس وقت تک نہیں جان پائیں گے جب تک خُدواند واپس نہیں آئے گا، جیسا کہ یہ بیان خود دعویٰ کرتا ہے۔

لاپتہ عہد کے صندوق کے بارے میں دیگر نظریات میں ربّی شلومو گورن اور یہوداہ گٹز کے دعوئے شامل ہیں کہ اِسے ہیکل کے پہاڑ کے نیچے چھُپایا گیا تھا ، اور اِس سے پہلے کہ نبوکد نضر اُسے چُراتا اِسے وہاں دفن کر دیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے، ہیکل کا پہاڑ اب قبتحہ الصخرہ (ڈوم۔ آف۔ دا ۔راک) کا گھر ہے جو ایک اسلامی مُقدس جگہ ہے، اور مقامی مسلم کمیونٹی کُھدائی کی اجازت دینے سے انکار کرتی ہے۔ لہذہ، ہم معلوم نہیں کر سکتے کہ آیا ربّی گورمن اور گٹز درُست ہیں یا نہیں۔

دیگر مفسرین میں کھوج کار، وینڈل جونز یقین رکھتا ہے کہ قمران کے غار 3 سے ملے بحیرہ مُردار کے طوماروں میں سے ایک پچیدہ مصنوعی "پیتل کا طومار" دراصل مختلف اقسام کے نقشوں کا ایک خزانہ ہے جو کہ بابلیوں کے آنے سے پہلے ہیکل سے لئے گئے اُن سابقہ خزانوں کی تعداد کے مقام کی تفصیل بتاتا ہے جن میں لاپتہ عہد کے صندوق کا بھی ذکر ہے۔ آیا یہ بات سچ ہے یا نہیں ، لیکن اِس پر غور کرنا باقی ہے، کیونکہ اِس طومار میں درج کردہ ضروری جغرافیائی نشانات کے مقامات کی تلاش کرنے کے قابل ابھی تک کوئی نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عُلما کرام قیاس کرتے ہیں کہ "پیتل کا طومار" دراصل 2 مکابین باب 2 پہلی اور 4 آیات میں پیش کردہ ریکارڈ ہو سکتا ہے، جو بیان کرتا ہے کہ یرمیاہ نے عہد کے صندوق کو چُھپایا تھا۔ اگرچہ یہ ایک دلچسپ مفروضہ ہے، لیکن یہ غیر مُصدقہ ہی رہتا ہے۔

سابقہ مشرقی افریقہ کے نامہ نگار "ماہرِ معاشیات"گراہم ہانکاک نے 1992 میں "دا ۔سائن۔اینڈ۔دا۔سِیل: دا کویسٹ فار دا لاسٹ آرک آف دا کاواننٹ" کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی، جِس میں اُس نے دلیل دی ہے کہ عہد کے صندوق کو ایتھوپیا کے ایک قدیم شہر ایکسُم کے ایک چرچ "سینٹ میَری آف زائنز چرچ" میں چھُپا دیا گیا تھا۔ بی۔اے۔ایس۔ای انسٹیٹیوٹ کے کھوج کار رابرٹ کارنُک بھی ایمان رکھتا ہے کہ عہد کا صندوق ایکسُم میں ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک وہاں کسی کو نہیں مل سکا۔ اسی طرح ماہر آثارِ قدیمہ مائیکل سینڈر کا ایمان ہے کہ عہد کے صندوق کو ڈجاہراہ کے اسرائیلی گاؤں کے قدیم مصری مندر میں چھُپایا گیا تھا، لیکن اُ س نے ابھی تک اِسے وہاں تلاش نہیں کیا۔

ایک مشکوک آئرش روایت کے مطابق عہد کا صندوق آئرلینڈ میں تارا کی پہاڑی کے نیچے دفن ہے۔ کچھ مفسرین کا ایمان ہے کہ اِس روایت کا تعلق ایک آئرش افسانہ "دھنک کے آخر پر سونے کے برتن" سے ہے۔یہاں تک کہ رون وائٹ اور ٹام کراسٹر کے دعوئے کم قابلِ یقین ہیں، وائٹ کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ عہد کا صندوق کوہِ کلوری کے نیچے دفن ہے، جبکہ کراسٹر کے دعویٰ کے مطابق عہد کا صندوق کوہِ نبو کے نزدیک کوہِ پسگہ کے نیچے دفن ہے۔ اِن دونوں اشخاص کو آثارِ قدیمہ کمیونٹی کی طرف سے کم اہمیت دی جاتی ہے، اور نہ ہی یہ اشخاص کسی بھی ثبوت کے ساتھ اپنے دعوؤں کی توثیق کر سکے ہیں۔

آخر میں، عہد کا صندوق خُدا کے سِوا سب کے لئے لاپتہ ہی ہے۔ مندرجہ بالا تجویز کردہ دلچسپ نظریات پیش کئے جاتے ہیں، لیکن عہد کا صندوق تا حال لاپتہ ہے۔ 2 مکابین کا مصنف اِس بات میں درُست ہو سکتا ہے کہ شاید ہم اُس وقت تک معلوم نہ کر سکیں کہ لاپتہ عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا، جب تک کہ خُداوند خود واپس نہیں آ جاتا۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



عہد کے صندوق کے ساتھ کیا ہوا؟