settings icon
share icon
سوال

پوُلسی مسیحیت کیا ہے ؟

جواب


پولُسی مسیحیت ایک ایسی اصطلاح ہے جس کا اطلاق اُس مذہبی تعلیم پر ہوتا ہے جسے کچھ لوگ خاص پولس رسول کی تحریروں سے منسوب کرتے اور یسوع کی انجیل سے الگ سمجھتے ہیں۔ یعنی یسوع نے کچھ اورسکھایا اور پولس نے بالکل کچھ مختلف سکھایا۔ جو لوگ ایک الگ پولُسی مسیحیت پر یقین رکھتے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ آج کل کی مسیحیت کا یسوع کی تعلیمات سے بہت کم تعلق ہے بلکہ یہ پولس کی طرف سے اُن تعلیمات کے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ نیا عہد نامہ ایک مربوط مجموعہ ہے: اناجیل یسوع مسیح کی زندگی اور کام کو پیش کرتی ہیں ؛ خطوط یسوع کے کام کے معنی اور دائرہ کار کی وضاحت کرتے اور اس کا روزمرہ کی زندگی پر اطلاق بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر متی 28باب یسوع کے جی اٹھنے کی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور 1کرنتھیوں 15باب اُس کے جی اٹھنے کی اہمیت کی وضاحت کرتا ہے۔ مرقس 15باب 38آیت بیان کرتی ہے کہ جب یسوع کی موت ہوئی تو ہیکل کا پردہ دو ٹکڑے ہو گیا ؛ عبرانیوں 10باب 11-23آیات اِس واقعے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ وہی رُوح القدس جس کی تحریک سے اناجیل قلمبند ہوئیں، اُسی کی تحریک سے خطوط بھی قلمبند ہوئے تھے تاکہ ہمیں خدا کے نجات کے منصوبے کی مکمل تفہیم فراہم ہو۔

تاہم جو لوگ ایک الگ "پولُسی مسیحیت " کا مفروضہ رکھتے ہیں وہ ایک مختلف کہانی سناتے ہیں:

یسوع ایک عظیم استادتھا، وہ خود کو وہی موعودہ مسیحا سمجھتا تھا جس کا یہودی طویل عرصہ سے انتظار کر رہے تھے ۔ اُس کا یقین تھا کہ خدا رُومی سلطنت کو گرا دے گا اور زمین پر اپنی بادشاہی قائم گا۔ اِس کی تیاری میں یسوع نے غیر مشروط محبت، رواداری اور ہر کسی کو غیر جانبداری سے قبول کرنے کا پیغام سکھایا۔ افسوس ،جب رومیوں نے یسوع کو مصلوب کیا تو ایک نیا زمینی دَور شروع کرنے کا اُسکا مشن ناکام ہوگیا۔

یہ یقین رکھتے ہوئے کہ خُدا نے اُن کے اُستاد کو مُردوں میں سے زندہ کیا ہے یسوع کے پیروکار یسوع کے بھائی یعقوب کی قیادت میں یروشلیم میں جمع ہوتے رہے۔ اُن کا ارادہ آنے والی بادشاہی کا انتظار کرنا اور یسوع کی طرف سے پیش کردہ یہودیت کی روشن خیال نئی شکل کی پیروی جاری رکھنا تھا۔ لیکن پھر ترسس کا ساؤل رونما ہوا جس نے کلیسیا میں داخل ہونے کے لیے مذہب کی تبدیلی کا ڈھونگ رچایا ۔ پطرس اور یعقوب اور دیگر لوگ جو یسوع کو اصل میں جانتے تھے وہ ساؤل کے بارے میں شک کا شکار تھے جو کہ یسوع سے کبھی نہیں ملا تھا۔

اس کے بعد ساؤل نے جو خود کو "پولس" کہنے لگا تھا ایک کارنامہ سرانجام دیا ۔ اس نے مکاری سے روایتی عبرانی نظریات کو بُت پرستار یونانی فلسفے کے ساتھ جوڑ کر ایک نیا مذہب تشکیل دیا جو یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کو قائل کر سکتا تھا۔ وہ یہ منادی کرنے لگا کہ یسوع دراصل خدا ہے ، یسوع کی موت کا تعلق یہودی قربانی کے نظام سے ہے ، کوئی شخص صرف ایمان لانے سے نجات پا سکتا ہے اور یہ کہ موسوی شریعت متروک ہو گئی ہے ۔ پولس کی پُرجوش مشنری سرگرمیوں اور قائل کرنے والی تحریروں نے اُس کی نئی "انجیل" کو رومی سلطنت کے گرد ونواح میں پھیلا دیا ۔پطرس اور یعقوب سمیت یروشلیم کی کلیسیا نے پولس کو ایک بدعتی اور راسخ عقائد سے منحرف رہنما کے طور پر مسترد کر دیا۔

70 بعد از مسیح میں یروشلیم کی تباہی کے بعد یہودی کلیسیا اپنا اختیار کھو بیٹھی لیکن پولس کی طرف سے قائم کردہ غیر قوموں پر مشتمل کلیسیا اپنے اثرو رسوخ میں بڑھتی گئی ۔ پولس کے پُرجوش پیروکاروں میں سے ایک نے اعمال کی کتاب قلمبند کی اور اس کتاب نے پولس کو اُس کی روشن تصویر کے ساتھ کلیسیا ئی سورمے کے طور پر ایک عظیم مقام بخشا۔ بعد میں چار نامعلوم مصنفین نے یسوع کے بارے میں معلومات کو اکٹھا کر کے کتابیں قلمبند کیں جو "متی "، "مرقس "،" لوقا " اور "یوحنا " کی اناجیل کہلائیں - لیکن پولس کی طرف سے پیش کردہ علمِ الہیات نے جو کلیسیا میں پہلے ہی غالب تھا مصنفین کے نقطہ نظر کو متاثر کیا۔ یوں پولس کا مذہب یسوع کے مذہب پر سبقت لے گیا۔

مختصر یہ کہ پولس ایک بہروپیا، بشارتی جعل ساز تھاجو کہ یسوع کے محبت کے پیغام کو ایک ایسی شکل میں توڑنے مڑونے میں کامیاب ہو گیا جسے یسوع خود کبھی پہچان نہ پائے گا۔ یہ یسوع نہیں بلکہ پولس ہی تھا جس نے موجودہ "مسیحیت" کی ابتدا کی تھی۔

عام طور پر جو لوگ مندرجہ بالا مفروضے کے قائل ہیں وہ درج ذیل باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں:

1) یسوع کی ذات الٰہی نہیں تھی۔ اُس نے کبھی خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور اُس کا کبھی کوئی نیا مذہب شروع کرنے کا ارادہ نہیں تھا ۔

2) بائبل ایک الہامی کتاب نہیں بلکہ یہ تضادات سے بھری ہے۔ غالباً یعقوب کی کتاب کے علاوہ بائبل میں سے کوئی بھی کتاب کسی ایسے شخص نے قلمبند نہیں کی جو یسوع کوشخصی طور پر جانتا تھا۔ اناجیل میں یسوع کی تعلیمات ٹکڑوں کی صورت میں ہے مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اصل میں اس نے کیا کہا تھا ۔

3) پولس نہ تو فریسی اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا ۔ اُس کی " مذہب کی تبدیلی" یا تو فریب نظری کا ایک شخصی تجربہ تھا یا صریحاً دھوکہ بازی تھی ۔ اُس کے رسول ہونے کے دعوے محض کلیسیا میں اپنے اختیار کو بڑھانے کی کوششیں تھیں۔

4) پولس کی عقائدی "ایجادات" میں( الف) یسوع کی الوہیت؛ (ب) ایمان کے وسیلے فضل ہی سے نجات؛ (ج) یسوع کے خون کے وسیلے نجات؛(د) یسوع کی گناہ سے مبرافطرت؛( د) بنیادی /موروثی گناہ کا تصور؛ اور ( ہ) رُوح القدس شامل ہیں ۔ یسوع کے حقیقی پیروکاروں کی طرف سے اِن میں سے کسی بھی "نئے عقیدے" کو قبول نہیں کیا گیا تھا۔

5) بائبل کی روایتی چار وں اناجیل کے مقابلے میں غناسی اناجیل یسوع کے بارے میں سچائی کے زیادہ قریب ہیں۔

"پولسی مسیحیت" کا تصور بائبل کے کلامِ خُدا ہونے پر ایک واضح حملے کی نمائندگی کرتا ہے۔ " پولسی مسیحیت " کے نظریے کے ماننے والے حقیقت میں خداوند یسوع کی تعلیمات کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ وہ محبت کے بارے میں اُس کے الفاظ پر یقین کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن عدالت(جیسا کہ متی 24باب) کے بارے میں اُس کی تعلیمات سے انکار کرتے ہیں ۔ وہ خداوند یسوع کی الوہیت کا انکار کرتے ہوئے اُس کی بشریت پر اصرار کرتے ہیں حالانکہ خداوند یسوع نے یوحنا 10باب 30آیت جیسے حوالہ جات میں خدا کے ساتھ اپنی برابری کی واضح تعلیم دی ہے ۔ وہ ایک "محبت کرنے والا" یسوع تو چاہتے ہیں مگر اُسے خداوند اور نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کرتے۔

جب بھی کوئی متشکک بائبل میں کوئی "ناموافق" عقیدہ پاتا ہے تو امکان پایا جاتا ہے کہ وہ کہے گا کہ "اس حوالے کو بگاڑ دیا گیا ہے" یا " اِسے پولس نے قلمبند کیا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ وہ جھوٹا تھا"۔ جہاں جہاں اناجیل "پولسی " عقیدے جیسا کہ یوحنا 1باب 29آیت میں یسوع کے گناہ کے لیے کفارے کی تعلیم دیتی ہیں متشکک لوگ اِسے "پولس کے جان نثاروں کی طرف سے شامل کئے ہوئے حصے " کے طور پر مسترد کر دیتے ہیں۔ درحقیقت ،تشکیک پرست لوگوں کا یسوع کے کفارے کے تصور کے خلاف شخصی تعصب کلامِ مقدس کے بارے میں اس طرح کے منتخب کردہ نقطہ نظر کی واحد بنیاد ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک رسول کے طور پر پولس کے اختیارات پرحتیٰ کہ اُس کی اپنی زندگی کے دوران بھی اُن لوگوں کی طرف سے حملہ کیا گیا جو کلیسیا کو ضابطہ پرستی اور دیگر گمراہ کن نظریات کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ پولس 1 کرنتھیوں 9باب؛ 2کرنتھیوں 12باب اور گلتیوں 1باب میں جھوٹےاُستادوں کے ناجائزحملوں سے اپنا دفاع کرتا ہے۔

پولس کے رسول ہونے کی تصدیق اس کی طرف سے کئے گئے معجزات (رومیوں 15باب 19آیت )، اُس کی حاصل کردہ تربیت (گلتیوں 1باب 15-20آیات) اور دوسرے رسولوں کی گواہی سے ہوتی ہے ۔ پطرس رسول پولس کا بالکل دشمن نہیں تھا ، وہ اُس کے بارے میں لکھتا ہے : "ہمارے پیارے بھائی پَولُس نے بھی اُس حکمت کے مُوافق جو اُسے عنایت ہُوئی تمہیں یِہی لِکھا ہے۔ اور اپنے سب خطوں میں اِن باتوں کا ذِکر کِیا ہے جِن میں بعض باتیں اَیسی ہیں جن کا سمجھنا مشکِل ہے اور جاہِل اور بے قیام لوگ اُن کے معنوں کو بھی اَور صحیفوں کی طرح کھینچ تان کر اپنے لئے ہلاکت پَیدا کرتے ہیں "(2پطرس 3باب 15-16آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پوُلسی مسیحیت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries