settings icon
share icon
سوال

شیطان کے پاس کتنی طاقت ہے ؟

جواب


شیطان خدا کا تخلیق کردہ ایک فرشتہ تھا جو خدا کے اختیار کے بر خلاف ہو گیا (یسعیاہ14باب 13آیت) اوراُن بد اَرواح کی بادشاہی کا سربراہ بن گیا جنہیں شیاطین یا اُس کے "فرشتے" کہا جاتا ہے (متی 25باب 41آیت)۔ اُسے آسمانی حلقوں اور زمین دونوں میں بڑی طاقت حاصل ہے اور اُسے کم خیال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ جبکہ شیطان اور اُس کی بد اَر واح انسانوں اور خُدا کی خوفناک دشمن ہیں یسوع مسیح نے پیدایش 3باب 15آیت کی پیشین گوئی کو پورا کرتے ہوئے شیطان کی طاقت کو کچل دیا ہے ۔ مسیح کی صلیب نے فتح حاصل کی ہے (یوحنا12باب 31آیت)۔"دنیا کا سردار مُجرم ٹھہرایا گیا ہے "(یوحنا 16باب 11آیت) اور یسوع ایک دن شیطان کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کر کےتمام مخلوق کو پاک کرے گا (2 پطرس 3باب 10آیت)۔

آسمانی حلقے / رُوحانی دنیا میں شیطان کی طاقت:

رُوحانی حلقوں میں شیطان کی طاقت نمایاں ہے(یہوداہ 1باب 9آیت)جہاں اُسے خدا کی حضور ی تک محدود رسائی حاصل ہے (ایوبؔ 1باب 6 آیت)۔ ایوبؔ کی کتاب خدا اور شیطان کے درمیان تعلق کی آگاہی فراہم کرتی ہے۔ ایوب 1باب 6-12آیات میں شیطان خُدا کے حضور کھڑا ہوتا اور بیان کرتا ہے کہ وہ" زمین پر اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا اور اُس میں سیر کرتا ہوا" آیا(7آیت)۔ خدا شیطان سے پوچھتا ہے کہ کیا اس نے اُس کے بندہ ایوبؔ پر غور کیا ہے اور شیطان ایوبؔ پر فوراًریاکاری کا الزام لگانے لگتا ہے کہ وہ خدا سے صرف اُن نعمتوں کی وجہ سے محبت رکھتا ہے جو خدا اُسے دیتا ہے۔ " تُو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اُس کا ہے اُسے چُھو ہی دے تو کیا وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفیر نہ کرے گا؟"(11آیت)۔ خدا شیطان کو ایوبؔ کے بدن کے سوا اُسکے مال اور خاندان کو متاثر کرنے کی اجازت دیتا ہے اور پھر شیطان وہاں سے چلا جاتا ہے۔ ایوب 2باب میں شیطان دوبارہ خدا کے حضور آتا ہے اور اس بارخُدا اُسے ایوبؔ کے بدن کو متاثر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ (کتاب کا باقی کا حصہ ایوب کے نقطہ نظر سے ایک مثال فراہم کرتا ہے کہ مصائب سے کیسے نمٹا جائے۔)

یہ ایک اہم حوالہ ہے کیونکہ یہ رُوحانی دائرے میں شیطان کے مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ خدا کی حضوری میں کھڑے ہو کر اُس کے لوگوں پر الزام لگانے کی قابلیت رکھتا ہے اور یہوداہ 1باب 9آیت واضح کرتی ہے کہ حتیٰ کہ میکائیل فرشتے کو بھی اُس پر غالب آنے کے لیے خدا وند کی مدد کی ضرورت ہے۔ تاہم شیطان کو اپنے پورے قہر کا اظہار کرنے سے یقینی طور پر روک دیا گیا ہے ؛وہ اب بھی خدا کے ماتحت ایک تخلیق کردہ ہستی ہے اور اُس کی طاقت محدود ہے۔

زمین پر شیطان کی طاقت:

ایوب 1باب یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ شیطان برائی کو عمل میں لاتا اور زمین کو براہ راست نقصان پہنچاتا ہے۔ زمین پر اس کے کاموں میں سے سب سے مشہور اور اہم کام باغ عدن میں ہوا تھا ۔ پیدایش 3باب شیطان کی طرف سے حوّا "تمام زندوں کی ماں" کی آزمایش اور اُس کے نتیجے میں اُس کے پہلے گناہ کے بارے میں بتاتا ہے ۔ یہ حوّا اور اُس کے شوہر آدم کا عمل ہی تھاجو گناہ کودنیا میں لایا اور یہی وجہ ہے کہ تمام انسانوں کو خدا کے ساتھ بحالی کے لیے گناہ سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔

ایک دن یسوع ایک عورت سے ملا " جس کو اٹھارہ برس سے کسی بدرُوح کے باعث کمزوری تھی۔ وہ کُبڑی ہو گئی تھی "( لوقا 13باب 11آیت) ۔ یسوع اِس کمزوری کو شیطان سے منسوب کرتا ہےجس نے اُسے "باندھ رکھا تھا" (16آیت)۔ شیطان کی طاقت حقیقی تھی لیکن ہمارے خداوند نے اُس پر بڑی آسانی سے فتح پا ئی:" اُس نے اُس پر ہاتھ رکھّے۔ اُسی دَم وہ سیدھی ہو گئی اور خُدا کی تمجید کرنے لگی"(13آیت)۔ یسوع کا معجزہ شیطان پر اس کے اختیار کا واضح مظاہرہ تھا۔

زمین پر اُس کی برائی کی ترغیب کے بعد سے شیطان کو اِس دنیا کا " سردار" ،"خدا" یا " حاکم"کہا جاتا ہے (یوحنا 14باب 30آیت؛ بالموازنہ یوحنا 12باب 31آیت؛ 2کرنتھیوں 4باب 3-4آیات؛ افسیوں 2باب 2آیت؛ کلسیوں 1باب 13آیت) ۔ وہ خدا اور سچائی کا دشمن ہے (متی 13باب 24-30 آیات؛ 2تھسلنیکیوں 2باب 9-12آیات) اور وہ لوگوں کو شخصی (پیدایش 3باب؛ لوقا 22باب 31آیت؛ 1تیمتھیس 3باب 7آیت) اور اجتماعی طور پر ( 1تھسلنیکوں 3باب 5آیت؛ مکاشفہ 2باب 10آیت) گمراہ کرنے کےلیے ہر کوشش کر سکتا ہے ۔ وہ " سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے "(مکاشفہ 12باب 9آیت)۔ شیطان اِس عمل کو انسان کے تکبر کو ہوا دینے (1تیمتھیس 3باب 6آیت؛ 1کرنتھیوں 4باب 6آیت)، سچائی کی ترسیل میں مداخلت کرنے (متی 13باب 18-22آیات، 38-39آیات)اور کلیسیا کے اندر جھوٹے ایمانداروں کو قائم کرنے(1تیمتھیس 4باب 1-2 آیات؛ 2تیمتھیس 3باب 1-9آیات؛ مکاشفہ 2باب 9آیت؛ 3باب 9آیت؛ ) سمیت مختلف طریقوں سے سر انجام دیتا ہے ۔ یوحنا 8باب 44آیت میں یسوع فرماتا ہے کہ شیطان " جُھوٹا ہے بلکہ جُھوٹ کا باپ ہے"۔

پھر بھی خُدا شیطان کو اس دنیا میں کسی حد تک اختیار دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اُس کی طاقت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی - سوائے ایک حلقے یعنی مسیح کی موت کی طاقت میں ۔ عبرانیوں 2باب 14-15آیات بیان کرتی ہے کہ یسوع ایک بشر کے طور پر مرنے کے لیے دنیا میں تھا تاکہ " اُس کو جسے مَوت پر قدرت حاصل تھی یعنی اِبلیس کو تباہ کر دے "یہ ایک ایسی طاقت ہے جو شیطان کو "شروع ہی " ( یوحنا 8باب 44آیت)سے حاصل تھی۔ یسوع ہمیں جو نجات فراہم کرتا ہے اُس نے ہمیں شیطان کی موت کی گرفت سے آزاد کیا ہے۔ اب موت اپنا ڈنگ کھو چکی ہیں ( 1کرنتھیوں 15باب 15آیت)۔

شیطان کی طاقت - نتیجہ:

بائبل فرماتی ہے کہ "ساری دُنیا اُس شرِیر کے قبضہ میں پڑی ہُوئی ہے "(1یوحنا 5باب 19آیت ) اور ہمارے لیے ہدایت ہے کہ "ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالِف اِبلیس گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے "(1پطرس 5باب 8آیت) ۔ اِس کے باوجود مسیحیوں کے پاس ا یک بڑی امید ہے کیونکہ یسوع مسیح (یوحنا 16باب 33آیت) اور اُس پر ہمارے ایمان نے (1یوحنا 5باب 4آیت ) شیطان کی برائی پر فتح پائی ہے ۔" جو تم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے "(1یوحنا 4باب 4آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شیطان کے پاس کتنی طاقت ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries