آریوسیت (ایریئن ازم) کیا ہے؟


سوال: آریوسیت (ایریئن ازم) کیا ہے؟

جواب:
آریوسیت (ایریئن ازم) کو یہ نام چوتھی صدی کے آغاز کے ایک معلم ایریئس کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ ابتدائی مسیحیوں کے درمیان ابتدائی ترین اور غالباً اہم ترین بحثوں میں سے ایک یسوع مسیح کی الوہیت کا موضوع تھا۔ کیا یسوع جسم میں حقیقی خُدا تھا یا یسوع ایک مخلوق شخص تھا؟ کیا یسوع خُدا تھا یا صرف خُدا کی مانند تھا؟ ایریئس کا ماننا تھا کہ یسوع کو خُدا نے اپنی تخلیق کے پہلے فعل کے طور پر خلق کیا تھا تاکہ یسوع تمام مخلوقات میں جلال کا تاج حاصل کرے۔ ایریئن ازم کا ایمان ہے کہ یسوع کو الہیٰ خصوصیات کے ساتھ خلق کیا گیا لیکن وہ خود میں اور خود سے الہیٰ نہیں تھا۔

آریوسیت (ایریئن ازم)یسوع مسیح کے تھکنے (یوحنا باب 4آیت 6) اور اُسکے آمدثانی سے ناواقف ہونے (متی باب 24 آیت 36) کے حوالہ جات کو غلط سمجھتی ہے۔ جی ہاں، یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ خُدا کیسے تھک سکتا ہے اور/یا کسی بات سے ناواقف کیسے ہو سکتا ہے، لیکن اِس سوال کا جواب یسوع کو مخلوق بنانا نہیں ہے۔ یسوع کامل خُدا تھا، لیکن وہ کامل انسان بھی تھا۔ یسوع اپنے تجسم تک انسان نہیں بنا تھا۔ اِس لئے انسان کے طور پر یسوع کی حد بندیوں سے اُس کی الہیٰ فطرت یا ازلیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

آریوسیت (ایریئن ازم) کی دوسری بڑی غلط تفسیر لفظ " پہلوٹھے (فسٹ بورن)" کے معنی ہیں (رومیوں باب 8آیت 29؛ کلسیوں پہلا باب آیات 15 تا 20)۔ آریوسی (ایریئن) اِن آیات میں "پہلوٹھے" کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ یسوع کو تخلیق کے پہلے عمل کے طور پر "پیدا کیا گیا" یا "خلق کیا گیا" (یعنی باقی تخلیق سے پہلے یسوع کو خلق کیا)۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ یسوع نے خود اپنے پہلے سے موجود ہونے اور ازلی ہونے کا اعلان کیا (یوحنا باب 8آیت 58؛ اور باب 10آیت 30)۔ یوحنا کی انجیل پہلے باب کی پہلی دو آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ یسوع "ابتدا میں خُدا کے ساتھ" تھا۔ بائبل کے دور میں گھرانے کے پہلوٹھے بیٹے کو بڑی عزت کے ساتھ نوازا جاتا تھا، یعنی وہ دوسرں سے افضل سمجھا جاتا تھا(پیدائش باب 49 آیت 3؛ خروج باب 11 آیت 5؛ باب 34 آیت 19؛ گنتی باب 3آیت 40؛ زبور 89 آیت 27؛ یرمیاہ باب 31آیت 9)۔ یسوع اِس مفہوم میں خُدا کا پہلوٹھا ہے۔ یسوع خُدا کے گھرانے میں افضل رُکن ہے۔ یسوع ممسوح "عجیب مشیر، خُدائے قادر، ابدیت کا باپ، سلامتی کا شہزادہ ہے (یسعیاہ باب 9 آیت 6)۔

مختلف ابتدائی کلیسیائی کونسلوں کی تقریباً ایک صدی کی بحثوں کے بعد، مسیحی کلیسیا نے باضابطہ طور پر آریوسیت (ایریئن ازم) کو جھوٹی تعلیم قرار دیا۔ اُس وقت سے آریوسیت کو مسیحی ایمان کی ذیستی (زندہ رہنے کے قابل) تعلیم کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا گیا۔ تاہم آریوسیت (آیریئن ازم) ختم نہیں ہوئی۔ آریوسیت صدیوں سے مختلف اشکال میں جاری ہے۔ موجود دور کے یہوواہ وِٹنسز (یہوواہ کے گواہ)، اور مورمنز مسیح کی فطرت پر آریوسی (ایریئن) تعلیم رکھتے ہیں۔ جیسے ابتدائی کلیسیا نے کیا، ہمیں بھی اپنے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی الوہیت پر کئے جانے والے کسی بھی یا تمام حملوں کی مذمت لازمی طور پر کرنی چاہیے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
آریوسیت (ایریئن ازم) کیا ہے؟