settings icon
share icon
سوال

رستافاری مت کیا ہے ؟

جواب


رستافاری مت (رستافرین ازم) کا نام سنتے ہی اکثر بالوں کی لمبی چوٹیوں ، گانجا (چرس) اور کنگسٹن جمیکا کی سڑکوں پر باب مارلے کی ریگی تال پر گانے کی دقیانوسی تصاویر ذہن میں آتی ہیں۔ رستافیریوں کا عالمی سطح پر تسلیم شُدہ کوئی رہنما نہیں ہے اور نہ ہی اِن کے کوئی عالمی سطح پر متفق وضاحتی اصول ہیں۔ یہ سیاہ شعور کی تحریک –افرو کیریبین – ہے اور اِس کے اند ر مذہب اور اِس تحریک کی طرف سے اپنائے جانے والے معاشرتی شعور میں دراڑ ہے۔ پس لوگ اُس بات کی تعریف کر سکتے ہیں جو رستافیری مذہب کو گلے لگائے بغیر سماجی سطح پر کیا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اِس تحریک کا نام "راس تفاری" الفاظ سے ماخوذ ہے۔ ایتھوپین زبان (امھاری) میں راس کے معنی ہیں "سر"، "شہزادہ ، سردار"، یا "فیلڈ مارشل" اور تفاری کے معنی ہیں "جس سے ڈرا جائے"۔ رستا فاری مت کے اندر یہ اصطلاح خاص طور پر تافاری ماکونن (1892-1975) کی بدولت آئی جو پہلا ایتھوپین شہنشاہ ہیل سلاسی اوّل (یہ اُس کا بپتسمے کے وقت رکھا جانے والا نام) بنا تھا۔ 1930 میں اُس کی تاج پوشی کے وقت جب سلاسی کو "یہوداہ کے ببر، خُدا کا چُنا ہوا ، اور بادشاہوں کے بادشاہ" کا خطاب دیا گیا۔ اِس بات نے افرو کیریبین معاشرے میں جھٹکے کی ایک لہر دوڑا دی۔ کنگسٹن کی گلیوں میں جوزف ہیبرٹ جیسے منادی کرنے والوں نے اِس بات کا اعلان کرنا شروع کر دیا کہ ہیل سلاسی ہی وہ مسیحا ہے جس کی دوسری آمد کا انتظار بہت دیر سے اور بڑی شدت کیساتھ کیا جا رہا تھا۔ پس اِس سے رستا فاری مت کا فرقہ شروع ہوا جس نے سلاسی کو زندہ خُدا اور سیاہ مسیحا کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا جو موجودہ دُنیا کے نظام کو ختم کر کے اِ س زمین پر سیاہ فام لوگوں کی بادشاہت کا آغاز کرے گا۔

رستافاری مت کا ایک اور نام نہاد مسیحی گروہ بھی اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ گروہ اپنا تعلق لیونارڈ سیول ہاوّل کے ساتھ جوڑتا ہے اور اِس کے اندر واضح طور پر ہندومت کے عناصر عیاں ہیں۔ 1930 کی دہائی کے اوائل سےوسط تک کے دور میں کسی وقت ہاوّل نے 14 صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ "The Promised Key" تیار کیا جس نے ہندومت اور روزیکروسین ازم سے متاثر رستافاری مت کے اندر ایک اور گروہ کی بنیاد رکھی۔ اِس گروہ کے بہت سارے رہنما فری میسن بھی رہے ہیں۔ اِس کے نتیجے کے طور پر اِسکی جو شکل سامنے آئی ہے وہ رستافاری مت وحدت الوجود ہے جو "ہم سب کے اندر ایک شیر کی رُوح: مسیح کی رُوح" کی تلاش میں ہے۔

رستافاری مت کے علمِ الہیات کا خلاصہ جیسا کہ اُن کے الوہی وجودیت کے گروہ سے شہادت ملتی ہےیہ ہے کہ "خُدا انسان ہے اور انسان خُدا ہے؛ نجات ایک زمینی چیز ہے؛ انسانوں کو بلایا گیا ہے کہ وہ زندگی سے لطف اندوز ہوں اور اُس میں جشن منائیں؛ منہ سے بولے گئے الفاظ جو کہ الٰہی حضوری اور طاقت کا اظہار ہوتے ہیں وہ تباہی کو پیدا بھی کر سکتے ہیں اور کسی پر لا بھی سکتے ہیں؛ گناہ ایک شخصی عمل بھی ہے اور اجتماعی بھی ہے؛ اور رستا کے پیروکار جنہیں رستا برادرن کہا جاتا ہے وہ اِس زمین پر خُدا کی قدرت کو ظاہر کرنے اور دُنیا میں امن کو قائم کرنے کے لیے چُنے گئے ہیں۔

رستا فاری مت کے دونوں ہی فرقے بائبل مُقدس میں ہم پر ظاہر ہونے والے خُدا کے کلام کے بالکل خلاف ہیں۔ سب سے پہلے تو ہیل سلاسی مسیحا نہیں ہے۔ وہ سب لوگ جو مسیحا کے طور پر اُسکی پرستش کرتے ہیں وہ ایک جھوٹے خُدا کی پرستش کرتے ہیں۔ اِس کائنات میں صرف ایک ہی بادشاہوں کا بادشاہ اور یہوداہ کا ببر ہے اور وہ خُداوند یسوع مسیح ہے (دیکھئے مکاشفہ 5باب5آیت؛ 19باب16آیت)، جو مستقبل میں اپنی دوسری آمد کے موقع پر واپس آئے گا اور اِس زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرے گا۔ اُس کی آمد سے پہلے اِس زمین پر بڑی مصیبت کا دور ہوگا، جس کے بعد ساری دُنیا کے لوگ یسوع کو "بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے" (متی 24باب29-31آیات)۔ ہیل سلاسی ایک عام آدمی تھا اور دیگر آدمیوں کی طرف وہ پیدا ہوا، اِس زمین پر اُس نے زندگی گزاری اور پھر وہ مرگیا۔ یسوع مسیح ، سچا مسیحا زندہ ہے اور وہ خُدا باپ کے دہنی طرف تخت پر بیٹھا ہوا ہے (عبرانیوں 10باب12آیت)۔

رستافاری مت کا وحدت الوجود کا قائل گروہ بھی اِسی طرح مکمل طور پر جھوٹا ہے اور اُس کی بنیاد بھی اُسی جھوٹ کے اوپر رکھی گئی ہے جو شیطان ہمیشہ سےباغِ عدن سے لیکر آج تک تمام بنی نوع انسان کو بتاتا چلا آ رہا ہے کہ : "تم خُد اکی مانند بن جاؤ گے" (پیدایش 3باب4آیت)۔ اِس کائنات میں صرف ایک خُدا ہے، بہت سارے خُدا نہیں ہیں؛ اور اگرچہ رُوح القدس ایمانداروں کے اندر بسا ہوا ہے اور ہمارا تعلق خُدا کے ساتھ ہے لیکن ہم خُدا نہیں ہیں۔ " مَیں خُدا ہوں اور کوئی دُوسرا نہیں ۔ مَیں خُدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں " (یسعیاہ 46باب9آیت)۔ مزید برآں نجات کوئی زمینی چیز نہیں ہے، ایک اور غیر بائبلی تصور یہ ہے کہ "نجات اعمال کے ذریعے" ممکن ہے۔ اِس زمین پر کئے گئے نیک کاموں کی کوئی بھی تعداد ہماری اپنی کاوشوں سے ہمیں پاک کر کے خُدا کے حضور قابلِ قبول نہیں بنا سکتی کیونکہ خُدا پاک اور کامل ہے، اِسی لیے اُس نے اپنے پاک اور کامل بیٹے کو بھیجا کہ وہ صلیب پر جان دے کر ہمارے گناہوں کا کفارہ دے (2 کرنتھیوں 5باب 21 آیت)۔ آخر میں رستا فاری خُدا کے چُنے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔ کلامِ مُقدس بالکل واضح ہے کہ یہودی خُدا کے چُنے ہوئے لوگ ہیں، اور خُدا نے اُن کی نجات کے منصوبے کو ابھی تک مکمل نہیں کیا ہے (خروج 6باب7آیت؛ احبار 26باب12آیت؛ رومیوں 11باب25-27آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رستافاری مت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries