settings icon
share icon
سوال

کیا ورڈ فیتھ موومنٹ بائبلی تعلیمات کے مطابق درست ہے ؟

جواب


یہ طے شُدہ بات ہے کہ ورڈ فیتھ تحریک کی طرف سے دی جانے والی تعلیمات غیر بائبلی ہیں۔ ورڈ فیتھ کوئی علیحدہ مسیحی فرقہ نہیں اور نہ ہی اِس کی کوئی با ضابطہ تنظیم یا پیشوائی انتظام یا ڈھانچہ ہے۔ بلکہ یہ ایک تحریک ہے جس پر بہت زیادہ مشہور و معروف پادریوں جیسے کہ کینتھ ہیگن، بینی ہن، کینتھ کوپلینڈ، پاؤل اور جین کراؤچ اور فریڈ پرائس کا اثر و رسوخ ہے۔

ورڈ فیتھ موومنٹ نے بیسویں صدی کے آخر میں پینٹی کوسٹل تحریک کے اندر جنم لیا اور پھر یہ بڑھتے ہوئے ایک بڑی تحریک بن گئی۔ اِس کا بانی ای۔ ڈبلیو کینیون (E.W. Kenyon)تھا جس نے فینیاس قویمبی(Phineas Quimby) کی مابعد الطبیعیاتی تعلیمات بعنوان نیا خیال/تصور/قیاس کا مطالعہ کیا۔ مائنڈ سائنس نامی ایک نظریہ سامنےآیا (جس نے یہ تصور پیش کیا کہ "Name it and Claim it" یعنی کسی بھی چیز کا نام لیں اور اُس کی ملکیت کا دعویٰ کریں)۔ مائنڈ سائنس کو پینٹی کوسٹل کلیسیا کی طرف سے اپنا لیا گیا پھر راسخ العقیدہ مسیحیت اور تصوف /علمِ باطنیت کا ایک بہت ہی عجیب امتزاج سامنے آیا۔ کینتھ ہیگن نے ای۔ ڈبلیو کینیون سے تعلیم پائی اور اِس ورڈ فیتھ موومنٹ کی بنیاد رکھی جسے ہم آجکل کے دور میں دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ورڈ فیتھ موومنٹ کے ہر ایک اُستاد کی تعلیم بالکل بدعتی سے لیکر بالکل مضحکہ خیز ہو سکتی ہے، اِس تحریک کی ایک بنیادی الہیاتی تعلیم بھی ہے اور اِس تحریک کا ہر ایک اُستاد اپنی باتوں اور تعلیمات کو اُس علمِ الہیات کے ساتھ ہم آہنگ رکھتا ہے ۔

ورڈ فیتھ موومنٹ کی بنیادی ترین تعلیم "ایمان کی طاقت/قوت" ہے۔ مانا جاتا ہے کہ الفاظ کے استعمال کےذریعے سے ایمان کی طاقت کو عمل میں لایا جا سکتا ہے اور پھر جو کچھ کلام میں وعدہ کیا گیا ہے (جیسے کہ صحت اور دولت) اُسے اپنے الفاظ کے ذریعے سے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ ایمان کی طاقت کو چلانے والے اصول خُدا کی حاکمیت اور مرضی کے بغیر ہی چلتے ہیں اور خُدا خود اِن اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے،وہ اِن اصولوں کے بغیر خود کام نہیں کر سکتا۔ یہ تصور بُت پرستی سے کسی طور پر کم نہیں –اِس میں ہم اپنے آپ کو بڑھاتے ہیں – اور پھر خود کو دیوتا نما بنا لیتے ہیں جو اپنے منہ کے الفاظ سے کچھ بھی تخلیق کر سکتا ہے۔

اور یہاں سے اِس تحریک کا علمِ الہیات کلامِ مُقدس کی تعلیمات سے مسلسل طور پر دور جاتا رہتا ہے: یہ تحریک یہ دعویٰ کرتی ہے کہ خُدا نے انسان کو اپنی حقیقی جسمانی ساخت پر ایک چھوٹے خدا کے طور پر تخلیق کیا ہے۔ گناہ میں گرنے سے پہلے انسان کے پاس اپنے منہ کے کلام سے چیزوں کو تخلیق کرنے کی طاقت اور قدرت تھی ۔ گناہ میں گرنے کے بعد انسان نے شیطان کی فطرت کو اپنا لیا اور اپنے منہ کے کلام سے چیزوں کو تخلیق کرنے کی قابلیت کھو دی۔ اِس ساری صورتحال کو درست کرنے کے لیے یسوع نے اپنی الوہیت کو ختم کر دیا اور انسان بن گیا، وہ رُوحانی طور پر مرا، اُس نے شیطان کی فطرت کو اپنایا، وہ جہنم میں گیا، پھر اُس نے نئی پیدایش کا تجربہ کیا اور پھر وہ خُدا کی الٰہی فطرت کے ساتھ دوبارہ جی اُٹھا۔ اِس کے بعد یسوع نے رُوح القدس کو بھیجا تاکہ وہ الٰہی تجسم کی طرز پر ایمانداروں کو چھوٹے خُدا بنائے جیسا کہ خُدا باپ کی ہمیشہ سے انسان کے لیے خواہش تھی۔

اِن تعلیمات کی فطری پیش رفت کی بدولت ہم ایک بار پھر چھوٹے خُدا ہونے کی بدولت اپنے الفاظ کی مدد سے ایمان کی قوت کو عمل میں لاتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر ایک شعبے میں خوشحال ہو سکتے ہیں۔ بیماریاں، گناہ اور ناکامیاں ایمان کی کمی کا نتیجہ ہیں اور مثبت اقرار –اپنے لیے خُدا کے وعدوں کو وجود میں لانے کا دعویٰ کرنے کی بدولت ہم اِن سب سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ اگر ہم اِس کو سادہ طور پر دیکھیں تو ورڈ فیتھ موومنٹ انسان کو سربلند کرتے ہوئے خُدا کے مرتبے کے برابر لے جاتی ہے اور خُدا کو کم کرتے ہوئے انسان کے برابر کر دیتی ہے۔ اور یہاں پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تحریک مسیحیت کی بالکل جھوٹی نمائندگی کرتی ہے۔ بلا شک و شبہ ورڈ فیتھ موومنٹ اُس سب پر دھیان نہیں دیتی جو کچھ خُدا کے کلام کے اندر لکھا ہوا ہے۔ کلامِ مُقدس کی بجائے شخصی مکاشفے یا رویاؤں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے تاکہ ایسے عقائد کو جنم دیا جا سکے جو بالکل عجیب ہیں، اور یہ چیز اِس تحریک کی بدعتی نوعیت کی ایک اور واضح مثال ہے۔

ورڈ فیتھ کی تعلیمات کو غلط قرار دینے کے لیے صرف اور صرف بائبل کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ خُدا اکیلا ہی اِس ساری کائنات کو تخلیق کرنے والا اور اِس پر حاکمیت رکھنے والا ہے (پیدایش 1باب 3آیت؛ 1 تیمتھیس 6باب15آیت)، اور خُدا کو چیزوں کو تخلیق کرنے کے لیے کسی طرح کا کوئی ایمان رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ خود ہم سب کے ایمان کا مرکز ہے (مرقس 11باب22آیت؛ عبرانیوں 11باب3آیت)۔ خُدا ایک رُوح ہے اور اُس کا کوئی مادی جسم نہیں ہے (یوحنا 4باب24آیت)۔ انسان کو خُدا کی شبیہ پر بنایا گیا تھا (پیدایش 1باب26، 27آیات؛ 9باب6آیت)، لیکن یہ چیز نہ تو انسان کو کسی طرح کی کوئی الٰہی ذات بناتی ہے نہ ہی کوئی چھوٹا خُدا اور دیوتا۔ صرف خُدا کی فطرت ہی الٰہی ہے (گلتیوں 4باب8آیت؛ یسعیاہ 1باب6-11آیت؛ 43باب10آیت؛ 44باب6آیت؛ حزقی ایل 28باب2آیت؛ 8 زبور 6-8آیات)۔ یسوع مسیح ابدی ہے اور وہ خُدا کا اکلوتا بیٹا ہے ،ا ور صرف وہی اکیلا خُدا کا تجسم ہے (یوحنا 1باب1آیت؛ 2باب14، 15، 18 آیات ، 3باب16آیت؛ 1 یوحنا 4باب1آیت)۔ اُس میں الوہیت کی ساری معموری سکونت کرتی تھی (کلسیوں 2باب9آیت)۔ انسان بننے کے ذریعے سے یسوع نے آسمانی جلال کو تو چھوڑا لیکن اُس نے اپنی الوہیت کو نہیں چھوڑ دیا تھا (فلپیوں 2باب6-7آیات)، اگرچہ اُس نے اِس زمین پر انسانی حالت میں اپنی اُس قدرت کو پورے طور پر استعمال نہ کرنے کا انتخاب کیاتھا۔

ورڈ فیتھ موومنٹ لا تعداد لوگوں کو دھوکا دے رہی ہے اور اُنہیں اپنی زندگی میں وہ طریقہ اپنانے اور اُس طرح کا ایمان رکھنے کی دعوت دے رہی ہے جو کہ بائبلی نہیں ہے۔ اِس کی جڑوں میں وہی پڑانا جھوٹ ہے جو شیطان باغِ عدن کے وقت سے انسانوں کو بتاتا چلا آ رہا ہے : "تم خُدا کی مانند بن جاؤ گے" (پیدایش 3باب5آیت)۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ وہ سب جو ورڈ فیتھ موومنٹ کی تعلیمات پر یقین کر لیتے ہیں وہ آج بھی شیطان کے اُس جھوٹ کو سُن اور مان رہے ہیں۔ ہماری اُمید ہمارے خُدا میں ہے، نہ کہ کسی طرح کے الفاظ میں، اور نہ ہی ہمارے اپنے ایمان میں (33 زبور 20-22آیات)۔ ہمارا ایمان خُدا سے ہی آتا ہے (افسیوں 2باب8آیت؛ عبرانیوں 12باب2آیت) اور یہ کچھ ایسا نہیں ہے جو ہم خود سے تخلیق کرتے ہیں۔ اِس لیے ورڈ فیتھ موومنٹ اور ہر اُس چرچ کے حوالے سے ہوشیار ہو جائیں جو اپنے آپ کو ورڈ فیتھ موومنٹ کی تعلیمات سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ورڈ فیتھ موومنٹ بائبلی تعلیمات کے مطابق درست ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries