اسقاط حمل کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟



سوال: اسقاط حمل کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟

جواب:
کلام پاک کبھی بھی اسقاط حمل کے معاملہ کو لے کر خاص طور سے مخاطب نہیں کرتا۔ کسی طرح کلام پاک مین ان گنت تعلیم موجود ہیں جو نہایت ہی صاف کرتی ہے کہ اسقاط حمل کی بابت خداکا کیا نظریہ ہے۔ یرمیاہ 1:5 ہم سے کہتاہے کہ خدا ہم کو ماں کےحمل میں پڑنے سے پہلے جانتاہے۔ زبور 16-13 :139 ماں کے پیٹ میں ہماری تخلیق اور تشکیل خدا کی مستعد ادا کاری کو بیان کرتا ہے۔

خروج 25-22 :21 شریعت کے مطابق وہی موت کا خمیازہ ایک شخص کو دینے کے لئے ہدایت کرتاہے جس نے حاملہ عورت کو ایسا مارا ہو کہ پیٹ میں اس کا بچہ مر گیا ہو۔ اس لئے کہ یہ خون کرنے کے برابر ہے۔ یہ صاف طور سے اشارہ کرتاہے کہ خدا ماں کے رحم میں پلنے والےایک بچہ کااس طرح سے لحاظ کرتاہے جیسے کہ ایک پورا پلا بڑھا ہوا بالغ ہو۔ مسیحی کے لئےاسقاط حمل ایک عورت کے حق کے چناؤ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک زندگی اور موت کا معاملہ ہے جو خداکی صورت اور شبیہہ میں بنایا گیاہے۔ (پیدائش 9:6 ؛ 27-26 :1)۔

پہلا بحث کا معاملہ جو ہمیشہ اسقاط حمل پر مسیحی وضع کے خلاف اٹھتاہے وہ یہ ہے کہ "عصمت دری یا محرمات کے ساتھ مباشرت کے معاملہ کی بابت کیاخیال ہے جوایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان ہوتاہے"؟ یہ اتنا ہولناک ہوگاجتنا کہ عصمت دری اور محرمات کے ساتھ مباشرت کے انجام پر عورتیں یاجوان لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں۔اور ان بچوں کااسقاط حمل کر دیا جاتاہے ہمارا یہ کہنا ہے کہ دو غلط لوگ ایک صحیح بات کوانجام نہیں دے سکتے۔ عصمت دری یا محرمات کے ساتھ مباشرت کے انجام پر کسی طرح جو بچے پیدا ہوتے ہیں انہیں ایک ایسے جوڑے کے ذریعہ گود لیا جاتاہے جن کے بچے نہیں ہوتے۔ یا اس بچے کی ماں کے ذریعہ پرورش پاتاہے۔ پھر سے ایک بار بتاناچاہتے ہیں کہ ایسے معاملات میں بچہ چاہے وہ لڑکا ہو لڑکی معصوم ہوتاہے۔ اس لئے باپ کے برے عمل کی سزا بچہ کو نہیں ملنی چاہئے۔

دوسری بحث جو عام طور پر مسیحی محرمات کے ساتھ مباشرت کے خلاف اٹھتاہے وہ یہ ہے کہ "حمل رک جانے پرعورت (ماں ) کی زندگی جوکھم میں پڑ جاتی ہے اس کے بارے میں کیاخیال ہے"؟ ایمانداری سے کہا جائے تو ایسی حالت میں اسقاط حمل کی رائے کو لے کر جواب دینے کے لئے یہ بہت ہی مشکل سوال ہے۔ سب سے پہلے آئیے یاد کریں کہ یہ حالت آج کی دنیا میں 1/10% فیصد اسقاط حمل سےبھی کم معاملوں کا سبب ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ عورتیں اسقاط حمل کو اس ڈر سے انجام دیتی ہیں کہ کہیں ان کی جان خطرہ میں نہ پڑ جائے۔ سو وہ اپنی جان بچانے کی خاطر اسقاط حمل کوانجام دیتی ہیں۔ دوسرا آئیے ہم یاد کریں کہ ہمارا خدا معجزوں کو انجام دینے والا خداہے جو دواؤں سے طبی علاج کے تمام عدم مساوات (غلط اثرات) کےباوجود بھی ایک ماں اور بچہ کی زندگی کو بچا سکتاہے۔ آخر کار حالانکہ اس سوال کا فیصلہ ایک شوہر، بیوی اور خداکے درمیان کیاجا سکتا ہے۔ اس لئے کسی بھی جوڑے کوجو بڑی شدت سے مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہو اسے خداوند سے حکمت کے لئے دعا کرنی چاہئےکہ ان دونوں کو کیا کرنا چاہئے (یعقوب 1:5)۔

موجودہ زمانہ میں 95% فیصد اسقاط حمل جو انجام دئے جاتے ہیں وہ صرف اس سبب سے کہ عورت ایک بچہ کی ماں نہیں بننا چاہتی۔ 5 فیصدی سے کم معاملے عصمت دری اور ایک ہی خاندان کے محرمات کے ساتھ مباشرت کے نتیجے ہوتے ہیں یا پھر ماں کی تندرستی کے جوکھم کو لے کر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ 5 فیصدی اسقاط حمل کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ ماں باپ کو پہلا بچہ نہیں چاہئے جبکہ ماں کے رحم میں انسانی زندگی ہر ممکن طور سے اس قابل ہے کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی اجازت دیتاہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اسقاط حمل ہونے دیاہے یاد رکھیں کہ اسقاط حمل کا گناہ دیگر گناہوں سے کم معافی کے قابل نہیں ہے۔ مطلب یہ گناہ اور گناہوں سے زیادہ سزا کے لائق ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ مسیح پر ایمان کے سبب سے تمام گناہ معاف کیا جا سکتا ہے۔ (یوحنا 3:16؛ رومیوں 8:1؛ کلیسیوں 1:14)۔ ایک عورت جس نے ایک اسقاط حمل کو ہونے دیا ہو، ایک مرد جس نے اسقاط حمل کے لئے حوصلہ بڑھایا ہو، یا ایک ڈاکٹر جس نے اسقاط حمل کوانجام دیا ہو وہ سب ایک ہی گناہ میں شریک کئے جاتے ہیں۔ مگر وہ سب کے سب مسیح یسوع پرایمان لانے کے ذریعہ معاف کئے جا سکتے ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



اسقاط حمل کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟