settings icon
share icon
سوال

کائنات کی عمر کیا ہے ؟

جواب


پیدایش 1باب1 آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ "خُدا نے اِبتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کِیا۔ " بائبل تخلیق کی کوئی تاریخ نہیں بتاتی؛ ہمیں صرف یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ "ابتدا میں " ہوا تھا۔ عبرانی زبان میں "ابتدا/آغاز" کے لیے استعمال ہونے والا لفظ بیرشیتھ ہے جس کے معنی ہیں "سر"۔

تمام مسیحی اِس بات پر متفق ہیں کہ خُدا نے کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ جہاں پر مسیحیوں کے تصورات کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے وہ ہے پیدایش 1باب1 آیت کے اندر لفظ "دن" (عبرانی میں یوم)۔ جو لوگ اِس کا لغوی ترجمہ کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ یہ چوبیس گھنٹے کے حقیقی دِن کی طرف اشارہ ہے ، اُن کا خیال ہے کہ زمین نسبتاً کم عمر ہے۔ جو لوگ لفظ "دن" کی ایک غیر لغوی اور شاعرانہ تشریح کے تصور کو تھامے ہوئے ہیں وہ مانتے ہیں کہ زمین بہت ہی زیادہ پرانی ہے۔

بہت سارے علماء اور مسیحی سائنسدانوں کا خیال ہےکہ پیدایش کی کتاب کے بیان کے اندر لفظ "دن" سے مُراد حقیقی 24 گھنٹوں کا دن ہے۔ اِس سے پیدایش 1 باب کے بیان کے اندر "اور شام ہوئی اور صبح ہوئی" جیسے الفاظ کے بار بار دہرائے جانے کی بھی واضح تشریح ہوتی ہے۔ ایک شام اور ایک صبح ایک پورے دن کی طرف اشارہ کرتے ہیں (یہودی حساب کتاب میں غروبِ آفتاب کے وقت ایک نیا دن شروع ہو جاتا ہے)۔ اِس پر دوسرے لوگ کلامِ مُقدس کے اندر لفظ "دن" کے غیر لغوی معنی کے استعمال کی طرف اشارہ کرنا شروع کر دیتے ہیں ، مثلاً "خُداوند کا دن"، اور دلیل دیتے ہیں کہ یہاں پر پیدایش میں شام سے صبح تک کا دورانیہ ایک دِن کے برابر نہیں ہے بلکہ یہ ایک دَور کے آغاز اور اُس کے اختتام کی طرف اشارہ کرتا ہے (پیدایش 2اب4 آیت؛ 2باب27 آیت)۔

اگرپیدایش 5 اور 11 ابواب اور پرانے عہد نامے کی تاریخ کے اندر پیش کردہ دیگر نسب ناموں کی بڑی سختی کے ساتھ لغوی تشریح کی جائے تو آدم کی تخلیق کی تاریخ کا اندازہ قریباً 4000 قبل از مسیح کے قریب لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ آدم کی تخلیق کی تاریخ ہوگی، نہ کہ اِس دُنیا کی تخلیق کی تاریخ، اور پھر کائنات کی تخلیق کی تاریخ کو تو چھوڑ ہی دیں۔ پیدایش 1 باب کے بیان کے اندر مختلف طرح کے "وقفوں" کے امکان کے حوالے سے بھی نظریات پیش کئے جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ کہنے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ بائبل کائنات کی اصل عمر کے بارے میں خصوصی طور پر کوئی واضح معلومات نہیں دیتی۔ Got Questions منسٹریز زمین کے کم عمر ہونے کے نظریے کی حامی ہے اور اِس بات کو مانتی ہے کہ پیدایش 1 باب کے اندر بیان کردہ "دن" کا ترجمہ اور تشریح لغوی معنوں میں کی جانی چاہیے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں اِس تصور سے شدید اختلاف نہیں ہے کہ زمین اور کائنات 6000 سالوں سے بھی کافی زیادہ پُرانی ہو سکتی ہے۔ زمین کی تخلیق اور عمر کے بارے میں پائے جانے والا اختلافات کی وضاحت چاہے "وقفوں" کے نظریے سے کی جائے، چاہے یہ مانا جائے کہ خُدا نے کائنات کو "مکمل اور موجودہ" حالت میں ہی تخلیق کیا تھا، یا پھر کوئی اور بات یا نظریہ پیش کیا جائے –6000 سال سے پرانی کائنات کا نظریہ کسی طرح کے کوئی خاطر خواہ بائبلی اور الٰہیاتی مسائل پیدا نہیں کرتا۔

حتمی بات یہ ہے کہ اِس کائنات کی اصل عمر کو نہ تو کلام کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سائنس کی مدد سے۔ چاہے یہ کائنات 6000 سال پرانی ہو یا پھر یہ اربوں سال پرانی ہو، دونوں تصورات(اور اِن کے درمیان میں بھی جو کچھ ہے) اُنکی بنیاد کسی طرح کے ٹھوس ثبوتوں پر نہیں بلکہ ایمان اور مختلف طرح کے مفروضوں پر ہی ہے۔ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ زمین کی ایک مخصوص عمر ہے اور اُن کی طرف سے پیش کئے جانے والے شواہد کی وہی تشریح اور تعریف کی جانی چاہیے جو وہ چاہتے ہیں تو اُس صورت میں اُن لوگوں کے اصل مقصد پر سوال کرنا ہمارے لیے دانشمندی کی بات ہوگی۔ اِس سوال کے چاروں طرف ہر طرح کی اچھی ، بُری وجوہات، منطق اور محرکات موجود ہیں، حتمی طور پر تو بعد میں صرف ایک ہی نظریہ سچا ثابت ہوگا، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اِس سوال کے حوالے سے کچھ باتیں یا تصورات دوسرے تصورات کے مقابلے میں بائبل کی تعلیمات کے زیادہ قریب ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کائنات کی عمر کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries