سبت کا دن کونسا ہے؟ سنیچر یااتوار؟ کیا مسیحیوں کو سبت کے دن کی پابندی کرنا چاہئے؟



سوال: سبت کا دن کونسا ہے؟ سنیچر یااتوار؟ کیا مسیحیوں کو سبت کے دن کی پابندی کرنا چاہئے؟

جواب:
یہ اکثر دعوی کیا جاتا ہے کہ خدا نے سبت کو باغ عدن میں قائم کیا تھا۔ کیونکہ خروج 20:11میں سبت اور تخلیق کے درمیان ایک تعلق پایا جاتاہے۔ حالانکہ ساتویں دن خدا کاآرام پیدائش 2:3 میں ایک مستقبل کے سبت کے قانون کو دکھایاتھا۔ اس کے باوجود بھی بنی اسرائیل کے ملک مصر چھوڑنے سےپہلے بائبل میں سبت کے دن کی بابت کوئی قلمبندی نہیں ہے۔کلام میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ آدم سے لے کر موسی تک کسی نے بھی سبت کی پابندی کی ہو۔

خد ا کلام بالکل صاف صاف طور سےبتاتاہے کہ سبت کی پابندی خدا اور بنی اسرائیل کے بیچ ایک خاص نشانی تھی چنانچہ لکھا ہے۔ "پس بنی اسرائیل سبت کو مانیں اور پشت در پشت اسے دائمی عہد جان کراس کا لحاظ رکھیں۔ میرے اور بنی اسرائیل کے درمیان یہ ہمیشہ کے لئے ایک نشان رہے گااس لئے کہ چھ دن میں خداوندنے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ اور ساتویں دن آرام کرکے تازہ دم ہوا "(خروج 17-16 :31)۔

استثنا 5 باب میں موسی بنی اسرائیل کی دوسری پیڑھی کو دوبارہ سے دس احکام بیان کرتا ہے۔ یہاں سبت کی پابندی کا حکم دینے کے بعد 14-12 آیتوں میں موسی بنی اسرائیل قوم کو سبت کا حکم دینےکا سبب پیش کرتاہے۔ وہ کہتا ہے کہ اور یاد رکھنا کہ تو ملک مصر میں غلام تھا۔ اور وہاں سے خدا وند تیرا خدا اپنے زور آور ہاتھ اوربلند بازو سے تجھ کو نکال لایا۔ اس لئے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو سبت کے دن کو ماننے کاحکم دیا۔ (استثنا 5:15)۔

بنی اسرائیل کے لئے سبت کا حکم دیا جانے کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ تخلیق کو یاد رکھیں بلکہ وہ مصر کی غلامی اور خداوند کے چھٹکارے کویاد رکھیں۔ یہاں آپ سبت کی پابندی کے لئے ضرورتوں کو نوٹ کریں۔ ایک شخص جو سبت کے قانون کے ماتحت ہے وہ سبت کے دن اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ (خروج 16:29)۔ وہ اپنے گھر میں کہیں بھی آگ نہیں جلا سکتا تھا۔ (خروج 35:3)۔ وہ کسی کو بھی چاہے وہ انسان ہو یا جانور کام پر نہیں لگا سکتا تھا۔ (استثنا 5:14)۔ ایک شخص جو سبت کے قانون کو توڑتا تھا وہ مارا جاتاتھا۔ (خروج 31:15؛ گنتی 35- 15:32)۔

نئے عہد نامے کی عبارت کا ایک امتحان ہم کو چار اہم باتیں بتلاتا ہے جب بھی کبھی یسوع مسیح اپنے جی اٹھنے کی شکل میں ظاہر ہوتاہے اور دن کاذکر کیا جاتا ہے تو ہمیشہ یہ لکھا ہواہوتا ہے ہفتہ کا پہلا دن (متی 10، 9، 28:1 مرقس 16:9؛ لوقا 15، 13، 24:1؛ یوحنا 26، 20:19)۔ اعمال کی کتاب سے لے کر مکاشفہ تک جہاں بھی سبت کا ذکر آیا ہوا ہے وہ منادی کے مقصد سے یہودیوں کے لئے اور اس کی کیفیت عام طور سےپر ایک ہیکل میں ہے۔اعمال کی کتاب 18-13 ابواب) میں پولس نے لکھا کہ "میں یہودیوں کے لئے یہودی بنا تاکہ یہودیوںکو مسیحیوں کے پاس کھینچ لاؤں (1 کرنتھیوں 9:20)۔ پولس رسول ہیکل میں یہودیوں کے رفاقت کے لئے یا اخلاقی اصلاح کے لئے نہیں جاتا تھا بلکہ انہیں مسیح کے لئے قائل کرنے اور کھوئے ہوؤں کو بچانے جاتا تھا۔ ایک مرتبہ پولس نےبیان کیا کہ "میں آج کے دن کے بعد غیر قوموں میں جاؤںگا (اعمال کی کتاب 18:6)۔ پولس کے اس بیان کے بعد آپ غور کریں کہ سبت کا ذکر اعمال کی کتاب میں کبھی بھی نہیں کیا گیا ۔ اور چوتھی بات سبت کے دن کے لئےحمایت کی صلاح کے بدلے نئے عہد نامے کی رہی سہی چیز الٹا ہونےکی طرف دلالت کرتی ہے۔ (مذکور بالا تین باتوں میں سے مستثنی ایک کو شامل کرتے ہوئے جسے ہم کلیسیوں 2:16 میں پاتے ہیں)۔

مذکورہ بالا چاروں باتوں کو اور زیادہ قریب سے دیکھتے ہوئےیہ بات ظاہر ہو گی کہ نئے عہدنامے کی ایمانداروں کے لئے سبت کی تعمیل واجب نہیں ہے۔ اور یہ بھی بتائے گا کہ اتوار کاخیال جسے "میسحی سبت" کہا جاتاہے وہ کلام کے مطابق نہیں ہے۔ جس طرح سے اوپر بحث کیا گیا ہے پولس کا غیر قوموںکی طرف دھیان دینے کے بعد سے صرف ایک بار سبت کا ذکر کیاگیا ہے۔ "پس کھانے پینے یا عید یا نئے چاند یا سبت کی بابت کوئی تم پرالزام نہ لگائے۔ کیونکہ یہ آنے والی چیزوں کا سایہ ہے۔ مگر افضل چیزیں مسیح کی ہیں" (کلیسیوں 17- 2:16)۔ یہودیوں کی سبت کو صلیب پر موقوف کر دیاگیا ہے جب مسیح نے "حکموں کی وہ دستاویز مٹا ڈالی" (کلیسیوں 2:14) اس خیال کو نئے عہد نامے میں ایک مرتبہ سے زیادہ دہرایا گیا ہے۔ "کوئی توایک دن کو دوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دل میں پورا اعتقاد رکھے۔ جو کسی دن کو مانتا ہے وہ خداوند کے لئے مانتا ہے۔ " (رومیوں 6- 14:5)۔ "مگر اب جو تم نے خدا کو پہچانا بلکہ خدا نے تم کو پہچانا تو ان ضعیف اور نکمی ابتدائی باتوں کی طرف کس طرح پھر رجوع ہوتے ہو جن کی دوبارہ غلامی کرنا چاہتے ہو؟ تم دنوں اور مہینوں اور مقررہ وقتوں او ر برسوں کو مانتے ہو" ۔ (گلیتوں 10- 4:19)۔

مگر کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ جو کانسٹن ٹائین نے سن عیسوی 321 میں ضروری کر دیا تھا وہ "بدل گیا"۔ وہ سبت سنیچر سے اتوار تک تھا۔ پر اب سوال یہ ہے کہ ابتدائی کلیسیا عبادت کے لئے کس دن جمع ہوتے تھے؟ کلام میں کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ سبت (سنیچر کے دن) ایماندار لوگ رفاقت یا عبادت کے لئے جمع ہوتے تھے۔ کسی طرح کچھ عبارتیں صاف طور سے ہفتہ کے پہلے دن کا ذکر ضرورکر تے ہیں۔ مثال کے طور پر اعمال 2:7 بیان کرتاہےکہ "ہفتہ کے پہلے دن ہم روٹی توڑنے کے لئے جمع ہوتے تھے"۔ 1 کرنتھیوں 16:2 میں پولس کرنتھیوں کے ایمانداروں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "ہفتہ کے پہلے دن تم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے موافق کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑا کرے تاکہ میرے آنے پر چندے نہ کرنے پڑے"۔ جبکہ پولس اس چندے کو 2 کرنتھیوں 9:12 میں "خدمت گزاری" بطور تخصیص کرتاہے یہ چندہ مسیحی جماعت کی اتوار کی عبادت کے ساتھ جڑ جانا چاہئے تھا۔ تاریخ کی رو سے سنیچر نہ ہو کر اتوار کا دن ہی کلیسیا میں مسیحیوں کے لئے عام طور سے ملنے کا دن تھا۔ اوراس کا رواج پہلی صدی کے زمانہ کی طرف جاتا ہے۔

سبت کاحکم بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا نہ کہ کلیسیا کو۔ سبت آج بھی اسر ائیلیوں میں سنیچر کے دن منایا جاتاہے۔ نہ کہ اتوار کے دن اور یہ کبھی نہیں بدلا۔ مگر سبت پرانے عہد نامے کی شریعت کا ایک حصہ ہے اور میسحی لوگ شریعت سے آزاد ہیں۔ (کلیتوں 26 – 4:1؛ رومیوں 6:14)۔ سبت کی پابندی مسیحیوں کی ضرورتمندی نہیں ہے۔ چاہے وہ سنیچر ہو یا اتوار مگر ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ ہفتہ کا پہلا دن اتوار یہ خداوند کا دن ہے۔ (مکاشفہ 1:10)۔ مسیح کے ساتھ یک نئی تخلیق ہونے کے لئے خوشیاں منائی جاتی ہے وہ اس لئے کہ مسیح جی اٹھنے والوں کا پہلا پہل یعنی کہ سر ہے۔ ہم کو موسی کے ذریعہ دئے گئے سبت (آرام کا دن) سبت کے پیچھے چلنے کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ مگر اب ہم آزاد ہیں کہ جی اٹھے مسیح کے پیچھے چلیں۔ یعنی اس کی خدمت کریں۔پولس رسول نے کہاکہ ہر ایک مسیحی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایک دن سبت کے آرام کی تعمیل کرے "کوئی توایک دن کو دوسرے سےافضل جانتا ہے۔ اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دل میں پورااعتقاد رکھے (رومیوں 14:5)۔ ہم کو ہر دن یعنی کہ روزانہ خدا کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ صرف سنیچریااتوار کو۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



سبت کا دن کونسا ہے؟ سنیچر یااتوار؟ کیا مسیحیوں کو سبت کے دن کی پابندی کرنا چاہئے؟