لا ادریت کیا ہے؟



سوال: لا ادریت کیا ہے؟

جواب:
لا ادریت ایک نظریہ ہے کہ خداکے وجود کو جاننا یا ثابت کرنا نا ممکن ہے۔ لفظ "لا ادریت" کے اصل معنی ہیں "بغیر علم کے"۔ لاادریت ذہنی طور سے زیادہ دہریت کا وفادار تصور ہے۔ دہریت دعوی کرتاہےکہ خداکا وجود ہے ہی نہیں۔ جو کہ ایک غیر تصدیقی حالت ہے۔ لاادریت دلالت کرتاہےکہ خدا کے وجود کو ثابت نہیں کیا جا سکتا نہ ہی ثبوت کے بغیر انکار کیا جا سکتا ہے، یہ کہ اس بات کو جاننا نا ممکن ہے کہ ہر صورت میں خداکا وجود ہے۔ اس نظریہ سے دیکھا جائے تو لا ادریت صحیح ہے کہ خداکے وجود کو تجربیت کی بنا پر ثابت نہیں کیا جا سکتایا غلط ثابت کیا جا سکتاہے۔

کلام پاک ہم سے کہتا ہے کہ ہم کو ایمان کے ساتھ قبول کرنا ضروری ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ عبرانیوں 11:6 ہم سے کہتا ہے کہ "بغیر ایمان کے خداکے پسند آنا نا ممکن ہے،اس لئے کہ خداکے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتاہے" خدا روح ہے (یوحنا 4:24)۔اس لئے نہ تو وہ دیکھا جا سکتاہے اور نہ چھوا جا سکتاہے جب تک کہ خدا خود سے اپنی مرضی سے کسی شخص پر ظاہر نہ ہو وہ ہمارے احساسات سے غا‏ئب ہے (رومیوں 1:2)۔ کلام پاک اعلان کرتاہے کہ خداکے وجود کو صاف طور سےکائنات میں دیکھا جا سکتاہے (زبور 4-1 :19)۔ قدرت میں اس کا احساس کیا جا سکتاہے ۔ (رومیوں 22-18 :1)۔ اور ہمارے اپنے دلوں میں اسے تصدیق کیاجا سکتاہے (واعظ 3:11)۔

لا ادریت کے ماننے والے لوگ ایک فیصلہ لینے کے لئے نا دانستہ ہیں یا پھر خدا کے وجود کے خلاف ہیں۔ ان کے عقیدہ کے بارے میں ایسا کہا جاتاہےکہ یہ ان کی "ٹانگیں پھیلا کر سرحد پر کھڑے ہونے" کی آخری حالت ہے۔ خدا پرست لوگ خدا کے وجود پراعتقاد کرتےہیں، ملحد لوگ خداکے وجود پر یقین نہیں کرتے، لا ادریت کے ماننے والےاعتقاد کرتےہیں کہ ہم کو خداکے وجود پربا اعتقاد یا بے اعتقاد ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی بھی حالت میں خدا کے وجود پر یقین کرنا نا ممکن ہے۔

بحث و مباحثہ کی خاطر آئیے ہم خداکے وجود کی صاف اور نا قابل انکار ثبوتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم خدا کے ماننے والے اور لا ادریت کے نظریہ کو مساوی حالات پر لے آتے ہیں، جو موت کے بعد زندگی کے معاملہ میں سب سے زیادہ اعتقاد کے لئے احساس دلاتاہے تو یہ صحیح ہے۔ اگر کوئي خدا نہیں ہے تو خداکو ماننے والے اور لا ادریت کے ماننے والے جب وہ مرتے ہیں تو موت سےباہر آنےکے لئے چھوڑ دیئے جاتے یا ترک کر دیئے جاتے ۔ اگر کوئی خداہے تو خداکو ماننے والے اور لاادریت کے ماننے والے دونوں کے پاس کوئی تو ہوتاجواب دینے کے لئے جب وہ مرتے ہیں۔ اس ظاہر تناسب سےیقینی طور پر یہ لازم ہو جاتا ہےکہ لاادریت کے بدلے خدا کو ماننے والے بن جائیں۔ اگر نظریہ نہ تو ثابت کیا جا سکتایاغلط ثابت کیا جا سکتاہے تو یہ عقلمندی نظر آتی ہے کہ ایک نظریہ کی کوشش کو اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی جائے تاکہ اس کا آخری نتیجہ بے حد اور غیر فانی طور سے زیادہ خواہشمند ہو سکے۔

شکوں کا ہونا عام بات ہے۔ دنیا میں کئی ایک باتیں ہیں جنہیں ہم نہیں سمجھتے۔ اکثر لوگ خداکے وجود کو لے کر شک کرتےہیں کیونکہ وہ اسے نہیں سمجھتے اور خدا جو کرتاہے اور جو ہونے دیتاہے اس سے متفق نہیں ہیں یا راضی نہیں ہیں۔کسی طرح ایک محدود بنی انسان بطور ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ ہم ایک لا محدود خداکے ساتھ موازنہ کر سکتے ہیں۔ رومیوں 34-33 :11 "واہ! خداکی دولت اور حکمت اور علم کیاہی عمیق ہے! اسکے فیصلے کس قدر ادراک سے پرے اور اس کی راہیں کیا ہی بے نشان ہیں! خداوند کی عقل کو کس نے جانا؟ یاکون اس کا صلاحکار ہوا؟ ہم کو ایمان کے ذریعے خدا پر اعتقاد ہونا چاہئے اور ایمان سے اس کی راہوں پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ بڑے اچھمبھے طریقے سے خدا خود کو ظاہر کرنے کے لئے خواہش مند اور تیار ہے جو اس پر اعتقاد کرینگے۔ (استثنا 4:29) اعلان کر تا ہے کہ "لیکن اگر وہاں بھی اگر تم خداوند اپنے خدا کے طالب ہو تو وہ تجھ کو مل جائیگا بشرطیکہ تو اپنے پورے دل سےاور اپنی جان سے اسے ڈھونڈے"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



لا ادریت کیا ہے؟