کیا یہ عقیدہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟



سوال: کیا یہ عقیدہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟

جواب:
ابدی ہلاکت کے عقیدہ کو ماننے والوں کا اعتقاد ہے کہ غیر ایمانادار جہنم میں ہمیشہ کے لئے اذیت یا عزاب جھیلنے کا تجربہ نہیں کرینگے بلکہ اس کے بدلے انہیں موت ساکت کردئے جائينگے یا برباد کئے جائینگے۔ کئی ایک اس عقیدہ کو ماننے والے لوں کا یہ دلکش عقیدہ ہے۔ اس لئے لوگوں کا یہ عقیدہ کہ ہمیشہ کے لئے ابدیت گزارینگے یہ انکے لئے بہت ہی دہشت ناک ثابت ہوگا۔ ایک شریر کی تقدیر کی بابت کلام پاک جو کہتا ہے کہ اس کا ایک محیط نظر اس سچائی کا انکشاف کرتا ہے جہنم کی جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ ابدی ہے۔ ابدی ہلاکت کے جو جو نتیجے سامنے آتے ہیں وہ مندرجہ ذیل اصولوں میں سے ایک یا ایک سے زیادہ ہیں : 1) گناہ کے نتائج 2) خدا کا انصاف 3) جہنم کی فطرت

جہنم کی فطرت سے متعلق ابدی ہلاکت آگ کی جھیل کے معنی سے غلط فہمی پیدا کرتی ہیں۔ سچ مچ میں اگر ایک انسان کو جلتی ہوئی آگ کے شعلوں کی جھیل میں ڈال دیا جائے تو، وہ آدمی یا عورت جلد ہی جل کر پوری طرح سے راکھ ہوجائیگا۔ کسی طرح آگ کی جھیل ایک جسمانی اور روحانی دنیا ہے۔ ایسا تو ہے نہیں کہ صرف انسان کے جسموں کو اٹھاکر آگ کی جھیل میں ڈال دیا جاتا ہے؟ بلکہ انسانی جسم میں انسان کے جسم کے ساتھ اس کی جان بھی ہے اور اس کا روح بھی ہے۔ اس لئے مادی آگ کے ذریعہ ایک روحانی فطرت کو نہیں جلایا جاسکتا۔ تو ایسا لگتا ہے کہ غیرایماندار لوگوں کو ایک ایسے جسم کے ساتھ جلایا جائیگا جو ابدی ہلاکت کے لئے تیار کیا گیا ہو جس طرح بچائے ہوئے لوگوں کو ایک جلالی جسم کے ساتھ زندہ کیا جائیگا (مکاشفہ 20:13 ؛ اعمال 24:15)۔ ان دونوں کے اجسام ایک ابدی مقدر کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔

ابدیت ایک دوسرا پہلو ہے جس سے ابدی ہلاکت کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام ہے۔ ابدی ہلاکت کے عقیدہ کو ماننے والے صحیح ہیں کیونکہ یونانی لفظ "ایونیون" جس کو عام طور سے "ابدی ہونے" کے معنی میں ترجمہ کیا گیا ہے مگر اس کی وضاحت "ابدی ہونے" کو پیش نہیں کرتا۔ یہ خاص طور سے عمر یعنی ایک خاص وقت کی مدت کا حوالہ دیتا ہے۔ کسی طرح نئے عہدنامہ میں یہ صاف ہے کہ "ایونیون" کو کبھی کبھی وقت کی ابدی لمبائی کا حوالہ پیش کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مکاشفہ 20:10 خاص طور سے شیطان، حیوان اور جھوٹے نبی کی بابت بیان کرتا ہے کہ "انہیں آگ کی جھیل میں ڈالا گیا اور وہ رات دن ابدالآباد عزاب میں رہینگے"۔ یہ صاف ہے کہ یہ تینوں آگ کی جھیل میں ڈالے جانے کے ذریعہ اس میں "جلتے رہینگے" مگر سوال یہ ہے کہ کیا غیر ایمانداروں کا مقدر کچھ فرق نہیں ہونا چاہئے (مکاشفہ15- 20:14)؟ جہنم کے غیرفانی ہونے کے لئے سب سے زیادہ یقین دلانے والا ثبوت ہے متی 25:46 : "اور غیر راستباز ہمیشہ کی سزا پائينگے مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی کے وارث ہونگے"۔ اس آیت میں ایک غیر ایماندار اور ایماندار کے مقدر کا حوالہ دینے کے لئے وہی یونانی لفظ "ایونیون" کا استعمال ہؤا ہے۔ اگر غیرایماندار "ابدیت کے لئے" عزاب میں رہینگے تو راستباز بھی "ابدیت کے لئے" ابدی زندگی کا تجربہ جنت میں کرینگے۔ اگر ایماندار جنت میں ہمیشہ کے لئے رہینگے تو غیر ایماندار بھی جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہینگے۔

ابدی ہلاکت کے عقیدہ کو ماننے والوں کے ذریعہ جہنم میں ابدی وارث ہونے کا دوسرا متواتر واقع ہونے والا اعتراض ہے کہ یہ خدا کے نزدیک بے انصافی ثابت ہوگا کہ غیر ایمانداروں کو جہنم میں گناہ کی تھوڑی مقدار کے لئےہمیشہ کی سزا کا اعلان کرے۔ یہ خدا کا کیسا انصاف ہوسکتا ہے کہ وہ ایک شخص کو لیکر جو صرف 70 سال دنیا میں جیتا ہے اور اس کو ہمیشہ کی سزا بھگتنے کے لئے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے گناہ خدا کی نظر میں اتنے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ وہ ابدی نتیجہ کا سبب بنتے ہیں کیونکہ یہ ایک ابدی خدا کے خلاف ارتکاب کیا جاتا ہے۔ جب داؤد بادشاہ سے زنا اور قتل سرذد ہؤا تو اس نے بیان کیا کہ (زبور 51:4). "...ائے خدا! میرے گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے اور میں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے اور وہ کام کیا ہے جو تیری نظر میں برا ہے" داؤد نے تو بت سبع اور اس کے شوہر اور یاہ کے خلاف گناہ کیا تھا مگر داؤد نے کسطرح دعوی کیا کہ اس نے صرف خدا کے خلاف گناہ کیا ہے۔ داؤد سمجھتا تھا کہ آخر کار سارے گناہ خدا کے خلاف ہوتے ہیں۔ خدا ایک ابدی اور نامحدود ہستی ہے۔ اس بنا پر تمام گناہ جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ابدی سزا کے لایق ہوتے ہیں۔ ہم نے جو گناہ کئے ہیں اس کی میعاد یا عرصہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ خدا کی سیرت یا اس کی خاصیت دیکھی جاتی ہے جس کے خلاف ہم گناہ کرتے ہیں۔

اور زیادہ ابدی ہلاکت کے عقیدہ کے پہلو کا خیال یہ ہے کہ ہم ممکن طور سے جنت میں خوش نہیں ہونگے یہ جانکر کہ ہمارے کچھ عزیز جہنم میں ابدی ہلاکت کے عزاب کو جھیل رہے ہیں۔ کسی طرح ہم آسمان میں پہنچینگے تو ہمارے پاس کسی کی بابت شکایت کرنے یا افسوس اورغم ظاہر کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔ مکاشفہ 21:4 ہم سے کہتا ہے کہ "خدا ہماری آنکھوں سے سارے آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا، نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پرانی چیزیں جاتی رہیں"۔ اگر ہمارے عزیزوں میں سے کچھ جنت میں نہ پائے جائیں، تو ہم سوفیصدی اس بات سے راضی ہونگے کہ وہ اس مقام کے لائق نہیں تھے۔ اور وہ خداوند یسوع مسیح کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرنے کے لے خود انکاری کی وجہ سے سزا یافتہ ہیں (یوحنا 3:16، 14:6)۔ اس بھید کو سمجھنا ہمارے لئے مشکل ہے کہ اس وقت ہمارے دلوں کی حالت کیسی کچھ ہوگی کیونکہ خدا ہمارے دلوں کو اس طرح مائل کريگا کہ ہم اپنے عزیزوں کو اپنے ساتھ پائے جانے کی کمی محسوس نہیں کر پائیں گے۔ جب ہم دنیا میں رہتے ہیں تو ہمارا دھیان اس طرف نہیں ہونا چاہئے کہ ہم جنت میں اپنے عزیزوں کے بغیر کسطرح شادمانی سے رہ سکیں گے بلکہ ہمارا دھیان اس بات پر ہونا چاہئے کہ ہمارے عزیز کسی بھی طرح سے مسیح پر ایمان لائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ اس مقام میں رہ سکیں۔

جہنم ہی شاید پہلا سبب ہوگا جس کے لئے خدا نے یسوع کو بھیجا تاکہ ہمارے گناہوں کا خمیازہ ادا کرے۔ موت کے بعد آگ میں جلنا یا تڑپنا یہ خوفناک مقدر نہیں ہے بلکہ جہنم کی آگ میں ابدیت گزارنا ہی ایک خوفناک مقدر ہے۔ یسوع کی موت ہمارے گناہوں کا ہمیشہ کا قرضہ چکانے کے لئے ہمیشہ کی موت تھی جس کو ہمیں ابدیت کے لئے جہنم میں ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے (2کرنتھیوں 5:21)۔ جب ہم اس پر ایمان لاتے ہیں تب ہی سے بچائے گئے ہیں، ہمارے گناہ معاف کئے جاچکے ہیں، ہم پاک وصاف کئے جاچکے ہیں اور جنت میں ہمارے لئے ایک ابدی مکان کا وعدہ کیا جاچکا ہے۔ پر اگر ہم ہمیشہ کی زندگی جو خدا کا انعام ہے اس کا انکار کرتے ہیں تو اس فیصلہ کے ابدی نتیجہ کا سامنا کرینگے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا یہ عقیدہ کلام پاک سے تعلق رکھتا ہے؟