آریوسیت/آریت کیا ہے؟


سوال: آریوسیت/آریت کیا ہے؟

جواب:
نظریہ ِ آریوسیت (کچھ پاکستانی مسیحی علماء نے اِس کے لیے آریت کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے) چوتھی صدی عیسوی کے ابتدائی حصے میں مصر کے شہر اسکندریہ سے تعلق رکھنے والے ایک پادری اور جھوٹے استاد ایرئیس(Arius) کے نام سے منسوب بدعت ہے۔ ابتدائی مسیحیوں کے مابین ہونے والی بحثوں کا اولین اور غالباً ایک اہم ترین نکتہ مسیح کی الوہیت کا موضوع تھا۔ کیا یسوع واقعتاً مجسم خدا تھا یا یسوع ایک تخلیق تھا ؟ کیا یسوع خدا تھا یا نہیں؟ایرئیس یہ مانتا تھا کہ خُدا نے یسوع کو سب مخلوقات سے پہلے تخلیق کیا تھا تاکہ یسوع تمام مخلوقات میں جلال کا تاج حاصل کرے اور یوں اُس نے یسوع مسیح کی الوہیت سے انکار کر دیا تھا ۔ لہذا آریوسیت نظریے کے مطابق یسوع الٰہی خصوصیات کے ساتھ خلق کیا گیا تھا مگر وہ ایک محدود بشر ہے جو نہ تو ابدی ہے اور نہ ہی الٰہی ہے ۔

نظریہ ِ آریوسیت یسوع مسیح کے تھک جانے (یوحنا 4باب 6آیت ) اور اُس کے اپنی آمدثانی سے ناواقف ہونے (متی 24باب 36آیت ) سے متعلق حوالہ جات کا غلط مفہوم نکالتا ہے۔ یقیناًیہ بات سمجھنا کافی مشکل ہے کہ خُداکیونکر تھک سکتا ہے یا پھر وہ کسی بات سے ناواقف کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکن اصل میں یہ آیات یسوع کی انسانی فطرت/بشریت کے بارے میں بیان کرتی ہیں ۔ یسوع کامل خُدا اور کامل انسان ہے ۔ خدا بیٹا اپنے تجسم کے مخصوص وقت سے پہلے انسان نہیں تھا ۔ اِس لئے بحیثیت انسان یسوع کی محدودیت اُس کی الٰہی فطرت یا ازلیت پر کچھ اثر نہیں ڈالتی۔

نظریہِ آریوسیت کی دوسری بڑی غلط تفسیر مسیح کےلیے استعمال ہونے والے لفظ " پہلوٹھے " کے مفہوم سے تعلق رکھتی ہے ۔ رومیوں 8 باب 29آیت مسیح کو " بھائیوں میں پہلوٹھے" کے طور پر بیان کرتی ہے (1باب 15- 20آیات بھی دیکھیں )۔ آریوسیت نظریے کو ماننے والوں کے نزدیک اِن آیات میں لفظ " پہلوٹھے" سے مراد یہ ہے کہ خدا بیٹا تخلیق کے عمل میں سب سے پہلے " تخلیق" کیا گیا تھا ۔ (یعنی مسیح کو باقی مخلوق سے پہلے تخلیق کیا گیا تھا اِس لیے وہ پہلوٹھا ہے )۔ لیکن اصل معاملہ یہ نہیں ہے ۔ کیونکہ یسوع نے اپنے واجب الوجود اور ابدی ہونے کادعویٰ بذاتِ خود کیا ہے (یوحنا8باب 58آیت ؛ 10باب 30آیت)۔ یوحنا 1باب 1-2آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ یسوع "ابتدا میں خُدا کے ساتھ" تھا۔ بائبل کے دور میں خاندان کے پہلوٹھے بیٹے کو بڑی عزت دی جاتی تھی (پیدایش49باب 3آیت ؛خروج 11باب 5آیت؛ 34باب 19آیت؛ گنتی 3باب 40آیت 89زبور 27آیت؛ یرمیاہ 31باب 9آیت)۔ یسوع اِس مفہوم میں خُدا کا "پہلوٹھا "ہے۔ یسوع خدا کے منصوبے میں ایک اہم ترین شخص اور ہر چیز کا وارث ہے ۔ یسوع "عجیب مشیر، خُدائے قادر، ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ ہے" (یسعیاہ 9 باب 6آیت)۔

ابتدائی کلیسیا کی متعدد مجالس میں قریباً ایک صدی تک بحث و مباحثے کے بعد مسیحی کلیسیا نے باضابطہ طور پرنظریہ ِ آریوسیت کو جھوٹی تعلیم قرار دیا تھا۔ اُس وقت سےنظریہ ِ آریوسیت کو کبھی بھی مسیحی عقیدے کے ایک قابلِ عمل نظریے کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا ۔ تاہم نظریہ آریوسیت ابھی تک ختم نہیں ہوا ۔ نظریہ ِ آریوسیت مختلف اشکال میں صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ موجود ہ دور کے یہواہ کے گواہ اور مورمن ازم کے پیروکار مسیح کی فطرت کے بارے میں نظریہِ آریوسیت جیسا نقطہ ِ نظر اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ابتدائی کلیسیا کی طرح ہمیں بھی اپنے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی الوہیت پر کئے جانے والے ہر طرح کے حملوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
آریوسیت/آریت کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں