settings icon
share icon
سوال

مسیح میں قائم رہنے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


"قائم" رہنے کا مطلب ہے جینا، جاری رکھنایا رہنا؛ پس مسیح میں قائم رہنے کا مطلب ہے مسیح میں ہونا، مسیح میں رہنا، مسیح میں قائم رہنا۔ جب کوئی شخص نجات پا لیتا ہے تو اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ "مسیح میں" ہے (رومیوں 8باب 1 آیت؛ 2 کرنتھیوں 5باب17 آیت)، اور وہ مسیح کے ساتھ ایک مستقل رشتے میں محفوظ ہے (یوحنا 10باب28-29 آیات)۔ اِس لیے مسیح میں قائم ہونا کوئی ایسا خاص درجہ نہیں ہے جو صرف چند مسیحیوں کے لیے دستیاب ہو بلکہ تمام سچے ایمانداروں کو یہ مقام حاصل ہے۔ مسیح میں قائم ہونے والے نجات یافتہ ہیں جبکہ مسیح کی پیروی نہ کرنے والے نجات یافتہ نہیں ہیں۔

مسیح میں قائم ہونے کی تعلیم 1 یوحنا 2باب5-6 آیات کے اندر دی گئی ہے، جہاں پر یہ "مسیح کو جاننے" کے مترادف ہے (2-3 آیات)۔ بعد میں اِسی باب کے اندر یوحنا باپ اور بیٹے میں "قائم رہنے" کو ابدی زندگی کے وعدے کے مترادف قرار دیتا ہے (24-25 آیات)۔پس بائبلی لحاظ سے "قائم ہونا" اور "رہنا" اور"جاننا" ایک ہی چیز کے لیے دئیے جانے والے مختلف حوالہ جات ہیں۔

مسیح میں قائم رہنے جسے الفاظ ایک گہرے اور بہت قریبی تعلق کی تصویر پیش کرتے ہیں نہ کہ محض سطحی شناسائی کی۔ یوحنا 15باب4-7 آیات کے اندر خُداوند یسوع اپنے شاگردوں کو انگور کے درخت کی مثال دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ اُن کے لیے اُس سے زندگی حاصل کرنا انتہائی لازم ہے:" تم مجھ میں قائم رہو اور مَیں تم میں ۔ جس طرح ڈالی اگر انگور کے درخت میں قائم نہ رہے تو اپنے آپ سے پھل نہیں لا سکتی اُسی طرح تم بھی اگر مجھ میں قائم نہ رہو تو پھل نہیں لا سکتے۔مَیں انگُور کا درخت ہُوں تم ڈالِیاں ہو ۔ جو مجھ میں قائم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وُہی بُہت پھل لاتا ہے کیونکہ مجھ سے جُدا ہو کر تم کچھ نہیں کر سکتے۔اگر کوئی مجھ میں قائِم نہ رہے تو وہ ڈالی کی طرح پھینک دِیا جاتا اور سُوکھ جاتا ہے اور لوگ اُنہیں جمع کر کے آگ میں جھونک دیتے ہیں اور وہ جل جاتی ہیں۔اگر تم مجھ میں قائم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو ۔ وہ تُمہارے لئے ہو جائے گا۔ " مسیح کے ساتھ لازمی ترین تعلق اور رفاقت جو ہمیں ہماری نجات مہیا کرتی ہے اُس کے بغیر نہ تو ہم میں کوئی زندگی ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی پیداواری صلاحیت ہو سکتی ہے۔ دوسری جگہ پر بائبل مُقدس مسیح کے ساتھ ہمارے تعلق کو سر اور جسم کے باہمی تعلق کے ساتھ تشبیہ دیتی ہے (کلسیوں 1باب18 آیت) – اور یہ ایک اور بہت ہی اہم تعلق ہے۔

کچھ لوگ یوحنا 15باب6 آیت کی تنبیہ (اگر کوئی مجھ میں قائم نہ رہے تو وہ ڈالی کی طرح پھینک دِیا جاتا اور سُوکھ جاتا ہے اور لوگ اُنہیں جمع کر کے آگ میں جھونک دیتے ہیں اور وہ جل جاتی ہیں۔) کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ مسیحی ہر وقت اپنی نجات کو کھونے کے خطرے میں ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص نجات تو پا جائے لیکن وہ مسیح میں "قائم" نہ رہ پائے اور اِس وجہ سے اُسے باہر نکال دیا جائے یا پھینک دیا جائے۔ لیکن یہ چیز اُسی صورت میں سچ ہو سکتی تھی اگر مسیح میں قائم ہونا نجات پانے سے علیحدہ ہوتا۔ مسیح کے ساتھ قریبی تعلق کی بات کی جائے تو یہ نجات پانے کے بعد کی حالت ہے۔ بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ نجات فضل کے وسیلے سے ممکن ہے اور فضل ہی سے برقرار رہتی ہے (گلتیوں 3باب2-3 آیات)۔ مزید برآں اگر کوئی شاخ بیل سے اتر کر گر سکتی ہے اور اِس طرح سے وہ اپنی نجات کو کھو سکتی ہے تو بائبل مقدس کے دوسرے کئی ایک حوالہ جات کی تردید ہو جائے گی (دیکھیں یوحنا 10باب27-30 آیات)۔

انگور کے حقیقی درخت کے استعارے کی تشریخ کو سب سے بہتر طریقے سے یوں پیش کیا جا سکتا ہے: یسوع سچ میں حقیقی انگور کا درخت ہے۔ وہ شاخیں جو اُس میں "قائم" ہیں وہ حقیقت میں نجات یافتہ لوگ ہیں – اُن کا خُداوند یسوع کے ساتھ حقیقی اور زندہ تعلق ہے۔ خشک شاخیں وہ ہیں جو مسیح میں "قائم" نہیں ہیں اور جن کا مسیح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اگرچہ وہ اِس بات کا دکھاوہ کرتے ہیں کہ اُن کا انگور کے درخت کے ساتھ تعلق ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں اور وہ مسیح سے کسی طرح کی کوئی زندگی حاصل نہیں کرتے۔ آخر میں اُن دکھاوہ کرنے والوں کو بالکل ویسےہی دیکھا جائے گا جیسے کہ وہ ہیں۔ مسیح کو سطحی طور پر چمٹنے والے جن کا مسیح کے ساتھ قطعی طور پر کوئی رشتہ نہیں تھا۔ ایک وقت پر تو پطرس اور یہوداہ اسکریوتی اپنے اپنے کاموں سے ایک جیسے ہی لگتے تھے، لیکن پطرس انگور کے درخت کے ساتھ حقیقت میں پیوستہ تھا جبکہ یہوداہ نہیں تھا۔

یوحنا مرجھا جانے والی شاخ کے اصولوں کو اِس طرح سے بیان کرتا ہے : " وہ نکلے تو ہم ہی میں سے مگر ہم میں سے تھے نہیں ۔ اِس لئے کہ اگر ہم میں سے ہوتے تو ہمارے ساتھ رہتے لیکن نکل اِس لئے گئے کہ یہ ظاہر ہو کہ وہ سب ہم میں سے نہیں ہیں " (1 یوحنا 2باب 19 آیت)۔

نجات کا ایک ثبوت استحکام ، مسیح میں مستقل طور پر قائم رہنا ہے۔ نجات یافتہ مسیح کے ساتھ اپنے سفر میں قائم و دائم رہیں گے (دیکھئے مکاشفہ 2باب26 آیت)۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ "قائم رہیں گے" یا اُس میں رہیں گے۔خُدا اُن میں اپنے کام کی تکمیل کرے گا (فلپیوں 1باب6 آیت)، اور وہ ایسا پھل لائیں گے جس سے خُدا کے نام کو جلال ملے گا (یوحنا 15باب5 آیت)۔ وہ جو دور چلے جاتے ہیں، خُداوند یسوع سے اپنا منہ پھیر لیتے ہیں، یا اُس میں قائم رہنے میں ناکام ہوتے ہیں اُن کے اِس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نجات یافتہ نہیں ہیں۔ مسیح میں قائم رہنا ہمیں نجات نہیں دیتا، بلکہ یہ تو بذاتِ خود نجات پانے کی نشانی ہے۔

مسیح میں قائم رہنے کے ثبوت میں (مثال کے طور پر یہ ثبوت کہ کوئی شخص حقیقی نجات یافتہ ہے اور وہ دکھاوہ نہیں کر رہا) مسیح کے حکموں کی تابعداری کرنا (یوحنا 15باب10 آیت؛ 1 یوحنا 3باب24 آیت)؛ یسوع کے نمونے کی پیروی کرنا (1 یوحنا 2باب6 آیت)؛ عادتاً کئے جانے والے گناہوں سے باز رہنا(1 یوحنا 3باب6 آیت) اور اپنے اندر الٰہی حضوری کا احساس رکھنا (1 یوحنا 4باب13 آیت) شامل ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیح میں قائم رہنے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries