امیلیئنل ازم کیا ہے؟


سوال: امیلیئنل ازم کیا ہے؟

جواب:
امیلیئنل ازم ایک نام ہے جو اِس عقیدہ کو دیا جاتا ہے کہ مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت لفظی طور پر نہیں ہو گی۔ اِس عقیدے کو ماننے والے امیلیئنل اِسٹ کہلاتے ہیں۔ انگلش لفظ امیلیئنل ازم کے ساتھ انگلش حروفِ تہجی اے سابقہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کے معنی "نہیں" کے ہیں۔ اِس وجہ سے امیلیئنل ازم کے معنی "ہزار سالہ بادشاہت نہیں" بنتے ہیں۔ یہ عقیدہ بڑے پیمانے پر قبول شُدہ نظریہ پرِی ملینیئل (کہ مسیح کی آمد ثانی اُس کی ہزار سالہ بادشاہت سے پہلے ہو گی، اور ایک ہزار سالہ بادشاہت لفظی ہے) اور کم پیمانے پر قبول شُدہ نظریہ پوسٹ ملینیئل (کہ مسیح کی آمد ثانی مسیحیوں کی اِس زمین پر بادشاہت کے قائم ہونے کے بعد واقع ہو گی، نہ کہ خود مسیح کی) سے مختلف ہے۔

تاہم، امیلیئنل اِسٹ اپنے منصفانہ رویہ میں یہ ایما ن نہیں رکھتے کہ ایک ہزار سالہ بادشاہت بالکل نہیں ہو گی۔ وہ صرف مسیح کی لفظی طور پر زمین پر ایک ہزار سالہ بادشاہت کو نہیں مانتے ۔ اِس کی بجائے، وہ ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح اب داؤد کے تخت پر بیٹھا ہے اور یہ موجودہ کلیسیائی دور ایک بادشاہت ہے جس پر مسیح حکمرانی کر رہا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسیح تخت پر بیٹھا ہے، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ وہی تخت ہے جِسے بائبل داؤد کے تخت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بے شک مسیح اب بادشاہی کر رہا ہے، کیونکہ وہ خُدا ہے۔ پھر بھی اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایک ہزار سالہ بادشاہی کر رہا ہے۔

خُدا کے لئے اسرائیل کے ساتھ اپنے وعدوں کو برقرار رکھنے اور داؤد کے ساتھ کئے گئے عہود (2سموئیل 16-8:7؛ 5:23؛ زبور 4-3:89)، کو برقرار رکھنے کے لئے اِس زمین پر لفظی بادشاہت کرنا لازمی ہے۔ اِس میں شک کرنا خُدا کی خواہش اور/یا اُس کے وعدوں کو برقرار رکھنے کی قابلیت پر سوال پیدا کرنا ہے، اور اِس سے دیگر علمِ الٰہیات کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر خُدا اسرائیل سے کئے گئے اپنے وعدوں کو "ابدی" عہد قرار دے کر اپنے وعدوں سے پھرے گا تو ہم اُس کے باقی وعدوں بشمول یسوع مسیح میں ایمانداروں کے ساتھ کئے گئے نجات کے وعدے پر کس طرح یقین کر سکتے ہیں۔ واحد حل یہی ہے کہ ہم یقین کریں کہ وہ اپنے وعدوں کو لفظی طور پر پورا کرے گا۔

بائبل کے واضح دلائل کہ بادشاہی زمینی اور لفظی ہو گی مندرجہ ذیل ہیں:

1) مسیح کے پاؤں اُس کی بادشاہی کے قائم ہونے سے پہلے حقیقی طور پر کوہِ زیتون کو چھوئیں گے (زکریاہ 4:14، 9)۔

2) بادشاہی کے دوران، مسیح زمین پر عدل و انصاف قائم کرے گا (یرمیاہ 23:5-8)۔

3) بادشاہی آسمان سے نیچے ہو گی (دانی ایل 14-13:7؛ 27)۔

4) نبیوں نے بادشاہی کے دوران ڈرامائی تبدیلیوں کے بارے میں پیشن گوئیاں کی ہیں (اعمال 3:21؛ یسعیاہ 35: 1-2، 11:6-9، 29:18، 65:20-22؛ حزقی ایل 47:1-12؛ عاموس 9:11-15)۔

5) مکاشفہ میں موجود واقعات کی تواریخی ترتیب دُنیا کی تاریخ کے اختتام سے پہلے ایک زمینی بادشاہی کا اشارہ کرتی ہے (مکاشفہ 20)۔

امیلینیئل نظریہ ایک غیر تکمیلی پیشن گوئی کے لئے ایک طریقہ کار اور ایک غیر نبوتی حوالے اور تکمیلی پیشن گوئی کے لئے ایک دوسرے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے سامنے آیا۔ غیر نبوتی حوالے اور تکمیلی پیشن گوئی کی تشریح لفظی یا عام طور پر کی جاتی ہے۔ لیکن امیلینیئل اِسٹ کے مطابق غیر تکمیلی پیشن گوئیوں کی تشریح روحانی یا غیر لفظی طور پر ہونی چاہیے۔ امیلینئل ازم کے ماننے والوں کا ایمان ہے کہ غیر تکمیلی پیشن گوئی کا "روحانی" مطالعہ عبارت کا عام مطالعہ ہے۔ اِسے دوہرے علم التفسیر (علم التفسیر تفسیر کے اصولوں کا مطالعہ ہے) کا استعمال کہا جاتاہے۔ امیلینئل اِسٹ فرض کرتے ہیں کہ زیادہ تر یا تمام تر غیر تکمیلی پیشن گوئیاں علامتی، مجازی، روحانی زُبان میں لکھی گئی ہیں۔ اِس لئے امیلینیئل اِسٹ اِن حوالہ جات کے اُن حصوں کے الفاظ کے لئے عام، سیاق و سباق کے معنی کے علاوہ مختلف معنی فراہم کریں گے۔

اِس انداز میں، غیر تکمیلی پیشن گوئیوں کی تشریح کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر معنوں کی اجازت دیتی ہے۔ جب تک آپ بائبل کی عام مفہوم میں تشریح کرتے ہیں، اِس کے معنی ایک نہیں ہوں گے۔ حالانکہ خُدا جو بائبل کا حتمی مصنف ہے جب انسانی مصنفین کو لکھنے کے لئے الہام دیا ایک مخصوص معنی کا حامل تھا۔ اگرچہ بائبل کے ایک حوالے کا اطلاق بہت سی زندگیوں پر ہو سکتا ہے، لیکن صرف ایک ہی مطلب ہے، اور اُس کا مطلب وہی ہے جس کا اِرادہ خُدا نے کیا ہے۔ اِس کے علاوہ، تکمیلی پیشن گوئی کا لفظی طور پر پورا ہونا فرض کرنے کے لئے سب کے لئے بہترین وجہ ہے کہ غیر تکمیلی پیشن گوئی بھی لفظی طور پر پوری ہو گی۔ مسیح کی پہلی آمد سے متعلق تمام پیشن گوئیاں لفظی طور پر پوری ہوئیں۔ اِس لئے مسیح کی دوسری آمد سے متعلق پیشن گوئیوں کے لفظی طور پر پورا ہونے کی بھی توقع کرنی چاہیے ۔ اِن وجوہات کی بنا پر، غیر تکمیلی پیشن گوئی کی مجازی تشریح مسترد ہونی چاہیے اورغیر تکمیلی پیشن گوئی کی ایک لفظی یا عام تشریح کو قبول کرنا چاہیے۔ امیلینیئل ازم غیر موافق علم التفسیر ، یعنی غیر تکمیلی پیشن گوئی کو تکمیلی پیشن گوئی سے الگ طریقے سے تشریح کرنے اور استعمال کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
امیلیئنل ازم کیا ہے؟