settings icon
share icon
سوال

شنتو مت کیا ہے؟

جواب


شنتو مت مکمل طور پر ایک جاپانی مذہب ہے جس کی ابتدا کے متعلق معلومات جاپان کی قدیم دھندلی تاریخ میں دفن ہے ۔ یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے ۔ جاپانی لوگوں اپنے وطن سے گہری جذباتی محبت رکھتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ جاپانی جزیرے سب سے پہلی الٰہی تخلیق ہیں ۔جاپان کو دنیا میں منفرد قرار دیتے ہوئے شنتو مت سکھاتا ہے کہ کوئی اور زمینی خطہ الٰہی نہیں ہے ۔ شنتو مت اصل میں جاپان سے باہر مقبول نہیں ہے ۔

شنتو مت کے دو بنیادی عقائد ہیں کہ ملکِ جاپان دیوتاؤں کی سرزمین ہےاور اس کے لوگ دیوتاؤں کی نسل ہیں۔سر زمین کے الٰہی ماخذ کے ساتھ ساتھ جاپانی لوگوں کے الٰہی نسل ہونے کے تصور نے جاپانی لوگوں میں دوسرے ممالک اور لوگوں پر برتری کے عقیدے کو ترقی دی ہیں ۔ شنتومت کے چند ایک مخصوص فرقوں کو چھوڑ کر اس مذہب کا نہ کوئی بانی ، نہ مقدس تصانیف اور نہ ہی مستند عقائد کا کوئی مجموعہ ہے ۔ ملک ِ جاپان میں ایک سے زیادہ مزاروں پر عبادت ہوتی ہے گوکہ بیشتر جاپانی لوگوں کے اپنے گھر میں دیوتاؤں کی ایک بڑی تعداد میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ دیوتاؤں کے مذبحے موجود ہوتے ہیں ۔ شنتو لفظ ایک چینی لفظ شَن-ٹاؤ سے نکلا ہے جس کا مطلب " دیوتاؤں کی راہ" ہے ۔ شنتو کی ایک بڑی خوبی اس کا کیمی کا عقیدہ ہے یعنی جاندار اور بے جان چیزوں میں مُقدس قوت کا تصور ہیں ۔ شنتو مذہب میں فطرت کے اندر دیوتاؤں اور رُوحوں کی موجودگی کا ایک مضبوط احساس پایا جاتا ہے ۔گروہ میں درجہ بندی کرنے کے لحاظ سے شنتو کے دیوتاؤں کا شمار بہت ہی زیادہ ہے مگر سورج کی دیوی اماٹراسُوAmaterasu نہایت ہی قابل احترام ہے اور اُس کا شاندار شاہانہ مندر ٹوکیو کے جنوب میں 200 میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ شنتومت تعلیم دیتا ہے کہ جاپانی لوگ بذات خود کیمی کی نسل سے ہیں ۔

شنتو کا مذہب بائبلی مسیحیت سے مکمل طور پر عدم مطابقت رکھتا ہے ۔ پہلی بات تو یہ کہ اُس مذہب کا یہ تصور کہ جاپانی لوگوں اور اُن کی سرزمین سب سے زیادہ پسندیدہ ہے بائبل کی اس تعلیم کی تردید کرتا ہے کہ یہودی لوگ خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں : "کیونکہ تُو خُداوند اپنے خُدا کے لئے ایک مُقدّس قوم ہے۔ خُداوند تیرے خُدا نے تجھ کو رُویِ زمین کی اَور سب قوموں میں سے چُن لِیا ہے تاکہ اُس کی خاص اُمّت ٹھہرے"( استثنا 7باب 6آیت)۔ تاہم اگرچہ یہودی لوگوں خدا کے چنیدہ لوگ ہیں اُنہیں کبھی بھی دوسرے لوگوں سے بہتر قرار نہیں دیا گیا اور بائبل یہ بھی نہیں سکھاتی کہ وہ براہِ راست دیوتاؤں کی نسل سے تھے ۔

دوسری بات یہ کہ بائبل اس بارے میں واضح ہے کہ بہت سے دیوتا نہیں ہیں بلکہ ایک ہی خدا ہے : "مَیں ہی خُداوند ہوں اَور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خُدا نہیں۔ " ( یسعیاہ 45باب 5آیت)۔ بائبل یہ بھی تعلیم دیتی ہے کہ خدا غیر شخصی قوت نہیں ہے بلکہ اُن سب کےلیے محبت اور فکر کرنے والے باپ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں ( 2کرنتھیوں 17-18آیات)۔ اُسی اکیلے نے کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہ ہی تنہا اُس پر حکمرانی کرتا ہے ۔ پتھروں ، درختوں اور جانوروں کی صورت میں رہنے والے دیوتاؤں کا تصور دو مختلف جھوٹے تصورات جیسے کہ :اصنام پرستی (بہت سے دیوتاؤں کا عقیدہ) اور نسمیت/ رُوحیت (یہ عقیدہ کہ دیوتا چیزوں میں موجود ہوتے ہیں) کو آپس میں جوڑتاہے۔ یہ تمام جھوٹ جھوٹوں کے باپ شیطان کی طرف سے ہیں جو " گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے " ( 1پطرس 5باب 8آیت)۔

تیسر ی بات یہ کہ شنتو مت جاپانی لوگوں میں تکبر اور برتری کے جذبات کو فروغ دیتا ہے کلامِ مقدس میں اس طرح کے اشرافیانہ نظریے کی مذمت کی گئی ہے ۔ خدا تکبر سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ وہی چیز ہے جو لوگوں کو اپنے پورے دل سے اُس کی تلاش کرنے سے روکتی ہے (10زبور 4آیت)۔ اس کے علاوہ بنیادی بھلائی اور جاپانی لوگوں کی الٰہی ابتدا کی تعلیمات اُن کےلیے ایک نجات دہندہ کی ضرورت کو خارج کردیتی ہیں ۔ یہ کسی شخص کے اِسی بات کو فرض کر لینے کا قدرتی نتیجہ ہے کہ اُس کی نسل کا ماخذالٰہی ہے ۔ بائبل واضح طور پر فرماتی ہے کہ "اِس لئے کہ سب نے گناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں" ( رومیوں 3باب 23آیت) مطلب یہ کہ سب کو نجات دہندہ خداوند یسوع مسیح کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ "اور کسی دُوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں" ( اعمال 4باب 12 آیت)۔

شنتو سکھاتا ہے کہ کیمی اُن لوگوں کےساتھ بات چیت کر سکتا ہے جنہوں نے رسمی تقدیس کے وسیلہ سے خود کو اِس قابل بنایا ہے لیکن بائبل کا خدا کسی بھی اُس شخص کے پاس آموجود ہونے کا وعدہ کرتا ہے جو معافی کےلیے اُسے پکارتا ہے ۔شخصی تقدیس کی کوئی بھی مقدار ( اعمال کے وسیلہ سے نجات کی ایک شکل ) کسی انسان کو خدا کی حضوری کے قابل نہیں بنائے گی ۔صرف یسوع مسیح کے صلیب پر بہائے ہوئے خون پر ایمان لانےکی بدولت ہی گناہ سے پاکیزگی حاصل ہو سکتی ہےاور ہم خُدا کے حضور مقبول ٹھہر سکتے ہیں ۔ "جو گناہ سے واقِف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راست بازی ہو جائیں " ( 2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شنتو مت کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries