settings icon
share icon
سوال

ہم اپنی دُعاؤں کا اختتام "آمین" کے ساتھ کیوں کرتے ہیں؟

جواب


جس عبرانی لفظ کا ترجمہ "آمین" کیا گیا ہے اُس کے لغوی معنی ہیں "سچ میں/واقعی" یا "ایسا ہی ہو"۔ لفظ "آمین" نئے عہد نامے کے یونانی متن میں بھی پایا گیا ہے اور اِس کا مطلب بالکل وہی ہے۔ پرانے عہد نامے میں "آمین" لفظ کا قریباً آدھا استعمال تو اِستثنا کی کتاب کے اندر ہی پایا جاتا ہے۔ وہاں پر مرقوم ہر ایک معاملے میں جب خُدا کی طرف سےمختلف طرح کے گناہوں پر لعنت کا اعلان کیا جاتا تھا تو لوگ اِس کے جواب میں یہ لفظ استعمال کرتے تھے۔ جب بھی کوئی اعلان کیا جاتا تھا تواُس کے آخر میں کہا جاتا کہ " او رسب لوگ کہیں آمین" (استثنا 27باب15-26 آیات)۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنے خُدا کی طرف سے راست سزا کی تعریف کی اور جواب دیا کہ ایسا ہی ہو۔ لفظ آمین سننے والوں کے اِس یقین کی تصدیق کرتا تھا کہ جن سزاؤں کے بارے میں اُنہوں نے سُنا ہے وہ سچی اور یقینی تھیں۔

پرانے عہد نامے کے سات حوالہ جات لفظ آمین کو خُد اکی تمجید کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 1 تواریخ 16باب36 آیت میں پایا جانےو الا یہ فقرہ " اور سب لوگ بول اُٹھے آمین اور اُنہوں نے خُداوند کی ستایش کی " آمین اور پرستش کے درمیان تعلق کی ایک مثال ہے۔ نحمیاہ 5باب13 آیت اور 8باب6 آیت میں بنی اسرائیل کے لوگ عزرا کی طرف سے پرستش کے ذریعے خُدا کی تعریف اور تابعداری کی تصدیق کرتے ہیں ۔ خُدا کی تعریف کرنے کا سب سے بڑا اظہار اُس کی تابعداری کرنا ہےاور جب ہم اُس کے احکامات اور اعلانات پر "آمین" کہتے ہیں تو ہماری طرف سے کی گئی اُسکی تعریف اُس کے کانوں کو میٹھی موسیقی جیسی معلوم ہوتی ہے۔

نئے عہد نامے کے سبھی مصنفین اپنی تصانیف/خطوط کے اختتام پر "آمین" کا استعمال کرتے ہیں۔ یوحنا رسول اِس لفظ کو اپنی انجیل کے آخر میں، اپنے تینوں خطوط اور پھر مکاشفہ کی کتاب کے آخر میں استعمال کرتا ہے۔ مکاشفہ کی کتاب میں 9 بار اِس لفط کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر دفعہ یہ خُدا کی تعریف و تمجید ، خُداوند کی آ مدِ ثانی اور اخیر زمانے کے تعلق سے استعمال ہوا ہے۔ پولس رسول اپنے سبھی خطوط میں کلیسیاؤں کے لیے برکت چاہتے ہوئے اِس لفظ کااِستعمال کرتا ہے اور ایسا ہی پطرس، یوحنا اور یہوداہ اپنے خطوط کے اندر کرتے ہیں۔ مضمرات یہ ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ کہہ رہے ہیں کہ "خُدا حقیقی معنوں میں تمہیں یہ نعمتیں عطا کرے۔"

جب مسیحی اپنی دُعاؤں کے اختتام پر" آمین" کہتے ہیں تو رسولوں کے نمونے پر عمل پیرا ہو رہے ہوتے ہیں اور خُدا سے التجا کرتے ہیں کہ "براہِ مہربانی جیسا ہم نے تجھ سے التجا کی ہے ویسا ہی ہونے دے۔"آمین اور تابعداری کے ساتھ خُدا کی تعریف کے درمیان تعلق کو یاد رکھتے ہوئے چاہیے کہ ہماری تمام دُعائیں خُدا کی مرضی کے مطابق اُس کی حضوری میں پیش کی جائیں۔ پھر جب ہم "آمین" کہیں گے تو ہمیں یقین ہو سکتا ہے کہ خُدا "ایسا ہی ہو یعنی آمین" کا جواب دے گا اور ہماری درخواستیں منظور کرے گا (یوحنا14باب13 آیت؛ 1 یوحنا 5باب14 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم اپنی دُعاؤں کا اختتام "آمین" کے ساتھ کیوں کرتے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries