settings icon
share icon
سوال

کیا خُدا کے موجود ہونے کے بارے میں کوئی حتمی دلیل موجود ہے؟

جواب


خُدا کے موجود ہونے کے بارے میں حتمی دلیل کے متعلق سوال پردونوں ہی اطراف سے (یعنی خُدا کے وجود کے حق میں اور اُس کے وجود کے خلاف) بہت ہی ذہین لوگوں کے درمیان ساری تاریخ میں گرما گرم بحث ہوتی چلی آئی ہے۔ حالیہ طور پر خُدا کے وجود کے خلاف دلائل کے اندر جارحانہ طور پر عسکریت پسندی کی رُوح دیکھنے کو ملی ہےجس کی وجہ سے خُدا کے وجود کے منکر ہر اُس شخص کو غیر منطقی اور گمراہ قرار دیتے ہیں جو خُدا کے وجود پر ایمان رکھنے کی بات کرتا ہے۔ کارل مارکس نے کہا ہے کہ "ہر وہ شخص جو خُدا کے وجود پر ایمان رکھتا ہے لازمی طور پر کسی ایسے دماغی عارضے کا شکار ہے جو غیر منطقی سوچ کا باعث بنتا ہے"۔ ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائید نے لکھا ہے کہ "ہر وہ شخص جو ایک خالق پر ایمان رکھتا ہے وہ دراصل مغالطے اور فریب کا شکار ہے اور ایسے اعتقادات صرف اِسی وجہ سے رکھتا ہے کہ اِس سے اُسے اپنی خواہشات کے پورے ہونے کا احساس اور ڈھارس ملتی ہے۔" سگمنڈ ایسی صورتحال کو انتہائی غیرمعقول قرار دیتا ہے۔ مشہور فلسفی فریڈرک نیچا نے بڑے ہی بے باک انداز سے کہا ہے "ایمان رکھنا دراصل یہ جاننے سے انکار کرنا ہے کہ سچائی کیا ہے۔" تاریخ سے اِن تین (اور مزید بہت سارے دیگر لوگوں) کی آوازوں کی بازگشت موجودہ دور کی دہریت پسند نسل سے آرہی ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ خُدا کی ذات کے وجود پر ایمان رکھنا شعوری لحاظ غیر مناسب اور بلا جواز ہے۔

کیا حقیقت میں یہی معاملہ ہے؟کیا خُدا کے وجود پر ایمان رکھنا عقلی، شعوری اور منطقی لحاظ سے ایک ناقابلِ قبول حالت ہے؟کیا خُدا کے وجود کے بارے میں کوئی منطقی اور مناسب دلیل موجود ہے؟کیا بائبل مُقدس میں سے حوالہ دئیے بغیر خُدا کی ذات کے وجود کے بارے میں کوئی ایسی دلیل پیش کی جا سکتی ہے جو پرانے اور نئے دہریت پسندوں کے تصورات کی منطقی اور شعوری تردید کرتی ہو اور ایک خالق خُدا کے وجود لیے مناسب اور معقول دلیل مہیا کرتی ہو؟ اِس کا جواب ہے ، جی ہاں! ایسا ممکن ہے۔ مزید برآں جب خُدا کے وجو د کے بارے میں دلیل مہیا کی جاتی ہے تو اُس کے مقابلے میں موجود دہریت کا مقدمہ عقلی لحاظ سے بہت زیاہ کمزور نظر آتا ہے۔

خُدا کے وجود کے لیے دلیل – نیست سے ہست کی پیدایش

خُدا کےوجود کے بارے میں دلیل پیش کرنے کے لیے ہمیں بالکل درست سوالات سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سب سے زیادہ بنیادی مابعد الطبیعیاتی سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے جیسے کہ: "اِس کائنات میں نیست (کچھ بھی نہیں) کے برعکس اتنا کچھ (ہست) کیوں موجود ہے۔" وجود کے بارے میں یہ بنیاد ترین سوال – ہم یہاں پر کیوں موجود ہیں؛ یہ زمین کیوں موجود ہے؛ کچھ بھی نہ ہونے یعنی نیست کے برعکس یہ کائنات کیوں موجود ہے؟ اِس نقطے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک ماہرِ علمِ الہیات نے کہا ہے کہ"دیکھا جائے تو خُدا کے موجود ہونے کے بارے میں انسان سوال نہیں پوچھتا بلکہ اُس کا اپنا وجود ہی اِس سوال کو جنم دیتا ہے۔"

اِس سوال پر غور کیا جائے تو اِس کے تعلق سے ہمارے پاس چار ممکنہ جواب ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ اِس کائنات میں نیست (کچھ بھی نہیں) کے برعکس اتنا کچھ(ہست) کیوں موجود ہے"

1. تمام حقیقت (ہست) جو ہمیں نظر آتی ہے محض فریب نظری ہے۔

2. تمام حقیقت (ہست) نے خود ہی اپنے آپ کو تخلیق کر لیا ہے۔

3. تمام حقیقت (ہست) واجب الوجود (ابدی ) ہے۔

4. تمام حقیقت (ہست) کو کسی ایسی ہستی نے تخلیق کیا ہے جو خود واجب الوجود ہے۔

پس اِس میں سے قرینِ قیاس حل کیا ہے؟ آئیے اِس پر غور کرنے کے لیے تمام حقیقت(ہست) کے محض فریب نظری ہونے پر غور کریں جیسا کہ مشرق کے بہت سارے مشہور مذاہب سوچتے ہیں۔ یہ تصور صدیاں پہلے رُعینے ڈیکارٹ کے اِس مشہور فقرے کے ساتھ ہی رد ہو گیا تھا جس میں اُس نے کہا تھا کہ "کیونکہ مَیں سوچتا ہوں، اِس لیے مَیں موجود ہوں۔" ڈیکارٹ جو کہ ایک ریاضی دان بھی تھا دلیل پیش کرتا ہے کہ کیونکہ وہ سوچ رہا ہے اِس لیے اُس کا وجود بھی لازمی طور پر ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں دیکھا جائے تو وہ کہہ رہا ہے کہ "کیونکہ مَیں سوچتا ہوں اِس لیے مَیں کوئی فریب نظری نہیں ہوں۔"فریب نظری کے لیے بھی کسی ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو فریب نظری کا تجربہ کرنے کے لیے چاہیے؛ مزید برآں آپ اپنے وجود کو ثابت کئے بغیر اپنے وجود کے نہ ہونے پر شک بھی نہیں کر سکتے، یہ ایک خود غارتی دلیل ہے۔ پس حقیقت (ہست) کے محض ایک فریب نظر ی ہونے کا قطعی طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔

دوسرے نمبر پر یہ تصور ہے کہ حقیقت (ہست) خود ہی اپنی خالق ہے۔ جب ہم فلسفے کا مطالعہ کرتے ہیں تو اُس میں ہم "تجزیاتی طور پر غلط/جھوٹے" بیانات کے بارے میں پڑھتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی تعریف کے لحاظ سے ہی غلط یا جھوٹے ہیں۔ حقیقت (ہست) کے اپنی خالق آپ ہونے کا بیان بھی اِسی قسم کا ہے جس کی ایک بالکل سادہ سی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی چیز یا ہستی اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ نے خود ہی اپنے آپ کو خلق کیا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ تو اپنے وجود سے پہلے ہی موجود تھے ، لیکن حقیقت میں ایسی کوئی صورتحال کسی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ ارتقاء میں بعض دفعہ اِس چیز کو "خودساختہ/خودبخود پیدا ہو جانا" کہا جاتا ہے – یعنی نیست (یعنی کچھ بھی نہیں ) میں سے ہست(کچھ) کا پیدا ہو جانا۔ اور یہ ایک ایسی صورتحال یا معاملہ ہے جس کو آج کل کے دور میں عقل و شعور کا استعمال کرنے والے لوگوں میں سے شاید ہی کوئی مانتا ہو کیونکہ آپ نیست (کچھ بھی نہیں) میں سے ہست(وجود، ہستی، ) کو حاصل نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ ڈیوڈ ہیوم جیسے دہریے نے بھی کہا ہے کہ " مَیں نے کبھی بھی ایسی نامعقول / بے معنی تجویز پیش نہیں کی کہ کوئی بھی چیز بغیر کسی سبب کے پیدا ہو سکتی ہے۔"اب جبکہ نیست سے ہست پیدا نہیں ہو سکتااِس لیے حقیقت (ہست) کے اپنی خالق آپ ہونے کی کا تصور بھی رَد ہو جاتا ہے۔

ابھی ہمارے پاس بس دو انتخاب – ایک ابدی ہست (حقیقت یا کائنات) یا پھر ایک ایسی کائنات (ہست) جس کو کسی اور ابدی ذات نے تخلیق کیا ہے۔ اٹھارہویں صدی کا ماہرِ علمِ الہیات اِن دونوں انتخابات کے چوراہےکا خلاصہ کچھ اِس طرح سے کرتا ہے کہ:

• کچھ (ہست/حقیقت/کائنات) موجود ہے۔

• نیست (کچھ بھی نہیں) کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتا۔

• اِس لیے "کوئی لازمی اور ابدی وجود" پہلے سے موجود ہے۔

یہاں پر غور کریں کہ ہمیں دوبارہ واپس کسی ایسی ابدی ذات کی طرف ہی جانا پڑتا ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ وہ سب دہریے جو خُدا پر ایمان رکھنے والوں کا اِس لیے مذاق اُڑاتے ہیں کیونکہ وہ ایک ابدی خالق کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں اگر وہ خُدا کے ابدی وجود پر ایمان نہیں رکھتے تو پھر اُنہیں اِس کائنات کو ایک ابدی ذات اور اپنے خُدا کے طور پر ماننا پڑے گا۔ اور یہ ایک دوسرا واحد دروازہ ہے جس کا وہ انتخاب کر سکتے ہیں۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ یہ سارے شواہد کہاں لیکر جاتے ہیں۔ کیا یہ شواہد مادےکے وجود سے پہلے شعور کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا پھر شعور کے وجود سے پہلے مادے کے وجود کی ؟

آج کے دن تک تمام کے تمام سائنسی اور فلسفیانہ ثبوت ایک ابدی کائنات کے نظریے کی مخالفت کرتے ہیں اور ایک ابدی خالق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تمام ایماندار سائنسدان اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اِس کائنات کا ایک آغاز تھا، اور ہر ایک وہ چیز جس کا کوئی نہ کوئی آغاز ہو وہ قطعی طور پر ابدی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے الفاظ میں ہر وہ چیز جس کا کوئی آغاز ہے اُس کے وجود کا کوئی نہ کوئی سبب بھی ہے، اور اب اگر اِس کائنات کا ایک آغاز تھا تو پھر اِس کے وجود میں آنے کا کوئی نہ کوئی سبب بھی ضرورتھا۔ یہ حقیقت کہ کائنات ابدی نہیں ہےتھرموڈائنامکس کے دوسرے اصول اور خلاء میں تابکاری گونج سے ثابت ہوتی ہے جن کی دریافت 19 ویں صدی کے آغاز میں کی گئی تھی، مزید برآں آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت اور کئی ایک دیگر حقائق ثابت کرتے ہیں کہ کائنات مسلسل طور پر پھیل رہی ہے اور اگر اِس کے سفر کو واپس کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ ایک خاص نقطے پر آکر ختم ہو جائے گا جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ پس یہ ساری چیزیں اور باتیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ کائنات ابدی نہیں ہے۔

مزید برآں سببیت کے اصول بھی اِس نظریے کے خلاف ثبوت پیش کرتے ہیں کہ تمام موجود چیزوں کے وجود کا واحد سبب یہ کائنات خود ہے کیونکہ کوئی بھی چیز اپنے سبب کیساتھ خاص تعلق رکھتی ہے اور اُس میں اپنے سبب کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اب چونکہ یہ بات مصدقہ حقیقت ہے، تو اِس صورت میں کوئی بھی دہریہ اِس بات کی وضاحت پیش نہیں کر سکتا کہ کس طرح ایک لاشخصی، مقصد سے عاری، بے معنی اور اخلاقیات سے عاری کائنات نے حادثاتی طور پر ہم انسانوں کو تخلیق کر لیا جو کہ مکمل طور پر خاص شخصیات رکھتے ہیں، جن کی زندگی ہمیشہ ہی مقصد، معنی اور اخلاقیات کے گرد گھومتی ہے۔ پس سببیت کے نقطہ نظر سے ایسی کوئی بھی چیز جو مکمل طور پر اِس کائنات کے اند رموجود ہے وہ دہریت یا ارتقاء کے اِس تصور کی تردید کرتی ہے کہ اِس کائنات کے اندر موجود ہر ایک چیز کو کائنات نے خود پیدا کیا ہے۔ پس آخر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ابدی کائنات کا تصور مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔

اب جہاں تک ہم پہنچ چکے ہیں اِس کا خلاصہ جے۔ ایس مِل نامی ایک غیر مسیحی فلسفی اِس طرح سے کرتا ہے کہ : "یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک ذہن ہی ذہن کو تخلیق کر سکتا ہے۔"پس اِس کی روشنی میں ایک منطقی، مبنی بر عقل اور مبنی بر دلیل نتیجہ یہ ہے کہ صرف ایک ابدی خالق ہی اِس ساری حقیقت/ ہست، کائنات کے وجود کا ذمہ دار ہے جسے ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں یا جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں۔ اور اگر ہم اِن کو منطقی بیانات کے ذریعے سے پیش کریں تو یہ کچھ یوں ہونگے:

• کچھ (ہست/حقیقت/کائنات) موجود ہے۔

• نیست (کچھ بھی نہیں) کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتا۔

• اِس لیے "کوئی " لازمی اور ابدی وجود" پہلے سے موجود ہے۔

• پس صرف دو انتخابات جو ہمارے پاس بچتے ہیں وہ ہیں ایک ابدی کائنات یا پھر ایک ابدی خالق۔

• سائنس اور فلسفے نے ایک ابدی کائنات کے تصورت کی تردید کر دی ہے۔

• اِس لیے ایک ابدی خالق موجود ہے۔

سابقہ دہریہ لی سٹروبل جو اِس آخری نتیجے پر پہنچا تھا بیان کرتا ہے کہ ،"خصوصی طور پر مَیں نے اِس بات کا اندازہ لگایا کہ ایک دہریہ ہی رہنے کے لیے مجھے یہ ایمان رکھنا تھا کہ نیست(یعنی کچھ بھی نہیں) نے اِس کائنات کی ہر ایک چیز کو تخلیق کیا ہے۔ مُردگی (لازیستیت/غیر زندگی) نے زندگی کو خلق کیا ہے، بے ترتیبی اور بے اصولی نے سب اصولوں کو تخلیق کیا ہے، ابتری و افراتفری نے تمام قسم کی معلومات کو تشکیل دیا ہے؛ لاشعوریت نے شعور کو تخلیق کیا ہے؛ نامعقولیت نے معقولیت کو پیدا کیا ہے۔ اِن سب چیزوں کے وجود پر یقین یا ایمان رکھنا میرے لیے ایمان کے بہت بڑے بڑے اقدام تھےجو خُدا پر ایمان رکھنے کے برعکس دہریت پر ایمان رکھنے کے لیے مجھے لینے کی ضرورت تھی۔ ۔۔دوسرے الفاظ میں میرے تجزے کے مطابق خُدا کے وجود کے بارے میں جو مسیحی نقطہِ نظر ہے وہ دہریت کے نقطہ نظر سے زیادہ موزوں تھا۔ "

خُدا کے وجود کے لیے دلیل – خالق کو جاننا

لیکن اگلا سوال جسے دیکھنے کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ : اگر ایک ابدی خالق موجود ہے (اور ہم نے دکھایا ہے کہ ایک ابدی خالق موجود ہے)، تو وہ کس قسم کا خالق ہے؟ جو کچھ اُس نے تخلیق کیا ہے کیا اُس سب سے ہم اُسکے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں کیا ہم سبب کو اُس کے اثرات (تخلیق) کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں؟اِس سوال کا جواب ہے ، جی ہاں!اگر ہم کائنات کے خالق کی ذیل کی خصوصیات کا اندازہ لگائیں تو ہم ایسا کر سکتے ہیں:

• وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے مافوق الفطرت ہوگا (کیونکہ اُس نے وقت اور خلاء کو تخلیق کیا ہے)۔

• وہ بے انتہا طور پر طاقتور ہوگا۔

• وہ ابدی (واجب الوجود) ہوگا۔

• وہ حاضرو ناظر بھی ہوگا (اُس نے خلاء کو تخلیق کیا لیکن وہ خلاء سے باہر اور بالا ہے)۔

• وہ وقت اور کسی بھی طرح کی تبدیلی سے بھی بالا ہوگا (اُس نے وقت کو بھی تخلیق کیا ہے)۔

• وہ غیر مادی ہوگا (کیونکہ وہ خلاء اور تمام مادے سے بالا ہے)۔

• وہ ایک شخصی ذات ہوگا (لاشخصیت کسی طور پر شخصیت کو تخلیق نہیں کر سکتی)۔

• وہ واحد اور لامحدود ہوگا، کیونکہ ایک ہی وقت میں دو لامحدود ذاتیں موجو دنہیں ہو سکتیں۔

• وہ منفرد بھی ہوگا اور اُس کی ذات میں اتحاد بھی پایا جاتا ہوگا کیونکہ کائنات کے اندر ہمیں اتحاد اور تفریق نظر آتی ہے۔

• وہ لاانتہا حد تک حکمت والا ہوگا ، علم رکھنے والا ہی علم رکھنے والے کو پیدا کر سکتا ہے۔

• وہ بامقصد بھی ہوگا کیونکہ اُس نے اپنی مرضی سے کسی خاص مقصد کے تحت ہی اِس کائنات کو تخلیق کیا ہے۔

• وہ با اخلاق بھی ہوگا (اِس کائنات کے اندر موجود اخلاقی قوانین کسی قانون دینے یا نافذ کرنے والے کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتے۔)

• وہ ضرور پرواہ اور فکر کرنے والا ہوگا ( اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی طرح کے اخلاقی قوانین نہ دئیے گئے ہوتے۔)

یہ سب باتیں سچ ہیں، اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مذہب ہے جو ایسے کسی خالق کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ اِس سوال کا جواب ہے ، جی ہاں: اوپر بیان کردہ صفات پر بائبل کا خُدا مکمل طو رپر پورا اُترتا ہے۔ وہ قادرِ مطلق اور مافوق الفطرت (پیدایش 1 باب 1 آیت)، طاقتور (یرمیاہ 32 باب 17آیت)، ابدی (90 زبور 2 آیت)، حاضرو ناظر (139 زبور 7 آیت)، لاتبدیل اور وقت سے بالا (ملاکی 3 باب 6 آیت)، غیر مادی (یوحنا 4 باب 24 آیت)، شخصی (پیدایش 3 باب 9 آیت)، لازم (کلسیوں 1 باب 17آیت)، لامحدود اور واحد(یرمیاہ 23 باب 24 آیت؛ استثنا 6 باب 4 آیت)، منفرد لیکن اُسکی ذات میں اتحاد رکھنے والا (متی 28 باب 19آیت)، با حکمت (147 زبور 4-5 آیات)، بامقصد ( یرمیاہ 29 باب 11 آیت)، با اخلاق (دانی ایل 9 باب 14 آیت) اور پرواہ کرنے والا (1 پطرس 5 باب 6-7آیات) ہے۔

خُدا کے وجود کے لیے دلیل – دہریت کے نقائص کو جاننا

خُدا کی موجودگی کے تعلق سے دہریوں کے نقطہ نظر کے قابلِ جواز ہونے کو مناسب طور پر دیکھنے کے لیے ایک آخری معاملہ یہ ہے کہ اب چونکہ دہریے یہ کہتے ہیں کہ خُدا کے وجود پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ایمانداروں کا نظریہ غلط ہے، تو ایسی صورت میں اِس سوال کو مکمل طور پر اُلٹا موڑ کر دہریوں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر پہلی چیز جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دہریے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ "کوئی خُدا" موجود نہیں تو فلسفیانہ نقطہ نظر سے یہ دعویٰ بالکل غیر مستحکم ہے۔ ایک قانونی عالم اور فلسفی کے طور پر مورٹیمر ایڈلر کہتا ہے کہ "کسی وجود کے ہونے کا اثباتی/اقراری دعویٰ تو ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن کسی وجود کے نہ ہونے کا منفی اثباتی دعویٰ – وہ دعویٰ جو کسی وجود کے ہونے کا انکار کرے – کسی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔"مثال کے طور پر کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ لال رنگ کے عقاب پائے جاتےہیں اور اِس کے ساتھ ہی کوئی دوسرا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ لال رنگ کے عقاب بالکل بھی موجود نہیں ہوتے۔ پس پہلے بات کرنے والے کو صرف ایک لال رنگ کے عقاب کی ضرورت ہے جس سے وہ ثابت کر دے گا کہ لال رنگ کے عقاب پائے جاتے ہیں۔لیکن جس نے بعد میں دعویٰ کیا اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ساری کائنات کے اندر ڈھونڈےاور ہر ایک وقت میں ہر جگہ پر موجود ہو تاکہ کوئی لال رنگ کا عقاب اُسکی نظروں سے بچ نہ جائے جو کہ ایک ناممکن قسم کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمت کی رو سے ایماندار دہریے اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ خُدا کو نہیں مانتے لیکن وہ خُدا کے موجود نہ ہونے کو ثابت نہیں کر سکتے۔

اگلی بات یہ ہے کہ اِس اہم معاملے کو سمجھنا ضروری ہے جو سچائی کےاُن دعوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہوتا ہے جو کئے جاتے ہیں اور اُن کے حتمی اور نتیجہ خیز خلاصے کے لیے جو ثبوت چاہیے ہوتے ہیں اُن کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے سامنے لیموں پانی کے دو برتن رکھے جائیں اور کہا جائے کہ اِن دونوں میں سے ایک ذرا زیادہ تیز یا تُرش ہوگا، اب جبکہ زیادہ تیز یا تُرش مشروب پینے کے نتائج اتنے زیادہ نقصان دہ نہیں ہونگے اِس لیے آپ کو اُن میں سے کسی ایک برتن سے لیموں پانی پینے کا انتخاب کرنے کے لیے بہت زیادہ ثبوت درکار نہیں ہونگے۔ بہرحال اگر ایک گلا س کے اندر آپکا میزبان چینی ڈال دےا ور دوسرے میں چوہا مار زہر ڈال دے تو ایسی صورت میں انتخاب کرنے سے پہلے آپ کو زیادہ ثبوت و شواہد چاہیے ہونگے۔

پس جب کوئی شخص خُدا کے موجود ہونے اور دہریت کے درمیان اپنا انتخاب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کی حالت بھی ایسی ہی ہوتی ہے ۔ اب جبکہ دہریت پر یقین رکھنا ناقابلِ تلافی اور ابدی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اِس لیے یہ ضروری ہے کہ دہریت پرست اپنے اُس عقیدے کے بارےمیں بھاری ثبوت مہیا کرنے کے قابل ہو، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ دہریت خُدا کے وجود پر یقین رکھنے کے دعوے کے اوپر جس قسم کے الزامات لگاتی ہے وہ اپنے دعوے کے بارے میں اُس نوعیت کے ثبوت مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ اِس کی بجائے دہریےخود اور وہ سب لوگ جن کو وہ اپنا دعویٰ ماننے کے لیے تیار کر لیتے ہیں اپنے ہاتھوں کو باندھ کر اِس اُمید کے ساتھ ابدیت میں اُتر جاتے ہیں کہ اُنہیں اِس ناخوشگوار سچائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ ابدیت موجود ہے۔ جیسا کہ مورٹیمر ایڈلر کہتا ہے کہ "خُدا کے وجود کے حق میں اور خُدا کے وجود کے خلاف پیش کئے جانے والے دلائل کسی بھی دوسری چیز کے برعکس زندگی اور مختلف نتائج کے بارے میں زیادہ ثبوت پیش کرتے ہیں۔"

خُدا کے وجود کے لیے دلیل – خلاصہ

پس کیا خُدا پر ایمان رکھنے کا باحکمت ، منطقی اور مبنی بر دلیل جواز موجود ہے؟کیا خُدا کے وجود کے بارے میں کوئی حتمی باحکمت یا منطقی دلیل موجود ہے؟ یقینی طور پر جی ہاں موجود ہے۔ جبکہ دہریے جیسے کہ فرائیڈ اور اُسکے دوسرے ساتھی جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جو خُدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں اُنہیں اُن کی خواہشات کے پورا ہونے کی آس یا ڈھارس ملتی ہے، اُن کے لیے یہ افسوس کا مقام ہے کیونکہ در اصل یہ فرائیڈ اور اُس کے پیروکار ہی ہیں جو خُدا پر اِس لیے ایمان نہیں رکھتے تھے کیونکہ اُس سے اُنہیں اپنی خواہشات کے پورا ہونے کی ڈھارس ملتی تھی، وہ یہ اُمید کرتے تھے کہ خُدا نہیں ہے اِس لیے وہ کسی ہستی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں ہونگے اور اِس لیے کسی طرح کی عدالت کا سامنا بھی نہیں کریں گے۔ لیکن بائبل مُقدس کا خُدا فرائیڈ جیسے دہریوں کی سوچ اور دعوؤں کی تردید کرتا ہے اور اپنے وجود اور اِس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اُن سب لوگوں کے لیے خُدا کی عدالت جلد آنے والی ہے جو اندرونی طور پر تو یہ جانتے ہیں کہ خُدا موجود ہے لیکن اُس سچائی کو جھوٹ سے دبائے رکھتے ہیں (رومیوں 1 باب 20 آیت)۔ لیکن وہ سب جو اِن سب حقائق اور ثبوتوں کے جواب میں ایمان رکھتےہیں کہ ایک خالق حقیقی طور پر موجود ہے اُن سب کو خُدا اُس نجات کی پیشکش کرتا ہے جو اُس کے بیٹے ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے اپنی تکمیل کو پہنچی تھی: "لیکن جتنوں نے اُسے قبول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔وہ نہ خون سے نہ جسم کی خواہش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خدا سے پیداہوئے۔" (یوحنا 1 باب 12-13 آیات)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خُدا کے موجود ہونے کے بارے میں کوئی حتمی دلیل موجود ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries