settings icon
share icon
سوال

کیا فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں ؟

جواب


ایک فرشتے کا سب سے بنیادی ترین تصور ایک پَروں والے انسان کا ہے۔ یہ بائبلی تصور نہیں ہے۔ بائبل اکثر فرشتوں کو انسانوں کے طور پر ظاہر ہوتے ہوئے پیش کرتی ہے۔ بہرحال اِس سے اِس بات کا اشارہ نہیں ملتا کہ فرشتے اپنے جوہر میں انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ مزید برآں بائبل میں شاذو نادر ہی فرشتوں کو پَروں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال بائبل میں فرشتوں کی دو ایسی اقسام کا ضرور ذکر ملتا ہے جن کے پَر ہیں: کروبیم (خروج 25باب20آیت؛ حزقی 10باب) اور سرافیم (یسعیاہ 6باب)۔ کروبیم اور سرافیم دو اقسام کے فرشتے ہیں جوممکنہ طور پر فرشتوں کے سب سے برتر گروہوں میں سے ہیں۔ پس اِس سے کافی حد تک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کچھ فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ فرشتے رُوحانی مخلوقات ہیں (عبرانیوں 1باب14 آیات)۔ حزقی ایل 10باب میں کروبیوں اور یسعیاہ 6باب میں سرافیم کے بارےمیں وضاحت انتہائی غیر معمولی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حزقی ایل اور یسعیاہ حیرت انگیز آسمانی رویاؤں اور فرشتوں کے متعلق مناسب یا پورے طور پر بیان کرنے میں قدرے دشواری محسوس کر رہے تھے۔ رُوحانی مخلوقات ہوتے ہوئے، یہ بات ہمارے لیے بالکل غیر واضح ہے کہ فرشتوں کو پَروں کی ضرورت کیوں ہوگی۔ ایک رُوحانی مخلوق کو اُڑنے کے لیے پَروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرشتے ہماری مادی کائنات کے اصولوں کے ماتحت یا پابند نہیں ہیں۔

پس کیا فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں؟ جی ہاں، کچھ فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں۔ پس ہمیں بائبل میں بیان کردہ کچھ فرشتوں کے پَروں کے حامل ہونے اور پَروں کے حامل نہ ہونے کے متعلق اپنی محدود سوچ اور ادراک کی بنیاد پر اِس بات کا تعین کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ فرشتے کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries