settings icon
share icon
سوال

رُوح پرستی /سپِرٹ ازم کیا ہے ؟

جواب


جیسا کہ اس کے بانی ایلن کارڈیک نے بیان کیا ہے کہ سپرٹ ازم "ایک سائنس ہے جو لافانی مخلوقات اور انسانوں کے درمیان تعلق کے لیے وقف ہے۔" کارڈیک ایک فرانسیسی ماہر تعلیم تھا جس کا اصل نام ہپولائٹ لیون ڈینیزرڈ ریویَل(Hippolyte Leon Denizard Rivail) تھا۔ کارڈیک نے کارڈیکی رُوحانی عقیدے کو ضابطہ طور پر ترتیب دیا جس کا مقصد رُوحوں- اُن کے نقطہ ِ آغاز ، فطرت، تقدیر اور طبعی دنیا سے تعلق کا مطالعہ کرنا تھا ۔ سپرٹ ازم ایک مقبول تحریک بن گئی تھی اور اب 35 ممالک میں اِس کی نمائندگی کی جاتی ہے ۔ یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں کہ سپرٹ ازم کس طر ح سے رُوحانیت/Spiritualism سے مختلف ہے کارڈیک نے ایک کتاب The Spirits' Book (رُوحوں کی کتاب) بھی قلمبند کی ۔

سپرٹ ازم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ لافانی رُوحیں خود کو اخلاقی اور شعوری طور پر بہتر بنا نے کے لیے کئی دورِ حیات تک ایک بدن سے دوسرے بدن میں منتقل ہوتی رہتی ہیں ۔ اگرچہ یہ عقیدہ دوبارہ جنم لینے سے ملتا جلتا لگتا ہے لیکن یہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ سپرٹ ازم کے مطابق رُوحیں جانوروں یا زندگی کی کسی بھی طر ح کی پست شکل میں واپس نہیں آ سکتیں۔ رُوح کی منتقلی ہمیشہ آگے کی جانب ہوتی ہے اور رُوحیں ہمیشہ انسانی بدنوں میں رہتی ہیں۔ رُوحانی سپرٹ ازم کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ عمل انسانوں میں مزاج اور عقل کے فرق کی وضاحت کرتا ہے۔ سپرٹ ازم یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ بدن سے جُدا رُوحیں زندہ لوگوں پر شفقت بھرے یا مضر اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور یہ کہ انسان محفلِ کشف اورکسی غیب بین کے ذریعے رُوحوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ انیسویں صدی میں جدت پسندی کے ساتھ ساتھ سپرٹ ازم نے بھی مقبولیت پائی اور یہ کئی محاذوں بالخصوص اس عقیدے پر اِس فلسفے کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ انسان عقلی فکر کے ذریعے مسلسل بہتری لا سکتا ہے ۔ مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل اور اُن کی اہلیہ اِس علم و نظریہ کے مشہور ماہرین تھے ۔

سپرٹ ازم کے حامیوں کے مطابق سپرٹ ازم کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک فلسفہ اور "طرزِزندگی" ہے۔ اس میں کوئی خدمت گزار نہیں ہوتے اور گروہ کے اجلاس رُوحوں کے بارے میں اِس قسم کے خیالات کا اشتراک کرنے پر مشتمل ہوتے ہیں کہ وہ دنیا میں کیسے نقل و حرکت کر سکتی یا نہیں کر سکتی ہیں اور اِن حرکات کے نتائج، وغیرہ۔ گوکہ وہ اخلاقیات کے مطابق زندگی بسر کرنے اور ذی شعور فکری کوششوں کی تائید کرتے ہیں سپرٹ ازم کے حامی عبادت یا اصولوں کی پیروی کرنے کی نسبت سائنسی تحقیق کو اہمیت دیتے ہیں ۔

بائبل سپر ٹ ازم سے واضح طور پر منع کرتی ہے۔ خدا کے لوگوں کو رُوحوں سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ محفلِ کشف اور جادو گری خدا کی طرف سے منع کردہ پُر اسرار سرگرمیاں ہیں (احبار 19باب 31آیت؛ 20باب 6آیت؛ گلتیوں 5باب 20آیت؛ 2تواریخ 33باب 6آیت)۔ سپرٹ ازم علم الا پُر اسرا کو "سائنس" کے لبادے میں چھپاتا ہے، لیکن یہ حقیقت کوئی فرق پیدا نہیں کرتی ۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری ہی حفاظت کے پیش ِ نظر رُوحانی دنیا ہمارے لیے ممنوعہ ہے۔ سپر ٹ ازم کا جن رُوحوں کے ساتھ تعلق ہے وہ انسان نہیں ہیں؛ بائبل فرماتی ہے کہ موت کے بعد انسا نوں کی رُوحوں کو عدالت میں حاضرہونا پڑتا ہے (عبرانیوں 9باب 27آیت ) اور کلامِ مقدس میں یہ تجویز کرنے والا کوئی بیان نہیں ہے کہ رُوحیں کسی بھی وجہ سے یا کسی بھی شکل میں زندوں کی زمین پر واپس آتی ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ابلیس دھوکہ بازہے (یوحنا 8باب 44آیت)۔ کلامِ مقدس سے عقلی نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ سپرٹ ازم کے ماہر کا "مرنے والوں کی رُوحوں" کے ساتھ کوئی بھی رابطہ حقیقت کے بھیس میں شیاطین سے رابطہ ہے (مکاشفہ 12باب 9آیت)۔سپر ٹ ازم بائبل کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اور رُوحانی طور پر خطرناک ہے۔ " تُم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالِف اِبلیس گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پِھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے "(1پطرس 5باب 8آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح پرستی /سپِرٹ ازم کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries