settings icon
share icon
سوال

کیا بد سلوکی طلاق کے لیے ایک قابلِ قبول وجہ ہے؟

جواب


بائبل مُقدس میاں بیوی کی آپس میں بد سلوکی کو طلاق کی وجہ بیان کرنےکے موضوع پر خاموش ہے، ہاں اگرچہ بائبل کی تعلیمات سے صاف واضح ہے کہ خُدا ایک شادی کے حوالے سے کیسی توقع رکھتا ہے (افسیوں 5باب22-33آیات)، بد سلوکی ہر اُس عمل کے خلاف ہے جو خُدا پرستی کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ جسمانی بدسلوک غیر اخلاقی ہے اور اُسے کسی بھی شخص کی طرف سے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی فرد کو کسی غیر محفوظ ماحول میں نہیں رہنا چاہیے، اُس میں چاہے خاندان کے افراد، دوست، مالکان، دیکھ بھال کرنے والے یا اجنبی لوگ شامل ہوں۔ جسمانی بد سلوکی قانون کے بھی خلاف ہے اور اگر کسی کے ساتھ جسمانی بد سلوکی ہوتی ہے تو سب سے پہلے سِول انتظامیہ کیساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔

میاں بیوی میں سے جس کسی کے ساتھ بھی جسمانی بد سلوکی ہو رہی ہو اُسے چاہیے کہ جلد از جلد اپنے آپ کو محفوظ مقام پر منتقل کرے۔ اگر اُس بدسلوکی کا سامنا کرنے میں بچّے بھی شامل ہیں تو چاہیے کہ اُنہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور اُس ساری صورتحال میں سے نکالا جائے۔ کسی بُرا سلوک کرنے والے شخص سے اپنے آپ کو علیحدہ کرنے میں کچھ بھی غیر بائبلی نہیں ہے، بلکہ ایسی بدسلوکی کی حالت میں اپنی اور اپنے بچّوں کی حفاظت کرنا ہی درست عمل اور فیصلہ ہے۔

بائبل کبھی بھی طلاق کا حکم نہیں دیتی، حتیٰ کہ بدسلوکی کی صورت میں بھی۔ بائبل خصوصی طور پر طلاق کے لیے دو ہی وجوہات کو بیان کرتی ہے: غیر ایماندار جیون ساتھی کے چھوڑ کر چلے جانے کی صورت میں (1 کرنتھیوں 7باب15آیت) اور حرامکاری /زنا کا مرتکب ہونے کی صورت میں (متی 5باب 32آیت)۔ اب جبکہ بائبل بدسلوکی کو ایک ایسی وجہ کے طور پر نہیں پیش کرتی جس کی بناء پر طلاق دی یا لی جانی چاہیے تو ہم بڑے محتاط ہوتے ہوئے اپنی رائے کو محض علیحدگی تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

خُدا غیر ایماندار ساتھی کے چھوڑ کر چلے جانے اور جیون ساتھی کے زناکاری کے مرتکب ہونے کی صورت میں طلاق کی اجازت دیتا ہے، لیکن حتیٰ کہ وہ حالات بھی خود بخود ہی طلاق کی طرف نہیں لے کر جائے، طلاق آخری فیصلہ ہوتی ہے۔ بے وفائی کی صورت میں دو مسیحیوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ طلاق کی طرف نہ جائیں بلکہ باہمی طور پر مصالحت اور صلح کی طرف جائیں۔ وہ معافی اور محبت جو ہمیں خُدا کی طرف سے مفت ملتی ہےاُسے دوسروں کو بھی دینا بہتر بات ہوگی (کلسیوں 3باب13آیت)۔ ایک بد سلوکی کرنے والے شخص کے ساتھ صلح کا معاملہ بہت زیادہ مختلف ہے۔ بدسلوکی کرنے والے جیون ساتھی کے ساتھ صلح اُسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب وہ کوئی ایسا ثبوت پیش کرے جس کی بنیاد پر اُس پر دوبارہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اور اگر کوئی بھروسہ پیدا کرنے کے لیے ثبوت دینا بھی چاہے تو اِس میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ بدسلوکی کرنے والے جیون ساتھی سے علیحدگی لمبے عرصے کے لیے اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک بار جب علیحدگی ہو جاتی ہے ، تو اُس صورت میں بدسلوکی کرنے والے شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیے مدد تلاش کرے۔ سب سے پہلے تو اُسے خُدا کی طرف رجوع لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔"کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا "(متی 7باب8آیت)۔ خُدا یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کو انفرادی طور پر اور پھر اُن کے رشتے کو بھی شفا بخشے اور بحال کرے۔ یہ ضروری ہے کہ خُدا ہی ہماری زندگی کا خُداوند ، ہمارے تمام مال اسباب کا مالک اور ہمارے گھرانے کا سربراہ ہو۔ کسی کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے فرد کو نفسیاتی مدد مہیا کی جانی چاہیے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُس پر قانونی پابندیاں بھی لگنی چاہییں کیونکہ ایسا کرنا بالکل بجا ہے اور یہ وہ اہم چیزیں ہیں جو اُس فرد کی زندگی کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اگر تو بدسلوکی کرنے والے فرد کی زندگی میں واضح طور پر تبدیلی آتی ہے اور خودمختار ذرائع سے اُس کی تصدیق بھی ہوتی ہے تو پھر کچھ خاص باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اور قدرے محتاط رہتے ہوئے اُس تعلق کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ دونوں میاں بیوی کو ہی یہ چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خُدا کے سپرد کر دیں تو اپنے ازدواجی رشتے کے لیے یسوع مسیح کے وسیلے سے خُدا کی راہ پر چلیں۔"جھوٹ کی راہ سے مجھے دور رکھ اور مجھے اپنی شرِیعت عنایت فرما۔ مَیں نے وفاداری کی راہ اِختیار کی ہے۔ مَیں نے تیرے اَحکام اپنے سامنے رکھّے ہیں " (119زبور 29-30آیات)۔خُدا کے ساتھ چلنے کے اِس ارادے کے ساتھ ساتھ کسی قابلِ اعتماد کلیسیائی پاسبان کی زیرِ نگرانی یا کسی باقاعدہ مسیحی صلاح کار کی خدمت کو بروئے کار لاتے ہوئے صلاح کاری کا سلسلہ بڑی شدت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ پہلے فرداً فرداً صلاح کاری کی جانی چاہیے، پھر جوڑے کی اکٹھے صلاح کاری کی جانی چاہیے، اور پھر پورے خاندان کی مجموعی طور پر کیونکہ خاندان کے سبھی افراد کو جذباتی شفا کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدسلوکی کرنے والا وہ فرد جو سچے دِل سے توبہ کرے اور عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو خُدا کے تابع کر دے اُس کی زندگی میں تبدیلی بالکل ممکن ہے (2 کرنتھیوں 3باب18آیت)۔

کسی شخص کے ساتھ حتمی رشتے میں بندھنے سے پہلے کئی ایک "لال جھنڈیاں " ہوتی ہیں جن کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ سارےخطرے کے اشارے اکثر شادی سے پہلے نظر نہیں آتے کیونکہ بدسلوکی کرنے والے زیادہ تر لوگ اپنی اصل فطرت کو چھپانے میں بہت زیادہ ماہر ہوتے ہیں۔ بہرحال کچھ چیزوں کی ایک چھوٹی سی فہرست سے مدد لی جا سکتی ہے جو اِس معاملے میں مددگار ثابت ہوگی، جیسے کہ بلا جواز حسد، سب چیزوں پر اختیار رکھنے اور دوسروں پر قابو پانے کی خواہش، جلد غصے میں آنے کی عادت، جانوروں پر ظلم کرے کی عادت، اپنے ساتھی، دوستوں اور خاندان کے لوگوں کو عام لوگوں سے علیحدہ کرنے کی عادت، شراب نوشی یا کسی اور نشے کی لت، قوانین اور حد بندیوں، نجی وقت یا زندگی، ذاتی حدبندیوں اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کرنے کی عادت۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کے اندر جس کے ساتھ آپ اپنا تعلق استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اِن میں سے کوئی بھی ایک ایسی نشانی دیکھتے ہیں تو براہِ مہربانی اُس شخص کےکسی اچھی طرح واقف بندے سے پوچھ گچھ کریں اور دوسروں سے اِس معاملے میں مشورہ کریں۔

اگر آپ کسی ایسی صورتحال میں ہیں جہاں آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جارہی ہے تو آپ کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا چاہیے آپ کا جیون ساتھی ہے، چاہے وہ آپ کے والدین، بچّے، دیکھ بھال کرنے والے، اُستاد، رشتے دار یا کوئی بھی اور ہے تو براہِ کرم اِس بات کو جان لیں کہ خُدا نہیں چاہتا کہ آپ اِس حالت میں رہیں جہاں پر آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ یہ خُدا کی خواہش نہیں ہے کہ آپ جسمانی، جنسی یا نفسیاتی بدسلوکی کو برداشت کریں۔ اُس صورتحال میں سے باہر نکلیں، کسی ایسے شخص کو ڈھونڈے جو محفوظ رہنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اِس سارے معاملے میں شامل کریں۔ اور اِس ساری صورتحال کے دوران خُدا سے ہمیشہ ہی رہنمائی اور حفاظت کے لیے دُعا کرتے رہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بد سلوکی طلاق کے لیے ایک قابلِ قبول وجہ ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries