اگر ہماری نجات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے تو بائبل برگشتگی کے خلاف اتنی سختی سے کیوں خبردار کرتی ہے؟


سوال: اگر ہماری نجات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے تو بائبل برگشتگی کے خلاف اتنی سختی سے کیوں خبردار کرتی ہے؟

جواب:
برگشتگی کے خلاف بائبل میں سختی سے خبردار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی تبدیلی کی پیمائش ظاہری پھل سے ہوتی ہے۔ جب یوحنا بپتسمہ دینے والا دریائے یردن میں لوگوں کو بپتسمہ دے رہا تھا، اُس نے اُن لوگوں کو خبردار کیا جو سمجھتے تھے کہ وہ "توبہ کے موافق پھل لانے" سے راستباز ہیں (متی۷:۳)۔ یسوع نے اُن لوگوں کو خبردار کیا جو اُس کی بات سُن رہے تھے کیونکہ وہ اُن کو پہاڑ پر کلام سُنا رہا تھا کہ ہر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے (متی۱۶:۷) اور ہر درخت جو اچھا پھل نہیں لاتا کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے (متی۱۹:۷)۔

انتباہ کا مقصد کچھ لوگوں کی پیش کردہ "آسانی سے ایمان لانے" والی بُلاہٹ کو روکنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اپنے آپ کو مسیحی کہنے سے زیادہ اہم مسیح کی پیروی کرنا ہے۔ کوئی بھی دعویٰ کر سکتا ہے کہ مسیح اُس کا نجات دہندہ ہے، لیکن جو حقیقی نجات یافتہ ہیں وہ ظاہری پھل سے ثابت کریں گے۔ کوئی شخص سوال کر سکتا ہے، "پھل لانے کا کیا مطلب ہے؟" ایک مسیحی کے پھل لانے کی واضح ترین مثال گلتیوں۲۲:۵۔۲۳ میں ملتی ہے جہاں پولوس روح القدس کے پھل محبت۔خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ اور پرہیزگاری کا ذکر کرتا ہے۔ مسیحی پھلوں کی اور بھی اقسام ہیں (جیسا کہ حمدوثنا کرنا، مسیح کے لئے روحیں جیتنا)، لیکن یہ فہرست ہمیں مسیحی رویے کا اچھا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ حقیقی مسیحی مسیح کے ساتھ چلتے ہوئے ترقی کے درجات کو بلند کرنے کے لئے اپنی زندگی میں اِن رویّوں کا مظاہرہ کرتے ہیں (۱۔پطرس۵:۱۔۸)۔

یہ حقیقی پھلدار شاگرد ہی ہیں جن کے پاس ازلی محافظت کی ضمانت ہے، اور وہ آخر تک محفوظ رہیں گے۔ بہت سے حوالہ جات ہیں جن میں یہ تعلیم واضح طور پر ملتی ہے۔ رومیوں30-29:8 اِس بات کا اشارہ کرتے ہوئے نجات کی "سنہری زنجیر" کا خاکہ پیش کرتی ہے کہ جن کو خُدا نے پہلے سے جانا اُن کو مقرر کیا، اُنکو بُلایا، راستباز ٹھہرایا، اور جلال بخشا۔ اِس راستے میں کچھ کھویا نہیں جارہا۔ افسیوں۱۳:۱۔۱۴ بیان کرتی ہے کہ خُدا نے روح القدس کے وسیلہ سے ہم پر مہر کی ہے جو کہ ہماری میراث کی ضمانت ہے جب تک ہمیں مل نہیں جاتی۔ یوحنا۲۹:۱۰ تصدیق کرتی ہے کہ خُدا کی بھیڑ کو اُس کے ہاتھ سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ اور بھی بہت سے حوالہ جات ہیں جس میں یہی تعلیم ملتی ہے۔ حقیقی ایمانداروں کی نجات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے۔

برگشتگی کے خلاف حوالہ جات کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہیں۔ پہلا، یہ حوالہ جات حقیقی ایمانداروں کو "اُن کی بُلاہٹ اور چناؤ" کو یقینی بنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ پولُس رسول ۲۔کرنتھیوں۵:۱۳ میں ہمیں اپنے آپ کو آزمانے کی نصیحت کرتا ہےکہ آیا ہم اپنے ایمان پر ہیں یا نہیں۔ اگر حقیقی ایماندار یسوع مسیح کے پھلدار پیروکار ہیں، تو ہم نجات کا ثبوت بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مسیحی متفرق درجات کے پھل پیدا کرتے ہیں جن کی بنیاد اُن کی روحانی نعمتوں اور خُدا کے ساتھ وفاداری کے لیول پر ہے۔ لیکن تمام مسیحی پھل ضرور پیدا کرتے ہیں، او ر اِس بات کا ثبوت ہم اپنے آپ کو آزما کر دیکھ سکتے ہیں۔

ایک مسیحی کی زندگی میں کچھ عرصہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جب کوئی ظاہری پھل نہ ملے۔ اور یہ وقت گناہ اور نافرمانی کا ہو گا۔ طویل نافرمانی کی مدت کے دوران خُدا "نجات کی شادمانی" کو ہم سے جُدا کر دیتا ہے۔ اِس لئے داؤد زبور۵۱ میں اپنی نجات کی شادمانی کو پھر پانے کے لئے دُعا کرتا ہے (زبور۱۲:۵۱)۔ جب ہم گناہ میں زندگی گزارتے ہیں تو ہم نجات کی شادمانی کھو دیتے ہیں۔ اِس لئے بائبل ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم" اپنے آپ کو آزمائیں کہ ایمان پر ہیں یا نہیں" (۲۔کرنتھیوں۵:۱۳)۔ جب ایک حقیقی مسیحی اپنے آپ کو آزماتا ہے اور اپنے آپ میں موجودہ پھل نہیں پاتا، تو نتیجہ میں اُسے توبہ کرنے اور خُدا کی طرف پھرنے کی رہنمائی ملتی ہے۔

برگشتگی کے متعلق حوالہ جات کا دوسرا مقصد برگشتہ انسان کو ظاہر کرنا ہے تاکہ ہم اُسے پہچان سکیں۔ برگشتہ شخص وہ ہے جو اپنے مذہبی ایمان کو چھوڑ دے۔ بائبل سے اِس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ برگشتہ لوگ وہ ہیں جو یسوع پر ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں لیکن اُسے حقیقی طور پر قبول نہیں کرتے۔ متی۱:۱۳۔۹ (بیج بونے والے کی تمثیل) کامل طور پر اِس حقیقت کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اِس تمثیل میں ایک بیج بونے والا چار قسم کی مٹی میں بیج بوتا ہے، بیج خُدا کے کلام کی علامت ہے، وہ سخت مٹی ، پتھریلی مٹی ، جھاڑیوں سے بھری مٹی ، اورکاشتکاری کے تیار اچھی زمین میں بیج بوتا ہے۔ یہ چار اقسام کی مٹی انجیل کے چار قسم کے ردِعمل کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلا خالصتاً انجیل کی تردید ہے۔ جبکہ دوسرے تین قبولیت کے مختلف درجات کو پیش کرتے ہیں۔ پتھریلی مٹی اور جھاڑیوں سے بھری مٹی اُن لوگوں کو پیش کرتی ہے جو شروع میں تو انجیل کو خوشی سے قبول کرتے ہیں، لیکن جب مصیبتیں (پتھریلی مٹی) یا دُنیا کی فکریں (جھاڑیاں) اُن کو دبا لیتی ہیں تو وہ ایمان سے پھر جاتے ہیں۔ یسوع اِن دو قسم کے ردِعمل کی مدد سے وضاحت کرتا ہے کہ اگرچہ وہ شروع میں انجیل کو قبول کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی پھل نہیں لا سکتے کیونکہ بیج (انجیل) اُن کے دلوں کی زمین میں نہیں اترا۔ صرف چوتھی قسم کی زمین جِسے خُدا نے تیار کیا بیج کو قبول کرنے اور پھل لانے کے قابل تھی۔ یسوع پہاڑی واعظ میں دوبارہ فرماتا ہے، "جو مُجھ سے اے خُداوند اے خُداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گا" (متی۲۱:۷)۔

ہو سکتا ہے کہ برگشتگی کے خلاف بائبل کی تنبیہ غیر معمولی لگے کہ حقیقی ایماندار کبھی بھی برگشتہ نہیں ہو گا۔ لیکن بائبل یہی سکھاتی ہے۔ ۱۔یوحنا۱۹:۲ خاص طور پر بیان کرتی ہے کہ جو برگشتہ ہوتے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی مسیحی نہیں تھے۔ اِس لئے برگشتگی کے خلاف بائبلی تنبیہ اُن لوگوں کے لئے ہے جو یسوع کو حقیقی طور پر قبول کئے بغیر "ایمان میں" ہوتے ہیں۔ عبرانیوں۴:۶۔۶ اور عبرانیوں۲۶:۱۰۔۲۹ جیسے حوالہ جات "حیلاباز" ایمانداروں کو تنبیہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو آزمائیں کہ وہ مُرتد ہیں اور وہ حقیقی نجات یافتہ نہیں ہیں۔ متی۲۲:۷۔۲۳ اُن "حیلا باز" ایمانداروں کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں خُدا ردّ کر دیتا ہے، ایمان کھونے کی وجہ سےنہیں بلکہ اِس حقیقت کی وجہ سے کہ خُدا کی اُن سے کبھی واقفیت ہی نہیں ہوئی تھی۔

بہت سےلوگ ہیں جو مسیح کی پہچان رکھنا چاہتے ہیں۔ ابدی زندگی اور برکت کون نہیں چاہتا؟ تاہم یسوع خبردار کرتاہے کہ ہم شاگردیت کی قدوقیمت کو ذہن میں رکھیں (لوقا۲۳:۹۔۲۶؛۲۵:۱۴۔۳۳)۔ حقیقی ایمانداروں قدوقیمت کو ذہن میں رکھتےہیں، جبکہ برگشتہ لوگوں نے نہیں رکھتے۔ برگشتہ لوگ جب ایمان کو چھوڑتے ہیں، تو ثبوت دیتے ہیں کہ وہ کبھی نجات یافتہ رہے ہی نہیں (۱۔یوحنا۱۹:۲)۔ برگشتگی نجات کھونا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ نجات کبھی ملی ہی نہیں تھی۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
اگر ہماری نجات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے تو بائبل برگشتگی کے خلاف اتنی سختی سے کیوں خبردار کرتی ہے؟