زمین کی عمر کتنی ہے؟ زمین کی میعاد (تاریخ ارضیات) کتنی پرانی ہے؟



سوال: زمین کی عمر کتنی ہے؟ زمین کی میعاد (تاریخ ارضیات) کتنی پرانی ہے؟

جواب:
کچھ مضامین کے لئے بائیبل نہایت ہی صاف ہے مثال کے طور پر ہماری اخلاقی پابندیاں جو خدا کے حق میں ہیں اور نجات کا طریقہ وغیرہ ان کی بابت تفصیل سے بتایا گیا ہے؟ دیگر مضامین کے لئے کسی طرح بائیبل میں زیادہ معلومات پیش نہیں کرتی۔ بڑی ہوشیاری کے ساتھ کلام کا مطالعہ کرنے سے ایک شخص یہ پاتا ہے کہ ایک مضمون کتنا مبصرانہ ہے جب بائیبل اس کو اور زیادہ براہ راست مخاطب کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں "جو خاص باتیں ہیں وہ بہت ہی آسان ہیں" کئی ایک مضامین میں سے ایک مظمون جو کلام پاک میں واضح طور سے بیان نہیں کیا گیا وہ ہے زمین کی میعاد۔

زمین کی میعاد کو تعین کرنے کی کوشش کے لئےبہت سارے طریقے ہیں ہر ایک طریقہ کچھ ایک مفروضات پر منحصر کرتا ہے جو ہوسکتا ہے کہ صحیح ہو یا صحیح نہ ہو۔ یہ سب کے سب بائیبل کی لفظ پرستی اور مطابق سائينس کی لفظ پرستی کے درمیان ایک عکس پر آگرتے ہیں۔

زمین کی میعاد کو تعین کرنے کا ایک طریقہ جو اختیار کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ پیدایش کے پہلے باب میں چھ دن کی تخلیق جو پیش کی گئی ہے وہ لفظی طور سے چوبیس گھنٹے کا عرصہ تھا۔ اور ان تاریخ وار سلسلئہ واقعات یا پیدایش کے نسبیات کے درمیان کو ئي وقفہ نہیں تھا۔ پیدایش کے نسبیات میں جب برسوں کی فہرست کی گئي تو پیدایش سے لیکر پرانے عہدنامے کے فلاں واقعات کے ہندسوں تک ایک متصل وقت پانے کے لئے اس فہرست کو جوڑا گیا۔ اس طریقہ کا استعمال کرتے ہوئےہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ زمین کی کل میعاد (عمر) لگ بھگ 6000 سال ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کلام پاک میں کہیں پر بھی زمین کی کل میعاد (عمر) ذکر نہیں کیا گیا ہے — یہ گنتی کرکے حساب لگایا ہؤا عدد ہے۔

دوسرا طریقہ جو زمین کی میعاد کویقین کرنے کے لئے ہے وہ ذرایوں کا استعمال ہے جیسے کے مقیاس قوت شعاعی (وہ آلہ جو شعاعی قوت کا میکانیکی قوت میں تبدیل ہونا دکھاتا ہے) اس آلہ سے تاریخ کا پتہ لگانا، علم طبقات الارض کے دورے اس طرح کے دیگر ذرا‏ئع فرق فرق طریقوں کا موازنہ کرنے کے ذریعہ اور یہ دیکھتے ہوے کہ اگر وہ قطار بندی میں ہیں تو سائنسدان یہ فیصلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری زمین کتنی پرانی ہے۔اس طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہماری زمین کی عمر لگ بھگ چالیس سے پچاس کھرب پرانی ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ زمین کی عمر ناپنے کے لئے اور کوئی براہ راست ذرائع نہیں ہے — یہ گنتی کرکے حساب لگایا ہؤا عدد ہے۔

زمین کی میعاد (عمر) کو یقین کرنے کے یہ دونوں طریقے حالت احتمالی کی کمیاں ہیں۔ کچھ بائیبل کے علماء ایسے بھی ہیں جو اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں کہ تخلیق کے چھ دن لفظی طور سے ہر دن چوبیس گھنٹے کا وقفہ قرار دئے جائیں۔ اسی طرح یہ یقین کرنے کا سبب بنتا ہے کہ پیدایش کے نسبیات میں بالقصد خالی جگہ پائے جاتے ہیں صرف یہ بیان کرتے ہوئے کہ فلاں لوگ نسب نامہ میں شامل ہیں۔ زمین کی عمر کے خارجی ناپ ایسے نظر نہیں آتے کہ زمین کی عمر تقریباً 6000 سال پرانی ہے اور یہ انکار کرتے ہوئے کہ ایسے ثبوت کے لئےصلاح کی ضرورت ہے کہ خدا نےکا ئینات کی ہر ایک پہلو کو فی الواقع طور سے بنایا جو کسی سبب سے پرانا جیسا "نظر آتا" ہے۔ متضاد ہونے کا دعویٰ جتانے کے باوجود بھی بہت سے مسیحی جو زمین کے بہت پرانے ہونے کا قیاس کرتے ہیں انکا نظر یہ تو یہ کہ بائيبل یقینی اور الہام شدہ ہے مگر وہ کچھ چنندہ آیتوں کے حقیقی ترجمہ کا امتیاز کرتے ہیں۔

دوسری طرف ریڈیو میٹرک طریقہ سے تاریخ کا پتہ لگانا ہی کچھ معاملوں میں کارآمد اور درست ہے۔ ان ناپنے والے آلات سے کم جو زمین کی عمر کی تاریخ پتہ لگانے میں استعمال کیا گیا ہے۔ علم طبقات الارض کےزمانے کے ناپنے والے آلات، پتھر میں بدلی ہوئی اشیا کے ریکارڈ وغیرہ وہ سب کے سب خود بینی اور تسلیلات کی غلطیوں پر اعلیٰ طور سے منحصر ہیں۔ بالکل یہی بات اس بڑی سے بڑی کائنات کے معائنہ کے ساتھ سچ ہے ؛ ہم صرف ایک چھوٹا سا یا مقدار دیکھتے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور اس کےعلاوہ جو زیادہ کچھ"جانتے ہیں" وہ تحریری ہے۔ مختصر طور سے یقین کرنے کے لئے کشادہ وجوہات جو زمین کی عمر کا دنیوی اندازہ ہے وہ بھی نادرست ہے۔ مطابق سائینس کے سوالات کے ساتھ یقینی طور سے برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔

آخر میں تاریخی واقعہ کے مطابق زمین کی عمر کو ثابت نہیں کیا جا سکتا بدقسمتی سے معاملہ کے لئے دونوں طرف سے آوازیں جو ممکن ترجمہ کا دعویٰ کرتے ہیں — یعنی کہ الہی علم کے نظریہ سے مطابق سائینس کے نظریہ سے — سچ میں دیکھا جائے تو مسیحیت اور اایک پرانی زمین کے بیچ ناقابل مصالحت علم الہی کے مطابق تخالف نہیں ہے۔ نہ ہی ایک چھوٹی زمین کی بابت سچے مطابق سائینس کا تخالف ہے۔ وہ جو دعویٰ کرتے ہیں یا پھر تفرقے پیدا کرتے ہیں ان میں سے کسی کے وجود کی ضرورت نہیں ہے۔ جو بھی نظریہ ایک شخص رکھتا ہے اس کے لئے یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں خدا کے کلام پر یقین کرے کہ وہ سچ ہے اور معتبر بھی ہے۔

سوالات کے خدمت گزار چھوٹی زمین کے حق میں ظاہری تناسب رکھتے ہیں۔ ہم ااعتقاد کرتے ہیں کہ پیدایش 2-1 ابواب لفظی ہیں، اور چھوٹی زمین کی تخلیق کی بابت لفظی مطالعہ ان ابواب میں پیش کیا گیاہے۔ مگر اسی وقت ہم اس پرانی زمین کے تخلیق کے موروثی ہونے پر لحاظ نہیں کرتے۔ ہم اپنے مسیحی بھائی بہنوں کے ایمان کی بابت سوال کرنے کی ضرورت ہیں ہے جو زمین کی عمر کی بابت ہمارے ساتھ اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ ہم اعتقاد کرتے ہین کہ ایک شخص پرانی زمین کی تخلیق سے اتفاق رکھ سکتا ہے اور پھر بھی مسیحی ایمان کے الہیٰ علم کے اصولوں سے باطنی تعلق رکھ سکتا ہے۔

اس طرح کے مضامین جیسے کے زمین کی عمر پولس رسول نے ایمانداروں کو سخت تاکید ہے کہ ایسی کسی بات کو لیکر جھگڑے کا سبب نہ بنائیں جس کا ذکر کلام پاک میں مفصل طور سے بیان نہ کیاگیا ہو (رومیوں 10-14:1 ؛ ططس 3:9)۔ کلام پاک میں زمین کی عمر "سیدھا سادہ یا معمولی" نہیں ہے۔ اور یہ کوئی "خاص" بھی نہیں ہے جس میں کسی شخص کے لئے زمین کی عمر کا نظریہ اتنا ضروری ہیں ہے جتنا کہ ایک شخص کے گناہ کا ، نجات کا، خدا پرستی کا، جنت یا جہنم کا نظریہ ضروری ہے۔ ہم اس شخصیت کی بابت زیادہ معلوم کرسکتے ہیں جس نے زمین کو بنایا۔ اس نے کیوں بنایا۔ اور ہمارا اس کے ساتھ کسطرح کا رشتہ ہے، مکر کلام پاک ہم کو یہ نہیں بتاتا کہ غیر مشکوک طریقہ سے خدا نے زمین کی تخلیق کب کی تھی۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



زمین کی عمر کتنی ہے؟ زمین کی میعاد (تاریخ ارضیات) کتنی پرانی ہے؟