کیا ایلینس جیسی چیزیں یا یو ایف اوس جیسی چیزیں پائی جاتی ہیں؟



سوال: کیا ایلینس جیسی چیزیں یا یو ایف اوس جیسی چیزیں پائی جاتی ہیں؟

جواب:
سب سے پہلے ایلینس کی شرح دیکھیں: "ایلینس وہ ہستی یا وجود ہیں جو اخلاقی چناؤ کرنے کے قابل ہیں جن کے پاس شاطر دماغ، جزبہ اور ارادہ یا مرضی پائی جاتی ہے"۔ اس کے بعد کچھ سائینسی حقیقت واقعہ ہے۔

1- سائینسدانوں نے ہمارے شمسی نظام کے قریب قریب ہر ایک سیارہ میں فضائے بسیط کے ہوائی یان بھیج رکھے ہیں۔ ان سیاروں کی جانچ کرنے کے بعد سائینسدانوں نے سب کو خارج کردیا مگر مارس اور ممکن طور سے جو پیٹر کا ایک چاند ہے وہ اس قابل ہے کہ اس میں زندگی کے آثار موجود ہیں۔

2- 1976 میں ممالک متحدہ امریکہ نے مارس میں دو ہوائی یان بھیجے تھے۔ ہر ایک میں اوزار موجود تھے جو خود اختیاری سے مریخی بالو کو کھود کر ایک ڈبہ میں اکٹھے کرکے نمونہ بطور زمین واپس لاسکتے تھے۔ پھر اس کو جانچا گیا تھا کہ کیا اس میں زندگی کے آثار ہیں کہ نہیں۔ جانچ کے بعد معلوم پڑا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں اگر آپ زمین کے کسی انتہائی بنجر ریگستان کی مٹی کی یا انٹارٹیکا کی جمی ہوئي دھول کی جانچ کرینگے تو ان میں جسم حیوانی یا جسم نباتی کے خرد افراط سے پائينگے۔ پھر 1977 میں ممالک متحدہ امریکہ نے ایک ہوائی قزاق پیتھ فائینڈر مارس کے دوسری سطح پر بھیجا تھا۔ اس ہوائی قزاق نے وہاں کی مٹی کے کچھ اور نمونے اکھٹے کئے اور اس کو زمین پر لانے کے بعد ان پر مزید تحقیقات کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں بھی باکل سے زندگی کے کوئی آثار نہیں پائے گئے۔ ان دنوں میں کئی ایک مشن نے ہوائي یان کے ذریعہ مارس کو اپنا نشانہ بنایا، مگر ہر بار وہی نتیجہ حاصل ہوتا رہا۔

3- فلکیات کے ماہر لگاتار شمسی نظام کی کچھ دوری پر نئے سیاروں کی دریافت کررہے ہیں تلاش کررہے ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ شمسی نظام کے اردگرد اتنے سیاروں کا وجود ثابت کرتا ہے کہ کائینات کے ان سیاروں میں کہیں نہ کہیں زندگی کے آثار ہونے چاہئے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی سیارہ اپنے اندر زندگی رکھنے کو ثابت نہیں رکھتا۔ ان سیاروں اور ہماری زمین کے درمیان جو نہایت بڑا فاصلہ ہے وہ ان میں زندگی کو سہارار دینے کی ناقابلیت کا فیصلہ کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ ان میں زندگی ناممکن ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ صرف ہماری زمین ہی نظام شمسی میں زندگی کو سہارا دیتی ہے نشو نما کےماہر نہایت سنجیدہ طور سے نظام شمسی میں ایک دوسرے سیارے کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس میں زندگی نشو نماپانے کا جو تصور ہے اس اس کوبڑھاوا دے سکے۔ نظام شمسی کے ارد گرد کئی ایک سیارے ہیں مگر ان کی بابت تھوڑی معلومات کے علاوہ زیادہ کچھ نہیں ہے کہ وہ زندگی کے سہارے کو منظوری دیتے ہیں یا نہیں۔

تو پھر کلام پاک کیا کہتا ہے؟ یہی کہ زمین اور انسانی نسل خدا کی خلقت میں بے مثل ہیں۔ پیدائش کا پہلا باب تعلیم دیتا ہے کہ یہاں تک کہ سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کرنے سے پہلے ہی خدا نے زمین کو پیدا کر دیا تھا۔ اعمال 26، 24 :17 بیان کرتاہے کہ "جس خدا نے دنیا اور اس کی سب چیزوں کو پیدا کیا وہ آسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا اور اس نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام روئے زمین پر رہنے کے لئے پیدا کیں اور ان کی میعادیں اور سکونت کی حدیں مقرر کیں"۔

سب سے پہلا انسان جو بنایا گیا تھا اس میں کوئی گناہ نہیں تھا۔ اور ہر ایک چیز جو بنائی گئی تھی وہ "بہت اچھی" اور اپنے آپ میں نہایت خوبصورت تھی (پیدائش 1:31)۔ مگر جب پہلے انسان نے گناہ کیا (پیدائش 3 باب)، تو اس کا نتیجہ سب طرح کی پریشانیوں کا ہوا جس میں" بیماری اور موت شامل ہے۔ یہاں تک کہ خداکے حضور جانوروں میں شخصی گناہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی (اور وہ اخلاقی مخلوقات نہیں ہیں) اس کے باوجود بھی وہ مصیبت اٹھاتے اور مرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ انسان کے گناہ کی لعنت ہے (رومیوں 22-19 :8)۔ یسوع مسیح نے مر کر ہمارے گناہوں کی سزا کو دور کیا جس کے ہم مستحق تھے۔ اور جب اس کی دوبارہ آمد ہوگی تو وہ اس لعنت کو بگاڑ دے گا جو آدم کے زمانہ سے موجود تھی۔ (مکاشفہ 22-21 باب) اس بات کو نوٹ کریں کہ رومیوں 22-19 :8 بیان کرتی ہے کہ "مخلوقات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے"۔ اور یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مسیح بنی انسان کی خاطر مرنے کے لئے آیا۔ اس کی موت صرف ایک بار ہوئی (عبرانیوں 10:10؛ 28-26 :9 ؛ 7:27)۔

اگر بحث کی خاطر اخلاقی مخلوقات دیگر سیاروں میں موجود ہوتے تو وہ بھی کراہتے۔ اگر ابھی نہیں تو کسی نہ کسی دن وہ ضرور کراہتے جب دنیا کی ہر ایک چیز بڑے شور و غل کے ساتھ برباد ہو جاتے اور اجرام فلک حرارت کی شدت سے پگھل جاتے (2 پطرس 3:10)۔ اگر انہوں نے کبھی گناہ نہ کیا ہوتا تو پھر خدا انہیں سزا دینے کے سبب سے بے انصاف ٹھہرتا۔ پر اگر انہوں نے گناہ کیا تھا، اور مسیح ان کے لئے ایک بار مر سکتا تھا (جو اس نے زمین پر کیا )، پھر وہ اپنے گناہ میں چھوڑ دئے جاتے، یہ بھی خدا کی سیرت یا خصلت کے بر خلاف ہوتا (2 پطرس 3:9)۔ یہ ہم کو بغیر سلجھائے ہوئے الٹی بات پر لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ جب تک کہ جی ہاں ! زمین سے باہر کوئی اخلاقی ہستیاں نہیں پائی جاتی۔

دیگر سیاروں میں غیر اخلاقی اور غیر حساس زندگی کا ترتیب کے ساتھ قائم کرنے کی بابت کیا کہیں گے؟ کیا انجان سیارہ میں اشنہ جات یا یہاں تک کہ کتے بلی وغیرہ موجود رہ سکتے ہیں؟ قیاس کے طور پر ایسا ہو سکتا ہے اور یہ بائبل کے کسی متن کو خاص نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مگر یہ یقینی طور سے مشکوک ثابت کرے گا، جب ایسے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی جیسے "جبکہ تمام مخلوقات اذیت پاتی ہے (کراہتی ہے) تو خدا کا کیا مقصد ہوگا کہ وہ غیر اخلاق اور غیر حساس مخلوق کو دور کے سیاروں میں اذیت پانے دے؟

اختتام پر کلام پاک ہم کو کوئی سبب پیش نہیں کہ ہم یہ اعتقاد کریں کہ ہماری کائنات کو چھوڑ دیگر مقاموں میں زندگی پائی جاتی ہے۔ در اصل کلام پاک ہمارے لئے کئی ایک خاص اسباب پیش کرتا ہے کہ دیگر سیاروں میں کیوں زندگی نہیں ہو سکتی۔ جی ہاں۔ کئی ایک عجیب وغریب اور وہ باتیں جنہیں سمجھنا مشکل ہے ہمارے پاس دستیاب نہیں ہے۔ ایسا کوئی سبب نہیں ہے کہ ہم ایلینس یا یو ایف اوس جیسے غیر معمولی اشیا پر یقین کریں۔ اگر ان مفروضہ واقعات کے لئے قابل فہم سبب ہے تو یہ روحانی ہونے جیسا ہے اور زیادہ خاص طور سے اصلیت میں شیطانی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا ایلینس جیسی چیزیں یا یو ایف اوس جیسی چیزیں پائی جاتی ہیں؟