سچ مچ کی سچائی / عالمگیر سچائی کی طرح کیا ایسی کوئی چيز ہے؟



سوال: سچ مچ کی سچائی / عالمگیر سچائی کی طرح کیا ایسی کوئی چيز ہے؟

جواب:
سچ مچ کی سچائی یا عالمگیر سچائی کو سمجھنے کے لئے ہمکو سچائي کی وضاحت سے شروع کرنا ہوگا۔ ڈکشنری کے مطابق "حققیت یا واقفیت کی تصدیق کرنا؛ ایک بیان جس کو ثابت کیا جا سکے یا سچائي بطور قبول کیا جاسکے"۔ کچھ لوگ کہینگے کہ کوئي سچ مچ کی سچائي نہیں ہے بلکہ صرف فرمان اور رائے ہوتی ہیں۔ دیگر لوگ بحث کرتے ہیں کہ کچھ یقیقنی طور سے حققیت یا سچائی ہونی چاہئے۔

ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ جو حققیت کی وضاحت کرے ایسی کوئی واقعیتیں نہیں ہیں۔ وہ لوگ جو اس نظریہ سے متفق ہیں وہ اعتقاد کرتے ہیں کہ ہر ایک چیز کا تعلق کسی نہ کسی چیز سے ضرور ہے۔ اور اس طرح کوئی سچ مچ سچائي نہیں ہوسکتی۔ یہی سبب ہے کہ آخر کار کوئی اخلاقی واقعیتیں نہیں ہیں، اگر کوئي عمل اثباتی یا منفی ہوتو اس کا فیصلہ کے لے کوئی اختیار نہیں ہے کہ سہی ہے یا غلط۔ یہ نظریہ "حالاتی اخلاقیات" کی طرف لیجاتی ہے، یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ جو صحیح اور غلط ہے وہ حالات سے متعلق ہے۔ ویسے دیکھا جا‏ئے تو کوئی صحیح یا غلط نہیں ہے اس لئے کہ جو کچھ بھی صحیح وقت اور حالات میں احساس کیا جاتا ہے یا دکھائی پڑتا ہے وہی درست ہے۔ جی ہاں! حالاتی اخلاقیات ایک حالت فاعلی (فلسفہ) کی طرف لیجاتے ہیں، "جو کچھ اچھا احساس ہوتا ہے" اس کے مطابق زہنیت اور زندگی کا طریقہ معاشرہ پر اور شخصی زندگیوں پر ایک بربادی کا اثر ہے۔ یہ پیش جدید اصول یاخیال جو ایک معاشرہ کے اندر ہے تمام قیمت، اعتقاد، زندگی کے طریقے اور سچائی کا لحاظ کراتا ہے جنکی مساوی طور سے بجا قرار دینے کا دعوی کرتا ہے۔

دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ یقینی طور سے کامل سچائياں اور معیار ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کونسی باتیں سچ ہیں اور کونسی نہیں۔ اس لئے طریق عمل یا حرکتیں جن کے آزمائے جانے کے ذریعہ ان سچ مچ کے معیاروں کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر واقعیات نہیں ہیں، حقیقت نہیں ہے تو ابتری کا نتیجہ نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر پر کشش کے اصول کو لیں۔ اگر یہ سچ مچ کی سچائی نہ ہو تو ہم کو یہ یقین نہ ہوتا کہ ہم ایک ہی جگہ پر کھڑے یا بیٹھ سکتے ہیں جب تک کہ ہم حرکت کرنے کا فیصلہ نہ کریں۔ یا پھر دو جمع دو ہمیشہ چار کے برابر نہ ہوتو اصلاح یا درستگی مصیبت خیز ہوتی، سائینس کے اصول اور علم طبییات غیرمناسب ہوتے۔ تجارت اور سودا ناممکن ہوتا۔ کس طرح کی بے تربیت حالت ہوتی اس کا اندازہ ہم نہیں لگاسکتے! مگر شکرہوکہ دو جمع دو برابر چارہی ہے۔ یہ ایک سچ مچ کی سچائی ہے اور اسے پایا اورسمجھا جاسکتا ہے۔

سچ مچ کی سچائی نہیں ہے اس بیان کو ثابت کرنا غیر معقول ہے۔ اس کے باوجود بھی موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ ایک تہزیبی متناسبت کو پکڑے ہوئے ہیں جو کسی بھی طرح کی سچ مچ کی سچائی کا انکار کرتے ہیں۔ ایک اچھا سوال لوگوں سے پوچھنے کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ "کوئی سچ مچ کی سچائی نہیں ہے" وہ یہ ہے کہ : "کیا آپ سچے طور سے اس پر یقین کرتے ہیں؟ اگر وہ کہتے ہیں "ہاں" تو انہوں نے سچ مچ کا بیان تیار رکھا ہے— جو خود ہی سچ مچ کے وجود کا نافذ کرتا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہی ایک حقیقت ہے، یہی ایک واحد خالص سچائی ہے کہ سچ مچ کی سچائي نہیں ہے۔

خود مخالف کی پریشانی کے علاوہ کئي ایک دیگر معقول پریشانیاں یہ ہیں کہ کسی کو یہ اعتقاد کرنے کے لئے غالب آنا ہوگا کہ سچ مچ کی عالمگیر سچائی نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ تمام بنی انسان کے علم اور محدود دماغ ہیں اس لئے وہ معقول طریقہ سے منفی بیانات کے مطابق باتیں پیش کرتا ہے۔ یا اصول طریقہ سے یا معقول طریقہ سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ "کوئی خدا نہیں ہے"۔( حالانکہ بہت سے ایسا کہتے ہیں)۔ اس لئے کہ ایسا بیان دینے کے لئے اس کے پاس پوری کائینات کا جو شروع سے لیکر آخرتک ہو ایک خالص ہونا چاہئے۔ جبکہ یہ اس لئے ناممکن ہے کہ ایک شخص صرف معقول طریقہ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ "میرے محدود علم کے ساتھ میرا اعتقاد نہین ہے کہ کوئی خدا نہیں"۔

سچ مچ کی سچائي / عالمگیر سچائی کے انکار کے ساتھ ایک اور پریشانی یہ ہے کہ ہمارا ضمیر، ہمارا اپنا تجربہ اور جو کچھ ہم حقیقی دنیا میں دیکھتے ہیں اس سچائي کا مان کر جینے میں ناکام ہیں۔ اگر سچ مچ کی سچائی جیسی کوئی چيز نہ ہو تو آخرکار کسی بھی چیز کی بابت صحیح یا غلط نہ ہوتی۔ آپ کے لئے کونسا "صحیح" ہوسکتا تھا جب میرے لئے "صحیح" کا معنی نہ ہو؟ جبکہ اس طرح کی متناسبت کے سطح پر اثر ڈالتے دکھائی دے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جینے کے لئے ہر کوئی اپنا خود کا قانون طے کرتا ہے، اور وہی کرتا ہے جو وہ سوچتا ہے کہ صحیح ہے۔ ناگزير طریقہ سے ایک شخص کی صیح خواہش یا مرضی کا احساس کسی دوسرے شخص کے ساتھ ٹکراتی ہے فرق پیدا کرتا ہے۔ اس وقت کیا ہوتا ہے جب میں ٹرافک لائيٹ کو نظرانداز کردوں اور میں سوچوں کہ یہ میرے لئے "صحیح" ہے؟ یہاں تک کہ جب وہ لال بتی ہی کیوں نہ ہو؟ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو کئی لوگوں کے جانوں کا جوکھم ہے۔ یا پھر میں یہ سوچوں کہ آپ سے چوری کرنا جائز ہے جبکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ تو پھر صاف طور سے یہ کہنا پڑتا ہے ہمارے صحیح اور غلط کا معیار آویزش کی ہے یعینی یہ ایک دوسرے کے ارادوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی سچ مچ کی سچائی نہیں ہے، اگر کوئی صحیح اور غلط کا معیار نہیں ہے تو پھر ہم سب کے سب ایک دوسرے کے ضامن ہیں۔ ایسی حالت میں ہم کبھی بھی کسی بات کا یقین نہیں کرسکتے۔ لوگ جو چاہتے ہیں وہ سب کچھ کرنے کے لئے آزاد ہونگے — چاہے وہ قتل ہو، عصمت دری ہو، چوری ہو، جھوٹ ہو، دغا بازی یا بے ایمانی وغیرہ ہو۔ اور کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ چیزیں غلط ہیں۔ تو پھر سرکار، قانون یا عدالت وغیرہ کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ یہاں تک کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ لوگوں کی اکثریت کو یہ حق حاصل ہے کہ اقلیت کی معیار پر زبردستی کرے۔ سچ مچ کی سچائی کے بغیر جو دنیا ہوگي وہ تصور کی دنیا میں بہت زیادہ خوفناک اور ناخوشگوار ہوگی۔

روحانی نظریہ سے دیکھا جائے تو اس طرح کے تعلقات کسی ایک سچے مزہب کے ساتھ اور خدا کے ساتھ کا ایک صحیح رشتہ کے بغیر مزہبی الجھن کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس نظریہ سے دیکھا جائے تو تمام مزاہب جھوٹے ہونگے کیونکہ مرنے کے بعد کی زندگی کی بابت وہ سب کے سب ایک سچ مچ کا دعوی پیش کرتے ہیں۔ لوگوں کے لئے ان باتوں کو یقین کرنے کے لئے غیر معمولی نہیں ہے کہ دو اختلافات والی مخالف مزہبیں دونوں مساوی طور سے صحیح ہو سکیں۔ حالانکہ دونوں مزہبیں دعویٰ کرتے ہیں کہ جنت جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے یہ دونوں پوری طرح سے مخالف "سچائیاں" ہونے کی تعلیم دیتے ہیں۔ لوگ جو سچ مچ کی سچائی پر اعتقاد نہیں کرتے وہ اس طرح کے دعوؤں کو نظرانداز کردیتے ہیں اور ایک زیادہ بے تعصب عالمگیری اعقتاد کو گلے لگاتے ہیں جو تعلیم دیتا ہے کہ تمام مزاہب مساوی ہیں۔ اور تمام راستے جنت کی طرف جاتے ہیں۔ لوگ جو اس عالمگیر نظریہ کو گلے لگاتے ہیں وہ جوشیلے ہوکر بشارتی مسحییوں کی مخالفت کرتے ہیں جو کلام پاک بائيبل پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو یہ کہتا ہے کہ "یسوع ہی راہ، حق اور زندگی ہے" اور وہ آخر کار سچائی کا مظاہرہ ہے اور جنت میں جانے کا واحد راستہ ہے (یوحنا 14:6)۔

برداشت پیش موجودہ معاشرہ کی ایک بنیادی نیکی بن چکی ہے جو کہ سچائی کی نیکی ہے۔ اور اس لئے غیرروا دواری ہی ایک برائی گنی جاتی ہے، کوئی بھی کلیسیا کی علم سے متعلق اعتقاد — خاص طور سے سچ مچ کی کمائی — کو غیر راوداری بطور تصور کیا جاتا ہے۔ آخر کار گناہ بطور – جو لوگ سچ مچ کی سچائي کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر کہینگے کہ جوکچھ ہم مانیں یا یہ نہ مانیں اس پر یقین کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے جب تک کہ آپ اپنے اعتقاد کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ برتاؤ کا ایک معیار مقرر کرتے اور اس کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اسی بات کی بالجبر کرتے جس کی حمایت کرنے کے لئے دوسرے لوگ خود سے تخالف رکھنے والے حالت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اس طرح کے اعقتاد کی حمایت کرتے ہیں وہ آسانی سے اپنے اعمال کے لئے ضامن ہونا نہیں چاہتے۔ اگر سچ مچ کی سچائی ہے تو سہی اور غلط کے لئے بھی سچ مچ کا معیار ہے۔ اور ان معیاروں کے ہم ضامن ہیں۔ اور یہ ضامن ہونا ہی لوگوں کی دراصل نامنظوری ہے جب وہ سچ مچ کی سچائی کا انکار کرتے ہیں۔

سچ مچ کی سچائی / عالمگیر سچائی کا انکار اور تہزیبی تعلقات جو بنائے جاتے ہیں جب سب ایک معاشرہ کا معقول نتیجہ ہے جو زندگی کے لئے تشریح بطور نشونما کے اصول کو گلے لگایا گیا ہے۔ اگر فطرت پسندی کا نشونما سچ ہے تو زندگی کوئي معنی نہیں رکھتی۔ ہمارے پاس اگر کوئي مقصد نہیں ہے تو سچ مچ کی صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہیں ہوسکتی۔ تو پھر انسان جیسا وہ چاہتا ہے آزادی سے جی سکتا ہے اور وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کا ضامن بھی نہیں ہے۔ پھر بھی لوگ چاہے کتنے بھی گنہ گارکیوں نہ ہوں وہ خدا کے وجود کا اور سچ کی سچائي کا انکار کرتے ہیں، انہیں کسی نہ کسی دن مرنے کے بعد خدا کی تخت عدالت کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ کلام پاک اعلان کرتا ہے کہ "جو کچھ خدا کی نسبت معلوم ہوسکتا ہے وہ ان کے باطن میں ظاہر ہے۔ اس لئے کہ خدا نے اس کو ان پر ظاہرکردیا۔ کیونکہ اس کی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائي ہوئی چیزوں کے ذریعے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ انکو کچھ عذر باقی نہیں۔ اس لئےکہ اگر چہ انہوں نے خداکو جان تو لیا مگر اس کی خدائی کے لائق اس کی تمجید اور شکر گزاری نہ کی بلکہ باطل خیالات میں پڑگئے اور ان کے بے سمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ اپنے آپ کو دانا جنا کر بیوقوف بن گئے (رومیوں22- 1:19)۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا سچ مچ کی سچائی کے وجود کے لئے کوئی ثبوت موجود ہے؟ جی ہاں ہے! پہلا ہے انسانی ضمیر۔ انسانی ضمیر ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے اندر کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ وہ ہم سے کہتا ہے کہ چاہے دنیا کا رخ کہیں پر بھی کیوں نہ ہو اس کے باوجود بھی کچھ باتیں صحیح ہیں اور باتیں غلط ہیں۔ اور یہ باتیں ہمکو پیار، دریادلی، ترس اور سلامتی کی بابت آگاہ کرتی ہیں جو اثباتی ہیں جن کے لئے ہم کو جوجھنے اور کشمکش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام تہزیبوں میں، تمام اوقات میں عالمگیر طور سے سچائی ہے۔ کلام پاک انسانی ضمیر کی رومیوں16- 2:14 میں بیان کرتا ہے۔ "اس لئے وہ قومیں جو شریعت نہیں رکھتیں اپنی طبیعت سے شریعت کے کام کرتی ہیں تو باوجود شریعت نہ رکھنے کے وہ اپنے لئے خود ایک شریعت ہیں۔ چنانچہ وہ شریعت کی باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہوئي دکھاتی ہیں۔ اور انکا دل بھی ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور انکے باہمی خیالات یا تو ان پر الزام لگاتے ہیں یا انکو معزور رکھتے ہیں۔ جس روز خدا میری خوشخبری کے مطابق یسوع مسیح کی معرفت آدمیوں کی پوشیدہ باتوں کا انصاف کریگا"۔

سچ مچ کی سچائی کے وجود کے لئے دوسرا ثبوت ہے سائينس۔ سائینس محض ایک علم کی تلاش ہے جو ہم جانتے اور زیادہ معلومات کے لئے سوال کرتے ہیں۔ اس کا مطالعہ یا ایک تحقیق ہے۔ اس لئے تمام سائینس کا مطالعہ ضرورت کے حساب سے اس اعتقاد پر پایا جانا چاہئے کہ دنیا میں کچھ اعتراضات کی سچائیاں وجود رکھتی ہیں اور اس سچائيوں کی دریافت کی جاسکتی ہے یا ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مگر بغیر سچ مچ کی سچائی کے مطالعہ کے کیا ہو سکتا ہے؟ ایک شخص کیسے معلوم کرسکتا ہے کہ سائینس کے نتیجئہ تحقیقات سچ ہیں؟ دراصل سائینس کے تمام اصول سچ مچ کی سچائی کی وجود کی بنا پر ہی ہے۔

سچ مچ کی سچائي / عالمگیر سچائی کے وجود کے لئے تیسرا ثبوت ہے مزہب۔ دنیا کے تمام مزاہب زندگی کے لئے معنی اور وضاحت پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مزاہب بنی نوع انسان کی خواہش سے پرے پیدا ہوئے ہیں یا پھر ان کی بنیاد رکھی گئی ہے جو کہ محض وجود سے زیادہ ہے۔ حالانکہ بنی انسان کا مزہب خدا کی جستجو کرتا ہے، مستقبل کے لئے امید رکھتا ہے، اس کے لئے گناہوں کی معافی دستیاب ہے، کشمکش کے دوران سلامتی دیتا اور ہمارے گہرے سوالوں کا جواب دیتا ہے۔ مزہب حققیت میں ثبوت ہے کہ بنی انسان جانوروں سے بڑھکر اشرف المخلوقات ہے۔ بنی انسان ایک اعلیٰ مقصد کے لئے تخلیق کئے جانے، ایک شخصی اور مقصدر سے بھرا خالق کے لئے بھی ثبوت ہے۔ جسنے انسان کے اندر اس خالق کو جاننے کی خواہش کو ذہن نیشن کرا رکھا ہے۔ اور اگر حقیقت میں ایک خالق ہے تو پھر وہ سچ مچ کی سچائی کے لئے ایک معیار بن جاتا ہے، اور یہ اس کا اختیار ہے کہ وہ اس سچائي کو بنی انسان میں قائم کرے۔

خوش قسمتی سے ہمارا ایک خالق ہے، اور اس نے ہم پر اپنے کلام کے وسیلہ سے اپنی سچائي کا انکشاف کیا ہے جسے بائيبل کہتے ہیں۔ سچ مچ کی سچائی / عالمگیر سچائی کو تھبی معلوم کرنا ممکن ہوگہا جب یسوع مسیح کے ساتھ جو حق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ایک شخصی رشتہ قائم ہوجائے۔ یسوع میسح نے ایک واحد حق اور واحد زندگی ہونے کا اور خدا تک پہنچنے کا راستہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ (یوحنا 14:6)۔ صورت حال جو سچ مچ کی سچائی کے وجود کا ہے وہ اس سچائی کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک قادر مطلق خدا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ اور جس نے خودکو ہم پر ظاہر کیا ہے تاکہ ہم اس کو اس کے بیٹے یسوع مسیح سے شخصی طور پر معلوم کریں کیونکہ سچ مچ کی سچائي یہی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



سچ مچ کی سچائی / عالمگیر سچائی کی طرح کیا ایسی کوئی چيز ہے؟