کیا ایک مسیحی کو ہیجانی کیفیت کو دور کرنے والی ادویات یا دیگر ذہنی صحت کی ادویات استعمال کرنی چاہیے؟


سوال: کیا ایک مسیحی کو ہیجانی کیفیت کو دور کرنے والی ادویات یا دیگر ذہنی صحت کی ادویات استعمال کرنی چاہیے؟

جواب:
شدید حملے، اضطرابی بے ترتیبی، خوف ودہشت ، اور ذہنی دباؤ لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کئی بار مذکورہ بالا بیماریاں انسان کی نفسیات میں پیدا ہو جاتی ہیں، بعض اوقات یہ کیمیائی عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، یا بعض اوقات جب نفسیات میں شروع ہونے والا کوئی مسلہ اِس کیمیائی عدم توازن میں شرکت کرتا اور بیماری پیدا کرتا ہے ۔اگر یہ معاملہ ہے، تو اِس عدم توازن کا مقابلہ کرنے کے لئے اکثر ادویات تجویز کی جاتی ہیں، جو نفسیاتی بیماری کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ کیا یہ گناہ ہے؟ بالکل نہیں۔ خُدا نے انسان کو طلب کے علم میں ترقی کرنے کی اجازت دی ہے، جِسے خُدا اکثر شفا بخش عمل میں استعمال کرتا ہے۔ کیا خُدا کو شفا دینے کے لئے انسان کی بنائی ہوئی ادویات کی ضرورت ہے؟ بالکل نہیں۔ لیکن خُدا نے ادویات کے استعمال کی اجازت دی ہے، اور اِن سے فائدہ نہ اُٹھانے کی بائبلی کوئی وجہ نہیں ہے۔

تاہم، روز مرہ زندگی میں شفائیہ مقاصد کے لئے ادویات کے استعمال اور ادویات پر مسلسل بھروسہ کرنےکے درمیان ایک مناسب لائن موجود ہے۔ ہمیں خُدا کو عظیم طبیب کے طور پر تسلیم کرنے ، اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ حقیقی طور پر شفا دینے کی قدرت صرف اُسی کے پاس ہے (یوحنا 14:4)۔ ہمیں اپنی شفا یابی کے لئے سب سے پہلے خُدا کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، شدید حملے کے معاملے سے نمٹنے کے لئے استعمال ہونے والی ادوایات اِس حد تک استعمال ہونی چاہیے کہ مصیبت زدہ کو خوف کے بنیادی سبب سے نمٹنے کی اجازت دے۔ یہ مصیبت زدہ کو بحال کرنے کے لئے استعمال ہونی چاہیے۔ تاہم، بہت سے مصیبت زدہ لوگ اپنی بیماری کے حقیقی سبب کے برتاؤ سے بچنے کے لئے دوا لیتے ہیں، یہ ذمہ داری سے انکار، خُدا کی شفا سے انکار، اور ممکنہ طور پر دوسروں کی معافی یا ماضی کے بعض واقعات کا احاطہ کرنے کی آزادی سے انکار ہو گا جو بیماری میں حصہ لے سکتی ہیں۔پھر یہ گناہ بن جاتا ہے، کیونکہ اِس کی بنیاد خودغرضی پر ہے۔

پھر علامات کے علاج کے لئے محدود بنیاد پر دوا لینا خُدا کےکلام پر بھروسہ کرنا ہے اور کسی کے دلِ و دماغ میں تبدیلی کا مظاہرہ کرنے کے لئے دانشمند مشورہ کرنا، عام طور پر دوا کی ضرورت کم کرنا ہے۔ [ایسا لگتا ہے کہ بعض ایسے افراد ہیں جن کے اجسام علامات کو روکنے کے لئے مخالفِ ہیجان کےطویل مُدتی استعمال کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ، بعض دیگر نفسیاتی خرابیاں، مثلا دو قُطبی (بائے پولر) بے ترتیبی اور پراگندہ ذہنی (سکِٹسا فرِینہ)ذیابیطس کے لئے انسولین کی طرح طویل مُدتی دوا سازی استعمال کا مطالبہ کرتی ہیں۔] مسیح میں ایماندارکی حثییت کی توثیق کی جاتی ہے، اور خُدا دل اور دماغ کے اُن پریشان علاقوں میں شفایابی لاتا ہے جو بیماری کا باعث بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر، پریشانی سے نمٹنے کے بعد، ہم اُس بات پر غور کر سکتے ہیں جو خُدا کا کلام خوف اور ایماندار کی زندگی میں اُس کی جگہ کے بارے میں کہتا ہے۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات کو پڑھنا اور اُن پرغور کرنا ایک علاج ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ اعتماد فراہم کرتے ہیں اور اُس حقیقت کو روشن کرتے ہیں جو خُدا کے فرزندوں پر عائد ہوتی ہیں: امثال باب 29 آیت 25؛ متی باب 6 آیت 34؛ یوحنا باب 8 آیت 32؛ رومیوں باب 8 آیات 28 تا39؛ باب 12 پہلی دو آیات؛ پہلا کرنتھیوں باب 10 آیت 13؛ دوسرا کرنتھیوں باب 10 آیت 5؛ فلپیوں باب 4 آیات 4تا 9؛ کُلسیوں باب 3 پہلی دو آیات؛ دوسرا تھِمُتھِیُس پہلا باب آیات 6تا 8؛ عبرانیوں باب 13 آیات 5تا 6؛ یعقوب پہلا باب آیات 2 تا 4؛ پہلا پطرس باب 5آیت 7؛ دوسرا پطرس پہلا باب آیات 3تا 4؛ پہلا یوحنا پہلا باب آیت 9؛ باب 4 آیات 18تا 19۔

خُدا مافوق الفطری انداز میں اور معجزانہ طور پر شفا دے سکتا ہے ۔ ہمیں اِس انجام کے لئے دُعا کرنی چاہیے۔ خُدا ادویات اور ڈاکٹروں کے وسیلہ سے بھی شفا دے سکتا ہے۔ ہمیں اِس انجام کے لئے بھی دُعا کرنی چاہیے۔ باوجود اِس بات کے کہ خُدا کونسا راستہ چُنتا ہے، ہمارا حتمی بھروسہ صرف اور صرف خُدا پر ہی ہونا چاہیے (متی باب 9آیت 22)۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
کیا ایک مسیحی کو ہیجانی کیفیت کو دور کرنے والی ادویات یا دیگر ذہنی صحت کی ادویات استعمال کرنی چاہیے؟