settings icon
share icon
سوال

کیا مکاشفہ 22 باب 18-19آیات میں درج انتباہ کا اطلاق پوری بائبل پر ہوتا ہے یا پھر صرف مکاشفہ کی کتاب پر؟

جواب


مکاشفہ 22باب 18-19آیات میں ہر اُس شخص کے لیے انتباہ پایا جاتا ہے جو بائبل کے متن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرتاہے : "مَیں ہر ایک آدمی کے آگے جو اِس کِتاب کی نبوت کی باتیں سُنتا ہے گواہی دیتاہوں کہ اگر کوئی آدمی اُن میں کچھ بڑھائے تو خُدا اِس کِتاب میں لکھی ہوئی آفتیں اُس پر نازِل کرے گا۔ اور اگر کوئی اِس نبُوت کی کِتاب کی باتوں میں سے کچھ نکال ڈالے تو خُدا اُس زِندگی کے درخت اورمُقدس شہر میں سے جن کا اِس کِتاب میں ذِکر ہے اُس کا حصہ نکال ڈالے گا"۔ ابھی یہاں پر سوال یہ ہے کہ آیا یہ آیات تمام بائبل کے متعلق ہیں یا پھر صرف مکاشفہ کی کتاب سے متعلق؟۔

یہ انتباہ خصوصاً اُن لوگوں کے خلاف ہے جو مکاشفہ کی کتاب کے پیغام کو توڑنے مڑورنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یسوع مسیح بذات خود مکاشفہ کی کتاب کا مصنف ہے اور اُسی نے یوحنا رسول پر اِن رویاؤں کو ظاہر کیا ہے ( مکاشفہ 1باب 1آیت)۔ یوں وہ اپنی گواہی کی تصدیق کے ساتھ اس کتاب کا اختتام کرتا ہے تاکہ مکاشفہ کی کتاب میں پائی جانے والی پیشن گوئیوں کی تکمیل ہو ۔ یہ یسوع کے الفاظ ہیں اور وہ ان میں کسی بھی طرح کے بگاڑ کے خلاف خبردار کرتا ہے چاہے یہ اُسے بڑھانے ، گھٹانے ،غلط بیانی کرنے ، رَد و بدل کرنے یا جان بوجھ کر غلط تشریحات کرنے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایک سنگین اور واضح انتباہ ہے ۔ مکاشفہ کی کتاب کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کے مرتکب شخص پر اس کتاب میں درج مصیبتیں نازل ہوں گی اور جو لوگ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کا آسمان پر ابدی زندگی میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔

اگرچہ مکاشفہ 22باب 18-19آیات میں پایا جانے والا انتباہ خصوصاًمکاشفہ کی کتاب کے تعلق سے ہے لیکن اس اصول کا اطلاق ہر اُس شخص پر ہوتا ہے جو خدا کے سارے کلام کو جان بوجھ کر بڑھانے یا گھٹانے کی کوشش کرتا ہے ۔ استثنا 4باب 1-2آیات میں موسیٰ نے بھی اسی طرح کا ایک انتباہ پیش کیا ہے جہاں اُس نے اسرائیلیوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ خدا وند کے احکام کو سُنتے اور اُن پر عمل کرتے ہوئے نہ تو اُس کے کلام کو بڑھائیں اور نہ گھٹائیں۔ امثال 30باب 5-6 آیات اُس شخص کے خلاف ایسی ہی تنبیہ پیش کرتی ہیں جو خدا کے کلا م میں اضافہ کرے گا: وہ شخص ملامت اُٹھائے گا اور جھوٹا ٹھہرے گا۔ اگرچہ مکاشفہ 22باب 18-19آیات میں درج انتباہ خاص طور پر مکاشفہ کی کتاب کےلیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے اصول کا اطلاق خد ا کے نازل کردہ تمام کلام پر ہونا چاہیے ۔ بائبل کے عزت و احترام کے معاملے میں ہمیں پوری طرح محتاط رہنا چاہیے تاکہ ہم اِس کے پیغام کو متاثر نہ کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مکاشفہ 22 باب 18-19آیات میں درج انتباہ کا اطلاق پوری بائبل پر ہوتا ہے یا پھر صرف مکاشفہ کی کتاب پر؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries