کیا ہمارے لیے عمر کی کوئی حد مقرر ہےجو بتاتی ہے کہ ہم کتنا عرصہ جی سکتے ہیں؟


سوال: کیا ہمارے لیے عمر کی کوئی حد مقرر ہےجو بتاتی ہے کہ ہم کتنا عرصہ جی سکتے ہیں؟

جواب:
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پیدایش6باب 3آیت میں بنی نو ع انسان کی عمر کی حد مقرر کردی گئی ہے جو زیادہ سے زیادہ 120سال ہو گی ۔ "تب خُداوند نے کہا کہ میری رُوح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تو بھی اُس کی عمر ایک سو بیس برس کی ہو گی"۔ تاہم پیدائش11 باب میں بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جوطوفان کے بعد بھی120 سال سے زیادہ عرصہ تک جیتے رہے۔ اِس خیال کے پیشِ نظر بعض لوگ پیدائش6باب 3آیت کی تشریح سے ایک عام اصول اخذ کرتے ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ لوگ 120 سال کی عمر سے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے ۔ طوفان کے بعد زندگی کی حد ڈرامائی انداز میں کم ہوتی چلی گئی (پیدایش5باب اور پیدایش11باب کا موازنہ کریں )اور آخر میں120سال سے بھی کم ہو گئی (پیدائش11باب 24آیت )۔خروج کے وقت تک قریباً کوئی بھی ایسا شخص نہیں بچا تھا جس نے اتنی لمبی عمر پائی ہو۔ صرف موسیٰ اور ہارون ہی ایسے دو لوگ ہیں جن کا ہمیں ذکر ملتا ہے کہ اُنہوں نے اتنی لمبی عمریں پائی تھیں (گنتی 33 باب 39آیت؛ استثنا 34 باب 7 آیت)۔ پس یہ جان لینا ضروری ہے کہ 120 سال کی عمرکی حد کوئی بہت مشکل ترین چیز نہیں تھی، یہ ایک ایسی عمر تھی جس کے حوالے سے توقع کی جاتی تھی کہ اکثر صحت مند لوگ اِس حد تک پہنچ پائیں گے۔

تاہم ایک اور تشریح یہ ہے کہ پیدائش 6باب 3آیت اصل میں خُدا کا یہ اعلان تھا کہ خُداکے اُس وقت کئے گئے کلام کے 120 سال بعد طوفان آ جائے گا۔ یہ تفسیر اس حوالے کے سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی تشریح معلوم ہوتی ہے۔ بنی نو ع انسان کے ایام کا ختم ہونا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طوفان میں بنی نو ع انسان کو تباہ کر دیا جائے گا ۔ بعض لوگ اِس تشریح کی مخالفت اِس بنیاد پر کرتے ہیں کہ جب خُدا نے نوح کو کشتی بنانے کا حکم دیا تو پیدائش 5باب 32آیت کے مطابق اُس وقت نوح 500برس کا تھا اور جب طوفان آیا تو اُس وقت نوح کی عمر 600 سال تھی (پیدائش7باب 6آیت )؛ اِس صورت میں بنی نو ع انسان کو 120 کی بجائے صرف 100 سال کا عرصہ دیا گیا تھا ۔ تاہم پیدائش 6باب 3آیت میں طوفان کے اعلان کا وقت بیان نہیں کیا گیا ۔ اِس کے علاوہ پیدایش 5باب 32آیت اس وقت کی نشاندہی نہیں کرتی جب خُدا نے نوح کو کشتی بنانے کا حکم دیا بلکہ یہ آیت نوح کی اُس عمر کے بارے میں بتاتی ہے جب اُس کے تین بیٹے سم ، حام اور یافت پیدا ہوئے۔ یہ بات پوری طرح قابلِ فہم ہے کہ خُدا نے 120 سال بعد طوفان لانے کا اِرادہ کیا ہو اور پھر خدا نے نوح کو کشتی بنانے کا حکم دینے سے پہلے کچھ سال انتظار کیا ہو۔ چاہے معاملہ کچھ بھی ہو پیدائش 5باب 32آیت اور پیدائش 7باب 6آیت کا درمیانی 100 سالہ عرصہ کسی بھی طرح سے پیدائش 6باب 3آیت میں موجود 120 سالہ عرصے کی تردید نہیں کرتا ۔

طوفان سے کئی سو سال بعد موسیٰ اعلان کرتا ہے کہ "ہماری عمر کی معیاد ستر برس ہے۔ یا قوت ہو تو اَسی برس۔ تو بھی اُن کی رونق محض مشقت اور غم ہے کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں" (90زبور 10آیت )۔ نہ تو پیدائش6باب 3آیت اور نہ ہی 90زبور 10آیت خدا کی طرف سے انسان کی عمر کی مقرر کردہ حدیں ہیں ۔ پیدائش 6باب 3آیت طوفان کےاوقات کار کے بارے میں پیشن گوئی ہے۔ 90زبور 10آیت محض بیان کررہی ہے کہ ایک عام اصول کے طور پر لوگ 70- 80 سال تک جیتے ہیں (جو آج بھی سچ ہے)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا ہمارے لیے عمر کی کوئی حد مقرر ہےجو بتاتی ہے کہ ہم کتنا عرصہ جی سکتے ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں