settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو ایکو پنکچر/ایکو پریشر جیسے طریقہ علاج کو اپنانا چاہیے؟

جواب


ایکو پنکچر کا آغاز چینی تاؤمت مذہب کی بنیاد پر ہوا۔ تاؤ مت وہ فلسفیانہ نطام ہے جو لاؤ زو اور چوانگ زو نے متعارف کروایا، یہ نظام اِس بات کی وکالت کرتا ہے کہ اگر کسی انسان نےایسا وجود حاصل کرنا ہے جو تاؤ یا زندگی کی قوت کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو اُسے بالکل سادہ، فطرت کے قریب تر زندگی گزارنے کی ضرورت ہے جس میں فطرتی حالات و واقعات کا اثر یا مداخلت نہ ہو۔ یہ ہسوان چھائیو کے بہت زیادہ قریب ترین تصور ہے جو کہ ایک مقبول چینی مذہب ہے جو لاؤزو کے اصولوں پر کاربند ہے۔ لیکن یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ٹوٹکوں سے علاج کرنے کی خصوصیات کا حامل ہے، یہ مذہب بہت سارے دیوتاؤں کو مانتا ہے، بہت ساری توہمات اور کیمیا گری، علم ِ غیب اور جادو کو بھی عمل میں لاتا ہے۔

اِس چینی فلسفے یا مذہب کے اندر دو اصول پائے جاتے ہیں۔ پہلا اصول "یِن " ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفی ، سیاہ اور زنانہ ہے اور دوسرا اصول "یانگ" ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے مثبت، روشن اور مردانہ ہے۔ اِن دونوں قوتوں کے تعامل کو تمام مخلوقات اور چیزوں کی قسمت کے لئے نمایاں اثر سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی انسان کی قسمت اِن دونوں قوتوں کے توازن یا عدم توازن کی طاقت کے تحت ہے۔ ایکوپنکچر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس پر تاؤمت کے پیروکار عمل کرتے ہیں جو جسم کے "یِن اور یانگ" کو تاؤ (یعنی زندگی کی قوت)کے ساتھ ہم آہنگی میں لانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔‏

‏اگرچہ ایکوپنکچر کے پیچھے بنیادی فلسفہ اور نظریہ حیات فیصلہ کن طور پر غیر بائبلی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خود ایکوپنکچر کا استعمال بائبل کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بہت سے لوگوں نے اُس صورت میں جب دیگر تمام علاج ناکام ہو گئے تو درد اور دیگر بیماریوں سے راحت حاصل کرنے کے لئے ایکوپنکچر کو ذریعہ علاج کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ طبّی برادری تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ بعض واقعات میں ایکوپنکچر سے قابل تصدیق طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لہذا، اگر ایکوپنکچر کے عمل کو ایکوپنکچر کے پیچھے فلسفے/نظریہ حیات سے الگ کیا جاسکتا ہے، تو شاید ایکوپنکچر ایک ایسا طریقہ علاج ہے جسے بروئے کار لانے کے بارے میں ایک مسیحی غور کر سکتا ہے۔ تاہم ایک بار پھر ایکوپنکچر کے پیچھے رُوحانی پہلوؤں سے بچنے کے لئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ زیادہ تر ایکوپنکچر کے ذریعے علان کرنے والے حقیقی طور پر تاؤ/ین یانگ فلسفے پر یقین رکھتے ہیں جو کہ ایکو پنکچر کی بنیاد ہے۔ ایک مسیحی کا تاؤ ازم سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔‏

‏جہاں تک ایکوپنکچر اور ایکوپریشر کے درمیان فرق کا تعلق ہےتو ایکو پریشر کے ذریعے سوئیوں کی بجائے اعصابی مراکز پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرمانا جاتا ہے کہ پاؤں کے تلوے اور ہاتھ کی ہتھیلی میں ایسے پریشر پوائنٹ ہیں جو جسم کے بہت سارے دیگر حصّوں اور اعضاء کے ساتھ منسلک ہیں اور اُن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ۔ ایکوپریشر گہرے ٹشو ‏‏مساج تھراپی‏‏سے بہت ملتا جلتا نظر آئے گا، جہاں جسم کے پٹھوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ خون کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم اگر جسم کو یِن اور یانگ کی ہم آہنگی میں لانے کے لئے ایکوپریشر کی مشق کی جائے تو اِس سے وہی مسئلہ پیدا ہوگا جو ایکو پنکچر کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ کیا فلسفے کے بغیر اس علاج کو عمل میں لایا جا سکتا ہے ؟‏

‏یہاں پر اصل معاملہ نئی پیدایش کے حامل ایک مسیحی کو اِیسی تمام مشقوں سے علیحدہ رکھنا ہے جو کسی بھی شخص کو جھوٹےمذاہب کے چُنگل میں پھنسا سکتی ہیں۔ برائی سے لاعلمی ایک خطرہ ہے اور جتنا زیادہ ہم اپنے آپ کو مشرقی فلسفوں اور طریقوں کی اصل بنیاد کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں، اتنا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ اِن کی جڑیں توہم پرستی، علمِ غیب اور جھوٹے مذاہب میں پیوست ہیں اور یہ سب چیزیں خدا کے کلام کی براہ راست مخالفت میں ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک اہم اور مفید طبّی طریقہ علاج کسی ایسے شخص کی طرف سے ایجاد یا متعارف ہو جو مسیحی نہیں ہے؟ بالکل ایسا ممکن ہے! مغربی طب کا زیادہ تر حصہ اور زیادہ تر ادویات ایسے طریقوں یا افراد کے ذریعے سے ایجاد ہوئی ہیں جو ایکو پنکچر کو متعارف کروانے والے لوگوں کی طرح غیر مسیحی تھے۔ یہاں پر مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اِس طریقہ علاج یا دوائی کی ابتدا مسیحی تھی یا نہیں ۔درد سے شفا یا نجات کی تلاش میں ہم اپنے آپ کو کس طریقہ علاج کے ساتھ جوڑتے ہیں اُس کا تعلق نقطہ نظر، رُوحانی جسمانی امتیاز اور یقین کے ساتھ ہے نہ کہ مذہبی ہٹ دھرمی یا کٹر پن کے ساتھ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو ایکو پنکچر/ایکو پریشر جیسے طریقہ علاج کو اپنانا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries