settings icon
share icon
سوال

اجاڑنے والی مکروہ چیز کیا ہے؟

جواب


"اُجاڑنے والی مکرُوہ چیز" کا ذکر متی 24 باب 15 آیت میں ملتا ہے۔ "پس جب تم اُس اُجاڑنے والی مکرُوہ چیز کو جس کا ذِکر دانی ایل نبی کی معرفت ہوا۔ مُقدّس مقام میں کھڑا ہوا دیکھو (پڑھنے والا سمجھ لے)"۔ یہ آیت دانی ایل 9 باب 27 آیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ "اور وہ ایک ہفتہ کے لئے بہتوں سے عہد قائم کرے گا اور نصف ہفتہ میں ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا اور فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکرُوہات رکھی جائیں گی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پہنچ جائے گی اور وہ بلا جو مُقرر کی گئی ہے اُس اجاڑنے والے پر واقع ہو گی"۔ 167قبل ازمسیح میں ایک یونانی حکمران نے جس کا نام انطیوکس اپیفنیز تھا یروشلیم کی یہودی ہیکل میں سوختنی قربانی کے مذبح پر زیوس دیوتا کے لئے مذبح تعمیر کروا دیا۔ اُس نے یروشلیم کی ہیکل کے مذبح پر سُوَر کی قربانی گذرانی۔ اِس واقع کو اجاڑنے والی مکرُوہ چیز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

متی 24 باب 15 آیت میں تقریباً دو سو سال بعد یسوع مسیح مذکورہ بالا اجاڑنے والی مکرُوہ چیز کا ذکر کر رہا تھا جو کہ پہلے ہو چکی تھی۔ لہذا یسوع یہی پیشن گوئی کر رہا ہو گا کہ مستقبل میں کسی وقت یروشلیم میں موجود یہودی ہیکل میں ایک اور اجاڑنے والی مکرُوہ چیز ظاہر ہو گی۔ بائبل کے زیادہ تر مفسرین یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مخالفِ مسیح کا حوالہ دے رہا تھا جوکوئی ایسا ملتا جلتا کام کرے گا جیسا انطیوکس چہارم نے کیا تھا۔ یہ تصدیق شُدہ بات ہے کہ دانی ایل 9 باب 27 آیت میں مذکور پیشن گوئی کا کچھ حصہ 167قبل از مسیح میں انطیوکس اپیفنیز کے ساتھ پورا نہیں ہوا تھا۔کیونکہ انطیوکس نے اسرائیل کے ساتھ سات سال کے لئے کوئی عہد نہیں باندھا تھا۔ یہ مخالفِ مسیح ہی ہے جو آخری دور میں اسرائیل کے ساتھ سات سالہ عہد باندھے گا اور پھر یروشلیم کی ہیکل میں اجاڑنے والی مکرُوہ چیز سے ملتا جلتا کام کر کے اپنے عہد کو توڑ دے گا۔

مستقبل کی اجاڑنے والی مکرُوہ چیز جو بھی ہے، کسی بھی شخص کے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ اِس کا ارتکاب کرنے والا شخص مخالفِ مسیح ہی ہو گا۔ مکاشفہ 13 باب 14 آیت بیان کرتی ہے کہ مخالفِ مسیح پرستش کے لئے سب کو مجبور کرے گا۔ زندہ خُدا کی ہیکل کو مخالفِ مسیح کی پرستش میں تبدیل کرنا ہی حقیقی طور پر "مکرُوہ چیز" ہے۔ جو لوگ عظیم مصیبتوں کے دور میں زندہ اور موجود ہوں گے وہ دیکھیں اور پہچانیں گے کہ یہ واقعہ عظیم مصیبتوں کے دور کا ساڑھے تین سال کا بدترین آغاز ہے اوریہ بھی کہ خداوند یسوع مسیح کی آمد ناگزیر اور انتہائی قریب ہے۔ "پس ہر وقت جاگتے اور دُعا کرتے رہو تاکہ تم کو اِن سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابنِ آدم کے حضُور کھڑے ہونے کا مقدُور ہو" (لوقا 21 باب 36 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اجاڑنے والی مکروہ چیز کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries