settings icon
share icon
سوال

اِس کا کیا مطلب ہے کہ شیطان اپنے آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے ؟

جواب


نور اور تاریکی بھلائی اور بُرائی کے لیے استعمال ہونے والے استعارے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک نورانی فرشتے کو دیکھتا ہے تو اُس کو خود بخود ایسا محسوس ہوگا کہ نظر آنے والی ذات اچھی ہے، کیونکہ انسانی تاریخ کے اندر بُرائی کا تاریکی کے ساتھ اور اچھائی و بھلائی کا نور کے ساتھ جوڑا جانے والا تعلق ایک بہت طاقتور مثال یا نمونہ ہے۔ بائبل مُقدس کے اندر نور سچائی اور خُدا کی لا تبدیل فطرت کے لیے استعمال ہونے والا استعارہ ہے (یعقوب 1باب 17آیت)۔اِس کو بائبل میں باربار استعمال کیا گیا ہے تاکہ ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے کہ خُدا مکمل طور پر اچھا، بھلا اور سچا ہے (1 یوحنا 1باب 5 آیت)۔ جب ہم "نور میں " ہوتے ہیں تو ہم اُس کے ساتھ ہوتے ہیں (1 پطرس 2باب9آیت)۔ وہ ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ہم اُس کے نور میں شامل ہوں (1 یوحنا 1باب7آیت) کیونکہ اُس کا مقصد ہی ہمیں نور عطا کرنا تھا (یوحنا 12باب46آیت)۔ نور وہ مقام ہے جس میں محبت بستی ہے اور وہ آرام دہ ہے (1 یوحنا 2باب9-10 آیات)۔ خُدا نے نور کو تخلیق کیا ہے (پیدایش 1باب3آیت)، وہ نور میں رہتا ہے (1 تیمتھیس 6باب16آیت) اور وہ نور کو اِنسانوں کے دِلوں میں ڈالتا ہے تاکہ ہم اُسے دیکھ اور جان سکیں اور اُس کی سچائی کو سمجھ سکیں۔

پس جب 2 کرنتھیوں 11باب14آیت ہمیں بتاتی ہے کہ " شیطان بھی اپنے آپ کو نُورانی فرشتہ کا ہم شکل بنا لیتا ہے " تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نور کے ساتھ ہماری محبت کو دیکھتے ہوئے ہمیں دھوکا دینے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے بارے میں یہ خیال کریں کہ وہ اچھا، سچا، محبت کرنے والا اور طاقتور ہے – یعنی اُس میں وہ سبھی خوبیاں ہیں جو خُدا کی فطرت کا حصہ ہیں۔ اُس کی طرف سے اپنے آپ کو ایک کالی ، شیطانی سینگوں والی ذات کے طور پر پیش کرنا لوگوں کی اکثریت کے قریب زیادہ دلکش نہیں ہوگا۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ تاریکی کی طرف نہیں بلکہ روشنی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پس شیطان ہمیں اپنی طرف اور اپنے جھوٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک نورانی مخلوق کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔

پس ہم اِس بات میں کیسے امتیاز کر سکتے ہیں کہ کونسا نور خُدا کا ہے اور کونسا نور شیطان کا ہے؟ہمارے دِل و دماغ بڑی آسانی کے ساتھ متضاد پیغامات کی بدولت الجھ جاتے ہیں۔ہم اِس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہم درست راہ پر ہیں؟ 119 زبور بیان کرتا ہے کہ " تیری باتوں کی تشرِیح نُور بخشتی ہے۔ وہ سادہ دِلوں کو عقل مند بناتی ہے " (130آیت)۔ خُدا کے کلام کے اندر قدرت ہے۔ جس طرح خُدا کے کلام کرنے کی بدولت حقیقی نور وجود میں آ گیا تھا، اُس کے کلام کرنے سے ہمارے دِلوں کے اندر رُوحانی نور بھی آ سکتا ہے۔اُس کے کلام کے اندر – اُس کی آواز کی پہچان – ہمیں خُدا کے اچھے اور حقیقی نور اور شیطان کے جعلی نور کے درمیان امتیاز کرنے میں مدد کرے گی۔

شیطان ہمارے سامنے گناہ کو ایک خوشگوار اور خوبصورت چیز کے طور پر پیش کرتا ہے، ایک ایسی چیز جس کی خواہش کی جاتی ہے اور جو جھوٹی تعلیم کو روشن خیالی اور زندگی کو تبدیل کر دینے والی چیز ظاہر کرتی ہے۔ لاکھوں لوگ اُس کی طرف سے پیش کی جانے والی گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ خُدا کے کلام کی سچائی کونہیں جانتے ۔ یسعیاہ 8باب20-22آیات اُس تاریکی کو بیان کرتی ہیں جو خُدا کے کلام کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں آتی ہے۔ اسرائیل کے لوگ شیطان سے دھوکا کھا کر بہت طرح کے فالگیروں اور جادوگروں کے ذریعے سے سچائی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ اُن سے یسعیاہ کہتا ہے کہ " شرِیعت اور شہادت پر نظر کرو۔ اگر وہ اِس کلام کے مطابق نہ بولیں تو اُن کے لئے صُبح نہ ہو گی۔تب وہ مُلک میں بھوکے اور خستہ حال پھریں گے اور یُوں ہو گا کہ جب وہ بھوکے ہوں تو جان سے بیزار ہوں گے اوراپنے بادشاہ اور اپنے خُدا پر لعنت کریں گے اور اپنے مُنہ آسمان کی طرف اُٹھائیں گے۔پھر زمین کی طرف دیکھیں گے اور ناگہان تنگی اور تارِیکی یعنی ظلمتِ اندوہ اور تِیرگی میں کھدیڑے جائیں گے۔ "

تاریکی خُدا کے کلام کے بغیر اور خُدا کے کلام کے علاوہ سچائی کو تلاش کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے، جیسا کہ یسعیاہ نبی کہتا ہے کہ جب لوگوں پر "صبح" نہیں ہوتی تو وہ اندھیرے میں بھٹکتے رہتے ہیں اور ایسی حالت میں اکثر خُدا پر غصہ کرتے ہیں اور مدد کے لیے اُس کے پاس آنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان کا نورانی فرشتے کا روپ دھارنا اُن کی زندگیوں میں کاریگر ثابت ہوتا ہے اور یہ شیطان کے لیے بہت موثر ہوتا ہے۔ وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کر دیتا ہےا ور ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ خُدا جھوٹا ہے اور یہ کہ خُدا ہی تاریکی کا ذریعہ ہے۔ پھر ہم اپنی اُس پریشانی میں اپنی ساری نفرت کا رُخ اُسی ذات کی طرف موڑ دیتے ہیں جو ہم بچا سکتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اِس کا کیا مطلب ہے کہ شیطان اپنے آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries