settings icon
share icon
سوال

کیا رُوح القدس کبھی کسی ایماندار سے جُدا ہوجاتا ہے؟

جواب


سادہ الفاظ میں کہیں تو رُوح القدس ایک سچے ایماندار سے کبھی جُدا نہیں ہوتا ۔ یہ حقیقت نئے عہد نامے کے بہت سے مختلف حوالہ جات میں واضح کی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر رومیوں 8باب 9آیت ہمیں بتاتی ہے " ۔۔۔مگر جس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُس کا نہیں" ۔یہ آیت بڑے واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر رُوح القدس نہیں ہے تو وہ نجات یافتہ نہیں ۔ لہذا اگر رُوح القدس ایک ایماندار کو چھوڑ دے تو وہ شخص مسیح کے ساتھ نجات کے تعلق کو کھو دے گا ۔ تاہم یہ بات بائبل کی اُس تعلیم کے برعکس ہے جو وہ مسیحیوں کی ابدی ضمانت کے بارے میں دیتی ہے ۔ یوحنا 14باب 16آیت اسی طرح کی ایک اور آیت ہے جو رُوح القدس کے ایمانداروں کی زندگی میں مستقل طور پر بسے رہنے کے بارے میں بات کرتی ہے ۔ اِس آیت میں یسوع بیان کرتا ہے کہ باپ " تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے "۔

یہ حقیقت کہ رُوح القدس ایک ایماندار کو کبھی نہیں چھوڑے گا افسیوں 1باب 13-14آیات میں بھی دکھائی دیتی ہے جس میں رُوح القدس کی طرف سے ایمانداروں پر "مہر" کیے جانے کا ذکر ہے " وہی خُدا کی ملکیت کی مخلصی کے لئے ہماری میراث کا بیعانہ ہےتاکہ اُس کے جلال کی ستایش ہو "۔ رُوح القدس کی طرف سے مہر کیا جانا رُوح القدس کی ملکیت اور اُس کے قبضے میں ہونے کی علامت ہے ۔ جو لوگ مسیح پر ایمان لاتے ہیں خدا نے اُن سب سے ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ کیا ہے اور اِس وعدے میں قائم رہنے کی ضمانت میں خدا نے ایماندار کی زندگی میں رُوح القدس بھیجا ہے جو مخلصی کے دن تک ایماندار کی زندگی میں بسا رہے گا ۔ گاڑی یا گھر کے بیعانے کی طرح خدا نے بھی ایماندار وں کے ساتھ اپنے ابدی تعلق کے بیعانہ میں رُوح القدس کو بھیجا ہے تاکہ وہ اُن کی زندگیوں میں بسا رہے ۔ اس بات کو 2کرنتھیوں 1باب 22آیت اور افسیوں 4باب 30آیت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام ایمانداروں پر رُوح القدس کی طرف سے مہر کی گئی ہے ۔

مسیح کی موت، مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے لوگوں کے ساتھ رُوح القدس کا تعلق "غیر مستقل" تھا۔ ساؤل بادشاہ پررُو ح القدس نازل ہوا مگر بعد میں وہ اُس سے جُدا ہو گیا( 1سموئیل 16باب 14آیت)۔ اِس کے بعد پھر رُوح القدس داؤدبادشاہ پر نازل ہوا ( 1سموئیل 16باب 13آیت)۔ بت سبع کے ساتھ زناکاری کی وجہ سے داؤدبادشاہ کو ڈر تھا کہ رُوح القد س اُس سے جُدا ہو جائے گا ( 51زبور 11آیت)۔ رُوح القدس بضلی ایل پر نازل ہوا تاکہ اُس کو خیمہ اجتماع کی ضروری چیزوں کو تیار کرنے کے قابل بنائے ( خروج 31باب 2-5آیات)۔ مگر اِس نزول کو مستقل تعلق کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا ۔ مگر یسوع مسیح کے آسمان پر جانے کے بعد یہ تمام معاملہ یکسر بدل جاتا ہے ۔ پنتیکست کے دن سے رُوح القدس مستقل طور پر ایمانداروں کی زندگیوں میں بسا ہوا ہے ( اعمال 2باب )۔ رُوح القدس کاایمانداروں کی زندگیوں میں مستقل طور پر بسے رہنا خدا کےاِس وعدے کی تکمیل ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا اور ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا ۔

گوکہ رُوح القدس ایک ایماندار سے کبھی جُدا نہیں ہوگا مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری زندگی میں موجود گناہ " رُوح القدس کو بجھا دے " ( 1تھسلنیکیوں 5باب 19آیت) یا "رُوح القدس کو رنجیدہ کر دے " ( افسیوں 4باب 30آیت) ۔ خدا کے ساتھ ہمارے رشتے پر گناہ ہمیشہ اثر انداز ہوتا ہے ۔ اگرچہ مسیح کے وسیلہ سے خدا کے ساتھ ہمارا رشتہ محفوظ ہے مگر ایسے گناہ جن کا اقرار نہ کیا جائے خدا کے ساتھ ہماری رفاقت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں رُوح القدس کے کام کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں ۔ اِس لیے اپنے گناہوں کا اقرار کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ خدا "ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے" (یوحنا 1باب 9آیت)۔ چنانچہ گوکہ رُوح القدس ہم سے کبھی جُدا نہیں ہوتا مگر اُس کی موجودگی کی شادمانی اور فوائد واقعی ہم سے جُدا ہو سکتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا رُوح القدس کبھی کسی ایماندار سے جُدا ہوجاتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries