فرشتے نر ہیں یا مادہ؟



سوال: فرشتے نر ہیں یا مادہ؟

جواب:
کوئی شک نہیں کہ فرشتوں کے متعلق بائبل میں ہر حوالہ مذکر جنس کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ فرشتہ کے لئے نئے عہد نامہ میں یونانی لفظ "اینگیلوس" ہے جو صیغہ مذکر ہی ہے۔ حقیقت میں فرشتہ کے لئے مونث صیغہ نہیں ہے۔ گرائمر کے مطابق تین جنسیں ہیں۔ مذکر (انگلش میں، ہی، ہِم، ہِز) مونث (انگلش میں، شِی، ہر، ہرز)، اور جنسِ مشترک یعنی نیوٹر (انگلش میں، اِٹ، اِٹس)۔ فرشتوں کو صیغہ مذکر کے علاوہ کبھی پیش نہیں کیا گیا۔ بائبل میں فرشتوں کے بہت سے ظہورات میں ایک بھی ایسا فرشتہ نہیں جس کو "شِی" یا "اِٹ" کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔ اِس کے علاوہ، جب فرشتے ظاہر ہوتے تھے تو وہ ہمیشہ انسان مردوں کےلباس میں ظاہر ہوتے تھے (پیدائش 2:18، 16؛ حزقی ایل 2:9)۔ بائبل میں کوئی بھی فرشتہ عورت کے لباس میں کبھی ظاہر نہیں ہوا۔

بائبل میں چند ہی فرشتوں میکائیل، جبرائیل، لُوسیفر کو نام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جن کے نام مردوں والے نام ہیں اور اِنہیں ہمیشہ صیغہ مذکر میں پیش کیا گیا ہے۔ "مریم اُس (انگلش میں، ہِز) کے کلام سے بہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیسا سلام ہے" (لوقا 29:1)؛ "اے صُبح کے ستارے (لوسیفر، صُبح کا بیٹا)" (یسعیاہ 12:14)۔ فرشتوں کے متعلق دیگر حوالہ جات بھی ہمیشہ صیغہ مذکر میں پیش کئے گئے ہیں۔ قضاۃ 21:6 میں، فرشتہ اپنے (انگلش میں ہِز) ہاتھ میں عصا لئےدکھائی دیتا ہے۔ زکریاہ فرشتہ سے ایک سوال پوچھتا ہے اور آگاہ کرتا ہے کہ اُس نے (انگلش میں لفظ" ہی" استعمال ہوا ہے) جواب دیا (زکریاہ 19:1)۔ مکاشفہ میں تمام فرشتے "انگلش لفظ، ہی" کے طور بات کرتے ہیں، اور اُنکے لئے مضافِ اَلِیہ لفظ (ہِز)استعمال ہوا ہے (مکاشفہ 1:20 ;17:19 ;17 ,4 ,2:16 ;19:14 ;5 ,1:10)۔

بعض لوگ زکریاہ 9:5کو مونث فرشتوں کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ آیت فرماتی ہے، "پھر میں نے آنکھ اُٹھا کر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دو عورتیں نکل آئیں اور ہوا اُن کے بازوؤں میں بھری تھی کیونکہ اُن کے لقلق کے سے بازو تھے اور وہ ایفہ کو آسمان و زمین کے درمیان اُٹھا لے گئیں"۔ یاد رکھیں اِس نبوتی رویا میں "عورتوں" کو فرشتے نہیں کہا گیا۔ اُنکو عبرانی میں نشی یم (عورتیں) ہی کہا گیا ہے، جیسا کہ آیات 7 اور 8 میں ایفہ میں عورت شرارت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اِس کے برعکس جس فرشتے کا ذکر زکریاہ کر رہا ہے اُُس کے لئے عبرانی میں بالکل مختلف لفظ "ملک" استعمال کیا گیا ہے جس کے معانی "فرشتہ" یا "پیغام رساں" کے ہیں ۔ حقیقت ہے کہ زکریاہ کی رویا میں عورتوں کے پروں کی وجہ سے ہمارے دماغ میں فرشتے آتے ہیں، لیکن ہمیں اِس بات سے بھی محتاط رہنا چاہیے کہ اصل میں متن کیا کہہ رہا ہے۔ رویا حقیقی شخصیات یا چیزوں جیسا کہ اُڑتا ہوا طومار جسے زکریاہ اِسی باب کے شروع میں دیکھتا ہے کی مکمل تصویر نہیں ہوتی۔

بے جنس فرشتوں کے بارے میں اُلجھن متی 30:22 کو غلط پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے، جو بیان کرتی ہے کہ آسمان پر بیاہ شادی نہیں ہوتی کیونکہ ہم "آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوں گے"۔ اِس حقیقت نے کہ آسمان پر بیاہ شادی نہیں ہوتی بعض لوگوں کو ایمان لانے میں رہنمائی کی ہے کہ فرشتے "بے جنس" ہوتے ہیں کیونکہ (سوچا جاتاہے)کہ جنس کا مقصد افزائش نسل ہے اور اگر شادی نہیں ہو گی اور نہ افزائش نسل ہو گی تو جنس (صنف) کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایسا نظریہ ہے جو متن سے ثابت نہیں ہوتا۔ اِس حقیقت کا کہ وہاں شادی نہیں ہوتی ہرگز مطلب نہیں کہ وہاں جنس نہیں ہے۔ فرشتوں کے بارے میں بطورِ مرد بہت سے حوالہ جات بے جنس فرشتوں کے نظریہ کی تردید کرتےہیں۔ فرشتے شادی نہیں کرتے لیکن ہم یہ نظریہ نہیں بنا سکتے کہ "شادی نہ کرنے" کا مطلب "بے جنس" ہونا ہے۔

زُبان کے لحاظ سے صنف کو جنسی تعلقات کے طور پر سمجھا نہیں جاتا۔ بلکہ پوری بائبل میں مذکر صنف اسمِ ضمیر کا اطلاق روحانی وجود پر جنس کی نسبت اختیار کے تعلق سے زیادہ ہوا ہے۔ خُدا ہمیشہ اپنے آپ کو مذکر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ روح القدس کو کبھی بھی "انگلش اِٹ" کے طور بیان نہیں کیا گیا۔ خُدا شخصی اور حاکمانہ ، مذکر صنف میں اسمِ ضمیر ہے۔ روحانی مخلوقات کو مذکر کے علاوہ کسی اور طرح پیش کرنا بالکل نامناسب ہو گا،کیونکہ خُدا نے اُن کو اپنا اختیار دیا ہے تاکہ وہ اُس کی قدرت کو استعمال کر سکیں (2سلاطین 35:19)، اُس کا پیغام پہنچا سکیں(لوقا10:2)اور اُسے زمین پر ظاہر کر سکیں۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



فرشتے نر ہیں یا مادہ؟