settings icon
share icon
سوال

زمین کی عمر کتنی ہے؟ زمین کتنی پرانی ہے؟

جواب


کچھ عنوانات پر تو بائبل بالکل واضح تعلیم دیتی ہے ۔ مثال کے طور پر خُدا کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ہماری اخلاقی ذمہ داریوں اور نجات کے منصوبے کو تو بائبل میں بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مزید کئی ایک عنوانات ہیں جن کے بارے میں بائبل ہمیں بہت زیادہ معلومات نہیں فراہم کرتی۔ جب ہم بائبل کابڑے دھیان کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عنوان جتنا زیادہ اہم ہے بائبل اُتنے ہی براہِ راست طریقے سے اُس پر بات کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں بائبل مُقدس کے اندر "اہم باتیں بالکل سادہ اور واضح باتیں ہیں، یا اہم عنوانات بالکل سادہ اور واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں"۔ بہت سارے عنوانات میں سے ایک عنوان "زمین کی عمر" کا بھی بائبل کے اندر کہیں پر ذکر نہیں کیا گیا۔

زمین کی عمر کے بارے میں اندازہ لگانے کے کئی ایک طریقے موجو دہیں۔ ہر ایک طریقے کا انحصار کچھ خاص قسم کے مفروضات پر ہے اور وہ مفروضات ٹھیک ہو بھی سکتے ہیں اور ٹھیک نہیں بھی ہو سکتے۔ سب کے سب مفروضات بائبلی بیان کے لغوی معنی اور سائنسی بیانات کے لغوی معنی کے درمیان ہی پائے ہیں۔

زمین کی عمر کا تعین کرنے والا ایک طریقہ یہ مفروضہ پیش کرتا ہے کہ پیدایش 1 باب کے اندر دُنیا کی تخلیق کے حوالے سے جن دِنوں کا ذکر ہوا ہے وہ حقیقی 24 گھنٹے پر مشتمل دن ہی ہیں اور مزید یہ کہ پیدایش کی کتاب میں بیان کردہ تاریخ میں یا نسب ناموں میں کسی طرح کے لمبے لمبےتاریخی وقفے نہیں ہیں۔پس پیدایش کی کتاب کے اندر بیان کردہ نسب ناموں میں دئیے جانے والے سالوں کا حساب لگا کر تخلیق سے لیکر پرانے عہد نامے کے کچھ خاص کردار وں کے دور تک کے وقت کا حساب لگایا جاتا ہے۔جب اِس طریقے کو استعمال کیا جاتا ہے تو اِس کے حساب سے دُنیا کی عمر قریباً 6000 سال بنتی ہے۔ یہاں پر اِس بات کو یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ بائبل مُقدس کہیں پر بھی یہ بیان نہیں کرتی کہ زمین کی عمر کیا ہے – یہ ایک انسانی اندازہ ہے۔

زمین کی عمر کا اندازہ لگانے کا ایک اور طریقہ چند دیگر وسائل ہیں جیسے کہ ریڈیو میٹرک (کاربن) ڈیٹنگ، ارضیاتی چکر اور ایسے دیگر طریقے جو اِس کام کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔اِس طرح کے مختلف طریقوں کا باہمی موازنہ کرنے اور یہ دیکھنے کے بعد کہ وہ کہاں کہاں ایک دوسرے سے ملتے ہیں سائنسدان یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ یہ جان سکیں کہ اِس سیارے یعنی زمین کی عمر کتنی ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جسے استعمال کرتے ہوئے اب تک یہ جانا گیا ہے کہ زمین 4- 5 بلین سال پرانی ہے۔ یہاں پر بھی اِس بات کو یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ زمین کی اصل عمر کا اندازہ لگانے کا ہمارے پاس کوئی بھی مخصوص ذریعہ یا طریقہ نہیں ہے – یہ سب انسانی اندازے ہی ہیں۔

زمین کی عمر معلوم کرنے کے اِن دونوں طریقوں میں ہی مختلف طرح کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسے بہت سارے عالمینِ الہیات ہیں جو اِس بات کو نہیں مانتے کہ ہمیں تخلیق کے دِنوں کو حقیقی 24 گھنٹے پر مشتمل دِنوں کے طور پر ہی لینا چاہیے۔ اِسی طرح ایسی کئی ایک وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ ماننا پڑے گا کہ پیدایش کی کتاب میں بیان کردہ نسب ناموں اور مختلف پشتوں کے بیان کے درمیان میں کئی ایک مقامات پر کئی خاطر خواہ وقفے ہو سکتے ہیں، کیونکہ کئی ایک نسب ناموں میں صرف خاص خاص لوگوں کا ہی ذکر کیا گیا ہے اور بیچ میں سے بہت دفعہ کئی ایک کو چھوڑ دیا گیا ہوگا۔ جب تک اِس تصور کو بھی نہ مانا جائے کہ خُدا نے ہر ایک چیز کو اِس طرح سے بنایا ہے کہ وہ بہت قدیم لگے یہ ماننا مشکل ہے کہ یہ زمین صرف 6000 سال پرانی ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بہت سارے ایسے سچے مسیحی ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ زمین بہت قدیم ہے، وہ بھی بائبل کو خُدا کا الہامی اور لا خطا کلام ہی مانتے ہیں، لیکن وہ کچھ آیات کے ترجمے یا تفسیر پر اختلافِ رائے رکھتے ہوئے مانتے ہیں کہ زمین بہت قدیم ہے۔

دوسری طرف ریڈیو میٹرک ڈیٹنگ ایک خاص حد تک اور کچھ خاص اور مخصوص چیزوں کے لیے ہی کارآمد اور ٹھیک ہے اور وہ زمین کی درست عمر بتانے کے حوالے سے اتنا کار آمد نہیں ہے۔ اِسی طرح ارضیاتی اوقات کار، فوسلوں کا ریکارڈ اور مزید ایسے دیگر طریقوں کا بہت زیادہ انحصار طرح طرح کے مفروضات اور نمونوں کی غلطیوں پر ہوتا ہے۔ یہی بات بڑی یا عظیم تر کائنات کے نظریے کے حوالے سے بھی سچ ہے۔ جو کچھ بھی موجود ہے ہم اُس کا ایک بہت ہی معمولی حصہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ اور ہم جو کچھ بھی "جانتے" ہیں اُس کا زیادہ تر حصہ "نطریاتی یا مفروضاتی"ہے۔ مختصراً یہ کہ لادین دُنیا میں سے بھی زمین کی عمر کے حوالے سے جو اندازے پیش کئے جا رہے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں۔ سائنسی سوالات کے جوابات دینے کے لیے سائنس پر انحصار کرنا تو بالکل درست چیز ہے، لیکن سائنس کو ہم کسی طور پر بھی ہمیشہ حتمی، اغلاط سے پاک یا خطا نا پذیر قرار نہیں دے سکتے۔

آخر میں ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ اِس زمین کی تاریخی عمر کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بد قسمتی سے دونوں یعنی الہیاتی اور سائنسی میدانوں میں ایک طرح کی کھینچا تانی کا سا سماں ہے جہاں پر مختلف لوگ یہ خیال کر رہے ہیں کہ جو خیال یا تشریح و تفسیر وہ پیش کر رہے ہیں اِس مسئلے کے حوالے سے وہی ایک واحددرست تشریح یا تفسیر ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ مسیحی جو یہ مانتے ہیں کہ دُنیا بہت قدیم ہے اور اِس کی عمر بہت زیادہ ہے اُن کے زمین کو کم عمر ماننے والے مسیحیوں کے ساتھ کوئی بھی ایسے الہیاتی مسائل نہیں جنہیں بہت احسن طریقے سے حل نہ کیا جا سکے۔ اور نہ ہی زمین کے کم عمر ہونے کے حوالے سے ایسے سائنسی تضادات پائے جاتے ہیں جو حقیقی ہوں۔ اِس کے برعکس وہ جو یہاں پر لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں وہ در اصل اُنہیں وہاں پر لے کر جانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں پر کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔ زمین کی عمر کے حوالے سے کوئی شخص جو بھی نظریہ رکھتا ہو، اہم بات یہ ہے کہ آیا وہ اِس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ خُدا کا کلام سچا اور حتمی ہے۔

آپ کے سوالات کے جوابات دینے والی یہ ٹیم زمین کے کم عمر ہونے کے نظریے کی حامی ہے۔ ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ پیدایش 1- 2 ابواب کا ترجمہ اور تفسیر لغوی اندازسے ہی کی جانی چاہیے اور جب ہم اُن دو ابواب کا اِس طرح سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہم ایسے تخلیق کے نظریے کے بارے میں جان پاتے ہیں جس کے مطابق زمین بہت زیادہ قدیم نہیں بلکہ کچھ ہزار سال پرانی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی ہم زمین کو قدیم ماننے والے لوگوں کو یا اُن کے خیالات کو کسی طور پر بھی بدعتی خیال نہیں کرتے۔ ہمارے وہ بہن بھائی جو زمین کی عمر کے لحاظ سے ہم سے اختلاف رکھتے ہیں ہمیں اُن کے ایمان پر قطعی طور پر سوال نہیں اُٹھانا چاہیے۔ ہمارا ایمان ہے کہ کوئی بھی انسان زمین کے انتہائی قدیم ہونے کے نظریے کو ماننے کے باوجود بائبل مُقدس میں بیان کردہ مسیحی عقائد کی پیروی کر سکتا ہے۔

زمین کی عمر جیسے ہی وہ عنوانات ہیں جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے پولس رسول ایمانداروں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اُن چیزوں یا باتوں کی بنیاد پر باہمی طور پر نہ جھگڑیں جن کے بارے میں بائبل میں ہمیں تفصیلاً کچھ نہیں بتایا گیا (رومیوں 14باب 1- 10 آیات؛ ططس 3باب9 آیت)۔ زمین کی عمر کو کلام میں بالکل بھی واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اِس لیے رُوحانی لحاظ سے یہ بہت زیادہ اہم بھی نہیں ہے کیونکہ زمین کی عمر کے بارے میں کسی شخص کا تصور اُسکی زندگی میں گناہ، نجات، اخلاقیات ، آسمان یا دوزخ کے نظریات پر اثر نہیں ڈالتا۔ اِس کے برعکس ہم اُن چیزوں کو اور زیادہ جاننے میں اپنا وقت صرف کر سکتے ہیں کہ کس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا، اُس نے یہ سب کیوں تخلیق کیا اور ہم کو اُس کی طرف کیسے رجوع لانے کی ضرورت ہے، لیکن بائبل ہمیں کہیں پر مبہم ترین انداز میں بھی نہیں بتاتی کہ اُس نے یہ سب کچھ کب تخلیق کیا تھا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

زمین کی عمر کتنی ہے؟ زمین کتنی پرانی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries