settings icon
share icon
سوال

کیا فرشتے گاتے ہیں ؟

جواب


یہ پوچھنا عجیب لگ سکتا ہے کہ کیا فرشتے گاتے ہیں، کیونکہ روایتی حکمت یہی کہتی ہے کہ "یقیناً وہ گاتے ہیں "فرشتوں کو عام طور پر گیتوں کی کتابیں پکڑے ہوئے، سارنگی بجاتے ہوئے یا دیگر طرح کے موسیقی کے آلات کے ساتھ کچھ کرتے ہوئے دکھایا جانا ایک عام بات ہے۔ اور لوگ اِس طرح کی تصویر کشی کو لیکر کرسمس کی کہانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں: "فرشتوں کی گروہ نے یسوع کی پیدایش کے موقع پر چرواہوں کے سامنے گیت گایا تھا، کیا ایسا ہی نہیں تھا؟ "ابھی مسئلہ یہ ہے کہ بائبل کے اندر پیش کی جانے والی کرسمس کی کہانی کے اندر گانے کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس کے حوالے سے کلامِ مُقدس کے اندر بہت ہی کم تحریری شواہد موجود ہیں ۔

اِس مسئلے سےمنسلک سب سے واضح حوالہ غالباً ایوب 38باب7آیت ہے جو کہتا ہے کہ اِس دُنیا کی تخلیق کے وقت "صبح کے ستارے مِل کر گاتے تھے اور خُدا کے سب بیٹے خُوشی سے للکارتے تھے۔ "عبرانی شاعری کے اندر "صبح کے ستاروں " کو"فرشتوں" کے مترادف قرار دیا جاتا ہے اور گانے کو "خوشگوار انداز سے چیخنے" کے مترادف کہا جاتا ہے۔ بہرحال عبرانی لفظ "گایا" کا ترجمہ ہمیشہ ہی موسیقی کو ظاہر نہیں کرتا۔ اِس کا ترجمہ "خوشی کے ساتھ شور مچانے"، " بازگشت والی چیخ مارنے" یا " بہت زیادہ خوش ہونے" کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں جس لفظ کا ترجمہ "فرشتے" کیا گیا ہے اُس کا نیو انٹرنیشنل ورژن کے اندر لغوی ترجمہ "خُدا کے بیٹے" کیا گیا ہے۔

مکاشفہ 5باب ایک اور ایسا حوالہ ہے جو اِس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ فرشتے گاتے ہیں۔ 9 آیت کچھ ہستیوں کے "آسمان پر ایک نیا گیت گانے" کے بارے میں بات کرتی ہے۔ یہ گیت گانے والی ہستیاں دراصل چوبیس بزرگ اور غالباً چار جاندار –غالباً فرشتے ہیں لیکن اُنہیں خصوصی طور پر فرشتے کہا نہیں گیا۔ پھر 11 آیت کے اندر "بہت سے فرشتوں کی آواز" سنی جاتی ہے۔ لیکن یہاں پر لفظ "بولے" جا رہے ہیں نہ کہ "گائے " جا رہے ہیں ۔ 12 آیت کے اندر فرشتوں کے لشکر کے الفاظ قریباً ویسے ہی ہیں جسے کہ 9 آیت کے اندر گیت کے الفاظ تھے، لیکن اُن فرشتوں کے الفاظ کو خصوصی طور پر گیت نہیں کہا گیا۔ پس مکاشفہ 5 باب کے اندر کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ فرشتے گاتے ہیں۔

کرسمس کی کہانی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ لوقا 2باب13-14 آیات بیان کرتی ہیں کہ "اور یکایک اُس فرشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گُروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہر ہُوئی کہ۔عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجیدہو اور زمین پر اُن آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح۔ " ایک بار پھر دیکھیں کہ یہاں پر بھی جو الفاظ فرشتے ادا کر رہے ہیں وہ "گائے " نہیں گئے بلکہ "بولے " گئے ہیں۔ اب چونکہ گانا بھی بولنے ہی کی ایک قسم ہے تو یہاں پر اِس تصور کو خارج ازامکان نہیں سمجھا جا سکتا کہ فرشتوں نے گایا تھا –لیکن یہ حوالہ بھی اِس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دیتا۔

مختصراً یہ کہ بائبل اِس حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں دیتی کہ فرشتے گاتے ہیں یا نہیں۔ خُدا نے انسان کو موسیقی اور گانے کے ساتھ فطری تعلق کے ساتھ پیدا کیا، خاص طور پر عبادت کے تعلق سے (افسیوں 5باب19آیت)۔ جب ہم خُدا کی حمد و ثناء کرتے ہیں تو اکثر گیت گاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکاشفہ 5باب اور لوقا 2 باب میں فرشتوں کے الفاظ حمدوستائش کے الفاظ ہیں اور چونکہ اُن کی ادبی صنف شاعرانہ ہے اِس لیے اِس بات کی دلیل دی جاتی ہے کہ فرشتے گا رہے ہیں۔ اور یہ ایک بالکل منطقی بات لگے گی کہ خُدا نے فرشتوں کو بھی موسیقی کے رجحان کے ساتھ پیدا کیا ہے جیسے کہ اُس نے انسان کو کیا ہے۔ لیکن ہم اِس حوالے سے کٹر پن کا شکار نہیں ہو سکتے۔ فرشتے بائبل میں گا رہے ہوں یا بول رہے ہوں، وہ پرستش اور حمد و ثناء کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اُن کی اِس مثال پر عمل کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا فرشتے گاتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries