settings icon
share icon
سوال

کیا یہ واقعی سچ ہے کہ خُدا کے لیے سب کچھ کرناممکن ہے؟

جواب


اگرچہ خُدا ہر ایک وہ کام کر سکتا ہے جو کرنے کی اُسکی مرضی ہو، لیکن خُدا کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرے گا جو اُس کی پاک مرضی کے خلاف ہو یا اُس کے پاک مقاصد کی تردید کرتا ہو۔ وہ کبھی بھی کوئی گناہ آلود کام نہیں کر سکتا، مثال کے طور پر ، چونکہ وہ مکمل طور پر پاک ہے اور گناہ اُس کی پاک فطرت کے بالکل خلاف عمل ہے۔

اِس کے باوجود کئی ایک ایسے لوگ ہیں جو یہ سوال کریں گے کہ کسی قادرِ مطلق ہستی کے لیے کیا کوئی بھی کام کرنا ممکن نہیں ہوگا؟ یہاں پر ایک مثال مدد کر سکتی ہے: "کیا خُدا کوئی ایسا پتھر تخلیق کر سکتا ہے جسے وہ خود ہی نہ اُٹھا سکے؟"اِس سوال کے اندر ایک متناقضہ پایا جاتا ہے۔ اگر خُدا اِس قدر طاقت اور قدرت والا ہے تو اُس کے لیے لامحدود وزن کا پتھر تخلیق کرنا کیونکر نا ممکن ہوگا؟اور اب چونکہ اُس پتھر کا وزن لا محدود نوعیت کا ہوگا تو خُدا کے لیے اُسے اُٹھا پانا کیونکر ممکن ہوگا؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ خُدا کبھی بھی اپنی ذات کی نفی نہیں کرے گا، اور یہاں پر بھی یہی معاملہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اِس طرح کی کسی بات پر غور بھی نہیں کرے گا، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ اپنی ہی ذات کو اپنی ذات کے خلاف لا کھڑا کر دے گا، اور یہ ایک بیوقوفانہ عمل ہوگا جس کی اُس کی بادشاہی کے مقاصد کے اندر کسی طرح کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

اِس بات پر غور کرنا اہم ہے کہ ہم پوری بائبل کے اندر دیکھتے ہیں خُدا قادرِ مطلق –ساری طاقت کا مالک – ہے اور کوئی بھی چیز یا ذات اُس کے نہ تو برابر ہے نہ ہی اُس پر حاوی ہے۔ جس وقت خُدا نے دریائے یردن کے اندر اپنے لوگوں کے گزرنے کے لیے خشک راہ بنا دی تو اُس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یشوع 4باب24آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے ایسا اِس لیے کیا "تاکہ زمین کی سب قومیں جان لیں کہ خُداوند کا ہاتھ قوِی ہے اور وہ خُداوند تمہارے خُدا سے ہمیشہ ڈرتی رہیں۔ " بالکل اِسی طرح یرمیاہ 32باب26-27آیات میں لکھا ہے کہ " تب خُداوند کا کلام یرمِیاہ پر نازِل ہُوا کہ۔دیکھ مَیں خُداوند تمام بشر کا خُدا ہُوں ۔ کیا میرے لئے کوئی کام دُشوار ہے؟ " اور اِسی تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہم عبرانیوں 1باب 3 آیت کے اندر دیکھتے ہیں کہ "وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہو کر سب چیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے ۔"یہ اور بائبل کے اندر دیگر بہت ساری آیات ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا ہر ایک وہ کام کر سکتا ہے جو اُس کی پاک مرضی میں شامل ہے۔

لوقا کی انجیل 1باب36-37آیات کے اندر فرشتے نے مریم سے کہا تھاکہ "اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشبع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے۔کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثیر نہ ہو گا۔ " کچھ لوگ ایسی صورت میں پوچھتے ہیں کہ ، "اگر خُدا کے لیے کچھ بھی کرنا نا ممکن نہیں ہےتو کیا وہ مجھے ایسے قوت دے سکتا ہے کہ "مَیں کسی تیر رفتار ترین کار سے بھی زیادہ تیز دوڑ پاؤں، یا پھر مَیں چھلانگ لگاؤں اور دُنیا کی سب سے اونچی عمارت کو پھلانگ جاؤں؟"خُدا کے لیے اِن چیزوں کو ممکن بنانا بالکل آسان ہے اور یہ سب کچھ اُس کے اختیار میں ہے لیکن کلام میں کہیں پر بھی ہمیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ خُدا ایسی چیزوں کو ممکن بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔ جو کچھ بھی خُدا کے لیے ممکن ہے وہ لازمی طور پر اُس کو کر کے دکھانے کاپابند نہیں ہے۔ اِس لیے ہمیں اچھی طرح سے کلامِ مُقدس سے واقف ہونا چاہیے تاکہ ہم اچھی طرح سے جان سکیں کہ خُد اکی خواہش کیا ہے اور اُس نے کن کن چیزوں کے بارے میں وعدہ کیا ہے، اور اِس طرح سے ہم یہ جان پائیں کہ وہ ہماری زندگیوں میں کن چیزوں کو ممکن بنائے گا۔

جب ہم اپنے آسمانی باپ کے تمام مافوق ا لفطرت قدرت والے کاموں کا بائبل مُقدس کے اندر مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ انسانی واقعات و معاملات کو وقت کے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہےجن میں ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو بظاہر نا ممکن نظر آتی ہیں، لیکن وہ یہ سب کچھ اپنے جلالی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یہ واقعی سچ ہے کہ خُدا کے لیے سب کچھ کرناممکن ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries