settings icon
share icon
سوال

آسمان کی ملکہ کون ہے؟

جواب


"آسمان کی ملکہ" کا یہ جزو جملہ بائبل کے دو ابواب میں نظر آتا ہے اوریہ دونوں یرمیاہ کی کتاب کے 7 اور 44ابواب ہیں ۔ پہلا حوالہ اُن کاموں کا ذکر کرتا ہے جو بنی اسرائیل کر رہے تھے اور جنہوں نے خداوند کو غصہ دلایا تھا ۔ پورے کے پورے خاندان بُت پرستی میں ملوث تھے ۔ بچے لکڑیاں جمع کرتے اور مرد اُن لکڑیوں کو استعمال کر کے جھوٹے معبودوں کےلیے مذبحے تیار کرتے تھے۔عورتیں آٹا گوندھنے اور "آسمان کی ملکہ " (یرمیاہ 7باب 18آیت)کے لیے روٹیوں پکانے میں مشغول ہوتیں ۔ یہ لقب اسوریوں اور بابلیوں کی ایک دیوی اِشتار کا حوالہ دیتا ہے جسے دیگر گروہوں کی طرف سے عستارات اوراسٹارٹی کا نام بھی دیا جاتا تھا ۔ اِسے جھوٹے دیوتا بعل جسے مُولک بھی کہا جاتا ہے کی بیوی خیا ل کیا جاتا تھا ۔ عستارات کی پرستش کرنے کے لیے عورتوں کی ترغیب کا سبب اِس کا زرخیزی کی دیوی کے طور پر مشہور ہونا تھا اور چونکہ اُس دور کی عورتوں میں بچّوں کی پیدایش کی بہت زیادہ خواہش ہوتی تھی اس سبب سے اِس "آسمان کی ملکہ" کی پرستش ملحد انہ تہذیبوں میں بکثرت پائی جاتی تھی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا عمل بنی اسرائیل میں بھی مقبول ہوگیا تھا ۔

دوسرا حوالہ جو آسمان کی ملکہ کا ذکر کرتا ہے وہ یرمیاہ 44 باب 17-25آیات ہیں جہاں یرمیاہ لوگوں کے سامنے خدا وند کا وہ کلام پیش کرتا ہے جو خدا نے اُس کے ساتھ کیا تھا ۔ وہ لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ خداوند کے اُن سے شدید ناراض ہونے اور اُن پر مصیبت کے آنے کا سبب اُن کی نافرمانی اور بُت پرستی ہے ۔ یرمیاہ اُنہیں خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ توبہ نہیں کرتے تواُنہیں اِس سے بھی سنگین سزائیں مل سکتی ہیں ۔ وہ آسمان کی ملکہ عستارات کےلیے مسلسل قربانیاں پیش کرتے رہنے کا وعدہ کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ اُن کا بُتوں کی پرستش ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہاں تک کہ وہ اُس امن اور خوشحالی کو بھی عستارات سے منسوب کرتے ہیں جس سے وہ پہلے خدا کے فضل اور رحم کے باعث لطف اندوز ہوئے تھے ۔

اُن کے درمیان یہ تصور بھی جنم لے چکا تھا کہ عستارات یہوواہ کی " بیگم/ملکہ" ہے۔ اس تصور کا ماخذ غیر واضح ہے لیکن اس بات کو سمجھنا آسان ہے کہ اُس بُت پرستی کو جو دیوی کو جلال دیتی ہے آسمان کے حقیقی بادشاہ یہوواہ کی عبادت کے ساتھ ملانا کس طرح کےخدا اور عستارات کے ملاپ کا باعث ہو سکتا ہے ۔ اور چونکہ عستارات کی عبادت میں جنسی عوامل (زرخیزی کی رسومات میں بدکاری اور مندر میں فاحشہ عورتوں کی بھرمار) شامل تھے لہذا گمراہ کُن ذہن کے لیےیہوواہ اور عستارات کا تعلق بھی بنیاد ی طور پر جنسی نوعیت کا ہی ہو گا ۔ " آسمان کی ملکہ " کے آسمان کے بادشاہ کی بیگم یا آشنا ہونے کا تصور واضح طور پر بُت پرستانہ اور غیر بائبلی ہے ۔

آسمان کی کوئی ملکہ نہیں ہے ۔ آسمان کی کبھی کوئی ملکہ نہیں تھی ۔ آسمان کا یقینی طور پر ایک بادشاہ ، لشکروں کا خداوند ہے ۔ وہ اکیلا آسمان پر حکمران ہے ۔ وہ اپنی حکمرانی ، یا اپنا تخت یا اپنا اختیار کسی کے ساتھ نہیں بانٹا۔ اِس تصور کی بھی کوئی بائبلی بنیاد نہیں ہے کہ خُداوند یسوع کی ماں مریم آسمان کی ملکہ ہے۔ اِس کے برعکس مریم کے آسمان کی ملکہ ہونے کا تصور رومن کیتھولک چرچ کے کاہنوں اور پوپوں کے باضابطہ اعلانات کا نتیجہ ہے ۔ مریم اگرچہ بلاشبہ ایک دیندار جوان عورت تھی جو اس لحاظ سے بڑی با برکت تھی کہ اُسے دنیا کے نجات دہندہ کی پیدایش کے لیے چُنا گیا لیکن وہ کسی بھی طرح سے الوہیت کی دعویدار یا حصہ دار نہیں تھی ، اُس کی ذات میں آدم کے وسیلے انسانوں کو ملنے والا ماروثی گناہ بھی شامل تھا، اِس لیے نہ تو اُس کی پرستش کی جانی چاہیے اور نہ ہی اُس سے دُعا کی جانی چاہیے۔خداوند خدا کے تمام سچے پیروکار یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی دوسرے انسانوں سے برتر ہستیوں کے طور پرتعظیم نہ کی جائے ۔ پطر س اور رسولوں نے اپنی پرستش قبول کرنے سے انکار کیا ( اعمال 10 باب 25-26آیات ؛ 14باب 13-14آیات)۔ مُقدس فرشے نے اپنی پرستش قبول کرنے سے انکار کیا ( مکاشفہ 19باب 10آیت؛ 22باب 9آیت)۔ اُن کا جواب ہمیشہ ایک ہی ہے : "خدا کی عبادت کر!" خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت ، عزت یا تعظیم کرنا بُت پرستی سے کم نہیں ہے ۔مریم کے گیت ( لوقا 1باب 46-55آیات) میں اُس کے اپنے الفاظ عیاں کرتے ہیں اُس نے کبھی خود کو " گناہ سے مبّرہ یا پرستش کے لائق خیال نہیں کیا تھا اس کے برعکس وہ نجات کےلیے خدا کے فضل پر انحصار کر رہی تھی :"اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی" صرف گنہگاروں کو منجی کی ضرورت ہے اور مریم نے اپنے لیے اس ضرورت کو محسوس کیا تھا ۔

مزید برآں یسوع نے خود یہ جواب دیتے ہوئے کہ " مگر زِیادہ مُبارک وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں"ایک عورت کی ہلکی پھلکی سرزنش کی تھی جو پکار اُٹھی تھی کہ "مُبارک ہے وہ رِحم جس میں تُو رہا اور وہ چھاتِیاں جو تُو نے چُوسیں" ( لوقا 11باب 27آیت)۔ ایسا کرتے ہوئے یسوع نے مریم کو ایک معبود کے طور پر سربلند کرنے کے ہر رجحان کو رَد کر دیا تھا ۔ یقیناً وہ اِس طرح جواب دے سکتا تھا کہ " ہاں ، آسمان کی ملکہ مبارک ہو !" مگر اُس نےایسا نہیں کہا ۔ وہ اُسی سچائی کی تصدیق کر رہا تھا جس کی بائبل تصدیق کرتی ہے - آسمان کی کوئی ملکہ نہیں ہے اور "آسمان کی ملکہ" کے بارے میں بائبل کے حوالہ جات میں صرف بت پرستانہ جھوٹے مذہب کی دیوی کا ذکر ملتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

آسمان کی ملکہ کون ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries