settings icon
share icon
سوال

اگر کسی مسیحی مرد یا عورت کا جیون ساتھی شادی کے بعد کسی اور کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہو تو ایسی صورت میں اُسکا کیسا رَد عمل ہونا چاہیے؟

جواب


جیون ساتھی کی بیوفائی کسی بھی شخص کی زندگی میں بہت ہی زیادہ مشکل اور دردناک صورتحال کو جنم دیتی ہےجس میں تمام طرح کے جذبات شامل ہوتے ہیں اور ایک مسیحی کے لیے تو یہ ایمان کو ٹوٹنے کی حد تک لے جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بہترین اقدام یہ ہوگا کہ "اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکرہے " (1 پطرس 5باب7آیت)۔ اگر آپ کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو روزانہ کی بنیاد پر تسلی، حکمت اور رہنمائی کے لیے خُداوند کے حضور جائیں۔ ہمارے مشکل ترین حالات و واقعات کے دوران بھی خُدا ہماری مدد کر سکتا ہے۔

حرامکاری ہمیشہ ہی غلط ہے۔"بیاہ کرنا سب میں عزّت کی بات سمجھی جائے اور بستربے داغ رہے کیونکہ خُدا حرام کاروں اور زانیوں کی عدالت کرے گا۔" (عبرانیوں 13باب4آیت)۔ وہ شخص جس کو اپنے ساتھی کی بیوفائی کی بدولت بہت زیادہ دُکھ اُٹھانا پڑا ہو اُسے ہمیشہ ہی اِس سچائی کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ خُدا خود انتقام لیتا ہے۔ وہ شخص جس کے ساتھ بُرا ہوا ہے اُسے ایسی صورتحال میں جھنجھلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خُدا ہمیشہ اپنے طریقے سے ہمارا انتقام لے گا اور ہمیں انصاف دلائے گا۔ جب ہمیں دھوکا دیا جاتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اپنے سارے دُکھ اور درد اُس کے سامنے لا کر رکھ دیں جو ہر بات کی ساری تفصیل سے واقف ہے اور وہی اُن سب حالات کو بہترین طریقے سے ٹھیک کرے گا۔

دُعا کریں: حکمت، بہتری و بحالی اور رہنمائی کے لیے خُداوند سے رجوع کریں۔ اپنے لیے دُعا کرے، اپنے ستانے والے کے لیے دُعا کریں اور اُن حالات و واقعات میں ملوث ہر ایک شخص کے لیے دُعا کریں۔ دُعا کریں کہ خُدا آپ کے خیالات، الفاظ، اعمال اور فیصلوں میں آپکی رہنمائی کرے۔

ایماندار رہیں: وہ میاں یا بیوی جسے دھوکا دیا جاتا ہے وہ اُس جذباتی زخم کے اثرات سے بہت بڑے پیمانے پر متاثر ہوتا ہے۔ اپنے جیون ساتھی کی بیوفائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے درد اور غصے کا اظہار کرنا بالکل مناسب چیز ہے۔ اِس سارے معاملے میں بہتری اور بحالی کی طرف جانے کے لیے سب سے پہلا بہترین قدم یہی ہوگا کہ اُن سبھی جذبات کو خُداوند کے حضور میں اُنڈیل دیں (دیکھئے 77 زبور 1-2آیات)۔ جب ہم اپنے جذبات اور اپنی ضروریات خُداوند کے سامنے رکھتے ہیں تو یہ چیز خُداوند کو ہمارے دل میں کام کرنے دیتی ہے تاکہ ہماری زندگی اور دِل میں سے غم و غصہ دور ہو۔ ایسی صورتحال میں کسی مسیحی صلاح کار یا کسی پاسبان سے بائبل کی بنیادوں پر صلاح کاری کرنا قدرے مدگار ثابت ہوگا۔

معاف کرنے کے لیے رضامند رہیں:جس طرح ہمیں معاف کیا گیا ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں کو معاف کریں(افسیوں 4 باب32 آیت)۔ ہمیں ہمیشہ ہی دوسرے لوگوں بشمول اپنے ایسے جیون ساتھی کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اپنی شادی کو نظر انداز کر کے کسی اور کی محبت میں مبتلا ہو گیا تھا ، لیکن پھر توبہ کر کے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے ہمارے پاس آیا ہے (متی 6باب14-15آیات؛ 18باب23-35 آیات؛ افسیوں 4باب31-32آیات؛ کلسیوں 3باب 13آیت) ۔ عین ممکن ہے کہ کسی شخص کو مکمل طور پر معاف کرنا ممکن نہ ہو لیکن ایک مسیحی کو معاف کرنے کے لیے ہمیشہ ہی رضامند اور تیار رہنا چاہیے۔ اپنے دِل میں کڑواہٹ کو جمع کرتے رہنا ایک گناہ ہے اور یہ ہمارے روز مرّہ کے تمام فیصلوں پر اثر انداز ہوگی۔

سمجھدار بنیں: ہمیں اِس امکان کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا بیوفا ساتھی کبھی بھی اپنے کئے پر نہ پچھتائے۔کیا ہمیں کسی ایسے شخص کو معاف کر دینا چاہیے جو اپنے گناہوں کا اقرار نہیں کرتا اور اپنے گناہوں سے کبھی بھی توبہ نہیں کرتا؟اِس سوال کے جواب کا ایک حصہ یہ ہے کہ اِس بات کو جانیں کہ معافی کیا نہیں ہے:

معاف کرنا دراصل بھول جانا نہیں ہے۔ ہمیں یہ نہیں کہا جا رہا کہ ہم اُس ساری صورتحال کو بھول جائیں، بلکہ ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ اِس معاملے کو نپٹا کر ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

معافی نتائج کا خاتمہ نہیں ہے۔ گناہ کے بڑے ہی فطری نتائج ہوتے ہیں اور حتیٰ کہ وہ سبھی لوگ جن کو معاف کر دیا جاتا ہے اُنہیں بھی اپنے گناہوں اور ماضی کے انتخابات کی بدولت کئی ایک طرح کے مشکل نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:"(کیا ممکن ہے کہ ) کوئی انگاروں پر چلے اور اُس کے پاؤں نہ جھلسیں؟وہ بھی اَیسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جاتاہے۔جو کوئی اُسے چُھوئے بے سزا نہ رہے گا " (امثال 6باب28-29آیات)۔

معافی محض ایک احساس نہیں ہے۔ بلکہ یہ کسی نقصان پہنچانے والے کو معاف کرنا ہے۔ ایک طرح سے یہ کسی کو دُکھ دینے والے اور دُکھ پانے والے کے درمیان میں لین دین ہے۔ معافی کے اِس عمل میں احساس شامل ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہو سکتے۔

معافی کوئی نجی معاملہ یا کسی شخص کے دِل کے اندر کو خفیہ عمل نہیں ہے۔ معافی میں کم از کم دو لوگ شامل ہوتے ہیں۔اِسی لیے اپنے گناہوں کے اعتراف اور پھر توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

معافی ٹوٹے ہوئے اعتماد کی خود بخود بحالی نہیں ہے۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ ایک بیوفا جیون ساتھی کو آج اگر معاف کیا گیا تو کل ساری چیزیں پھر سے اپنے پرانے معمول پر آ جائیں گی۔ کلامِ مُقدس ہمارے سامنے کئی ایک ایسی وجوہات پیش کرتا ہے جن کی بنیاد پر اُن لوگوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے آپ کو ناقابلِ یقین ثابت کیا ہو (دیکھئے لوقا 16باب10-12آیات)۔ کسی پر بھروسے کا دوبارہ سے پیدا ہونا صلح کے عمل کے بعد ہی ممکن ہے جس کے لیے سچے دِل کے ساتھ معاف کیا جانا ضروری ہے – اور معافی کے لیے اعتراف اور توبہ لازمی ہے۔

مزید برآں ، یہ جاننا بھی لازمی ہے کہ ضروری نہیں کہ اگر کسی شخص کو معافی کی پیش کش کی جائے تو وہ معافی کئے جانے کو قبول بھی کر لے۔ معافی کےحوالے سے رویہ – کسی کو معاف کرنے کے لیے رضامند اور تیار ہونا –معافی کے اصل عمل سے بالکل مختلف ہے۔ ہمیں کبھی بھی معافی کے پورے عمل میں سے اعتراف، توبہ اور اعتماد کے بحال کئے جانے جیسے عناصر کو ختم کر کے اِس عمل کو مختصر بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

ممکن ہے کہ جس جیون ساتھی کے ساتھ بُرا ہوا ہے وہ معافی کی پیشکش کر دے لیکن اِس کے سارے عمل کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ جیون ساتھی جس نے بیوفائی کی تھی وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرے، اپنی معافی کی ضرورت کا اقرار کرے اور اُسے قبول کرے، تاکہ صلح کا عمل شروع ہو اور اُن کا باہمی رشتہ بحالی کی طرف جائے۔

معافی حاصل کریں: "اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے " (1 یوحنا 1باب9آیت)۔ جب کوئی شادی ایسے مسائل کا شکار ہوتی ہے تو دونوں فریقین کو خُدا سے مدد مانگنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اِس صورتحال تک پہنچنے کے لیے دونوں نے کون کونسا کردار ادا کیا ہے اور خُدا کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے اپنے ضمیر کی ملامت سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہیے۔ اِس کے بعد اُن لوگوں کے پاس یہ آزادی ہوگی کہ وہ خُدا کی صلاح اور رہنمائی کو اپنی زندگیوں میں مانگ سکیں۔ رُوح القدس پھر اُن کو وہ سب کرنے میں مددکرے گا جو وہ خود اپنے طور پر نہیں کر سکتے۔"جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں" (فلپیوں 4باب 13آیت)۔

اور جب خُدا رہنمائی کرتا ہے تو اُ س صورت میں حقیقی معافی اور صلح ممکن ہوتی ہے۔ چاہے جتنا مرضی وقت لگے، ہمیشہ ہر ایک کوشش معاف کرنے اور صلح کرنے کے لیے ہی کرنی چاہیے (دیکھئے متی 5باب23-24آیات)۔ ابھی جہاں تک اِس چیز کا تعلق ہے کہ کسی کے ساتھ رہا جائے یا اُسے چھوڑ دیا جائے تو ، " جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سوا کسی اَور سبب سے چھوڑ دے اور دُوسری سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے اور جو کوئی چھوڑی ہوئی سے بیاہ کر لے وہ بھی زِنا کرتا ہے" (متی 19باب9آیت)۔ اِس سارے معاملے میں جس جیون ساتھی کے ساتھ بیوفائی ہوئی ہے اُس کے پاس یہ حق اور بنیاد موجود ہے کہ وہ طلاق دےدے/یا لے لے، لیکن خُدا کے کلام کی روشنی میں پہلا اقدام یا فیصلہ معافی اور صلح کے لیے ہونا چاہیے۔

خلاصے کے طور پر اگر کسی مسیحی مرد یا عورت کا جیون ساتھ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو بیوفائی کا شکار ہونےو الے جیون ساتھی کو چاہیے کہ اپنے اندر کی کڑواہٹ اور تلخی پر قابو رکھے اور بدی کا جواب بدی کے ساتھ نہ دے (1 پطرس 3باب9آیت)۔ ہمیں معاف کرنے کے لیے اور صلح کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہی ہمیں ایسے شخص کو معافی کی پیش کش نہیں کرنی چاہیے جو اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اُس سے توبہ نہیں کرتا۔ سبھی چیزوں میں ہمیں ہمیشہ ہی خُداوند کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے اور اُس کی طرف سے مہیا کی جانے والی بحالی اور شفا کو مانگنے کی بھی ضرورت ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر کسی مسیحی مرد یا عورت کا جیون ساتھی شادی کے بعد کسی اور کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہو تو ایسی صورت میں اُسکا کیسا رَد عمل ہونا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries