settings icon
share icon
سوال

ہشت پہلو عظیم راستہ کیا ہے ؟

جواب


ہشت پہلو عظیم راستہ بدھ مت کی مشق کی بنیاد ہے۔ ہشت پہلو عظیم راستے میں شامل آٹھ تصورات وہ رویے اور طرز عمل ہیں جن کی بدھ مت کے پیروکار چار عظیم سچائیوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِن آٹھ تصورات کی تین بڑے گروہوں : حکمت، طرز عمل اور ارتکاز میں درجہ بند ی کی جاتی ہے ۔ چار عظیم سچائیوں کے مطابق تمام زندگی فانی چیزوں کی خواہشات کی وجہ سے مصائب کا شکار ہے اور چونکہ تمام چیزیں یہاں تک کہ انسانی ذات بھی فانی ہیں لہذا مصائب سے آزاد ہونے کا واحد راستہ تمام خواہشات کو ترک کرنا ہے۔ بدھ مت کے مطابق ایسا ہشت پہلو عظیم راستے پر چل کر کیا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ "راستہ" کہلاتا ہے لیکن اِن آٹھ اجزاءکی کسی خاص ترتیب میں پیروی کرنا مقصد نہیں ہے ۔ اِس کے بجائے خواہشات کو ختم کرنے اور نروان حاصل کرنے کے لیے اُن کی بیک وقت پیروی کی جانی چاہیے ۔ ہشت پہلو عظیم راستے اور خود بدھ مت کی نمائندگی اکثر ہشت دھرم چکر کے ذریعے کی جاتی ہے جو کہ بحری جہاز کے سٹیئرنگ وہیل کی طرح ہے۔ ہشت پہلو عظیم راستے کے جزو صحیح نقطہ نظر، صحیح ارادہ، صحیح گفتگو، صحیح طرز عمل، صحیح معاش ، صحیح کوشش، صحیح آگاہی اور صحیح مراقبہ ہیں۔

صحیح نقطہ نظر اور صحیح ارادے کے جز و کا بعض اوقات ہشت پہلوعظیم راستے کے حکمتی پہلوؤں کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔

"صحیح نقطہ ِ نظر " کا بنیادی مطلب چار عظیم سچائیوں پر یقین کرنا ہے : کہ زندگی دُکھ بھری ہے۔ دُکھ فانی چیزوں کے لیے خواہش کے باعث ہوتا ہے۔ سب کچھ فانی ہے؛ اور صرف آٹھ پہلو راستے پر چل کر ہی تمام خواہشات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں دوبارہ جنم لینے اور کرما کے عقائد جیسے تصورات سے آگاہی بھی شامل ہے۔ بائبل کے لحاظ سے یہ سچ ہے کہ نجات پانے کے لیے کسی شخص کےلیے ایک خاص سچائی کے تابع ہونا ضروری ہے (یوحنا 8باب 28آیت) لیکن بائبل اس بات سے متفق نہیں ہے کہ مخصوص علم کسی لحاظ سے کسی شخص کی نجات کا ایک فعال حصہ ہے (افسیوں 2باب 8 آیت ؛ 1کرنتھیوں 3باب 19 آیت)۔

عظیم سچائیوں اور ہشت پہلو راستے کے مطابق "صحیح ارادہ" بہتر ی کے لیے تبدیلی کی خواہش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ صحیح ارادہ رکھنے والا شخص بدھ مت کے اصولوں کا پابند ہے اور اپنے خیالات اور طرز عمل کا اُن کے ساتھ موازنہ کرنا چاہتا ہے۔ بائبل کے مطابق ایماندارکو اپنے ایمان اور اعمال کا مسیح کے معیاروں سے موازنہ کرنے کے لیے بُلایا جاتا ہے (2 کرنتھیوں 13باب 5آیت ؛ رومیوں 13باب 14آیت ؛ یوحنا 15باب 14آیت )۔ تاہم بائبل یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ کوئی شخص دل سے جو چیز حاصل کرنا چاہتا ہے وہ چیز ہمیشہ وہی نہیں ہوتی جس کی اُسے خواہش کرنی چاہیے (یرمیاہ 17 باب 9آیت )۔ بدھ مت اس بات کا کوئی جواب فراہم نہیں کرتاکہ کوئی شخص روشن خیالی حاصل کرنے کے لیے اپنی گہری خواہشات کو کس طرح تبدیل کرے (دیکھیں 2 کرنتھیوں 10باب 12آیت )۔

صحیح گفتگو، صحیح طرز عمل اور صحیح معاش کے جزو کی بعض اوقات ہشت پہلو عظیم راستے کے اخلاقی پہلو ؤں کے طور پر بھی نشاندہی کی جاتی ہے۔

"صحیح گفتگو" الفاظ کو دیانتداری، شائستگی اور بامقصد طور پر استعمال کرنے کا حوالہ دیتی ہے۔ اس سے مرادگپ شپ، جھوٹ بولنے یا زبانی گالی گلوچ کرنے سے گریز کرنا ہے ۔ صحیح گفتگو کا تحریری الفاظ پر بھی اُتنا ہی اطلاق ہوتا ہے جتنا بولے جانے والے الفاظ پر۔ صحیح گفتگو کے بارے میں بدھ مت کے نقطہ نظر کا ایک دلچسپ ضمنی اثر بعض رُوحانی یا مابعدالطبیعاتی موضوعات پر بحث کرنے سے گریز کرنا ہے۔ بدھ مت کے مطابق حتمی حقیقت کے بارے میں کچھ سوالات کسی کی ہشت پہلو عظیم راستے کی کھوج سے غیر متعلق ہیں اس لیے ان پر بحث کرنا "صحیح گفتگو" نہیں ہے۔ بائبل کے مطابق ہمیں اپنی زبان پر قابو رکھنے (امثال 10باب 19آیت ) اور بے جا تکرارسے اجتنا ب کرنے کے لیے کہا جاتا ہے (1 تیمتھیس 6باب 4آیت)۔

"صحیح طرز عمل " میں قتل، چوری، زنا، وغیرہ جیسے کاموں سے گریز کرنا شامل ہے۔ صحیح کیا ہے بمقابلہ غلط کیا ہے کی رہنمائی کرنے والا عام اصول یہ ہے کہ آیا اس عمل سے کسی دوسرے شخص کو نقصان ہو گا یا نہیں۔ اخلاقیات اور چال چلن کے اُصولوں کے بارے میں ہی نقطہ نظر کے تحت طرزِ عمل کو رویے کے ساتھ جوڑتے ہوئے(متی 5باب 21-22، 27-28آیات) بائبل بلاشبہ اخلاقی اُصولوں کے لیے ایک کٹھن نقطہ نظر پیش کرتی ہے (متی 7باب 12آیت؛1 کرنتھیوں 9باب 27آیت )۔ اور صحیح بمقابلہ غلط کے لیے بائبل کا معیار بالآخر یہ نہیں ہے کہ آیا یہ کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ خدا کی پاک فطرت سے متصادم ہے۔

"صحیح معاش" صحیح طرزِ عمل کی طرح ہے لیکن یہ بالخصوص کسی شخص کے پیشے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس اصول کے مطابق کسی شخص کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے ، جھوٹ نہیں بولنا چاہیے یا ایسے کاروبار میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جو لوگوں کو نقصان پہنچاتے یا اُن کی توہین کرتے ہیں۔ جانوروں کی زندگی اور تشدد کے بارے میں بدھ مت کے نقطہ نظر کی وجہ سے یہ اصول جانوروں کو ذبح کرنے، گوشت کی فروخت یا ہتھیاروں کی تیاری یا فروخت سے متعلق کسی بھی کام سے منع کرتا ہے۔ بائبل کے مطابق کسی شخص کو کاروبار سمیت اپنی زندگی کے تمام حصوں میں یکساں اخلاقی فکر کے ساتھ چلنا ہے (44زبور 21آیت ؛ رومیوں 2باب 16آیت ؛ 2 کرنتھیوں 4باب 2آیت )۔ خُدا ہم سے فطرت کے اچھے منتظم بننے کی بھی توقع کرتا ہے (احبار 19باب 25آیت ؛ 25باب 2-5آیات؛ حبقوق 2باب 8، 17آیت)۔ تاہم بائبل جانوروں (مرقس 7باب 19آیت ؛ پیدایش 1باب 28آیت) یا اپنے دفاع کے جائز ذرائع (لوقا 22باب 36آیت) کو استعمال کرنے سے منع نہیں کرتی ہے ۔

صحیح کوشش، صحیح آگاہی اور صحیح مراقبہ کے جزو کو بعض اوقات ہشت پہلو عظیم راستے کے ارتکازی پہلوؤں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

"صحیح کوشش" ہشت پہلو عظیم راستے کے دیگر پہلوؤں کے مستقل مزاجی اور احتیاط کے ساتھ اطلاق کرنے کے احساس کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ مایوس کُن سوچ اور غصے جیسے منفی جذبات سے بچنے کی تحریک کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک بار پھر یہ جزو اس لحاظ سے مسئلہ پیش کرتا ہے کہ انسانی فطرت خودغرض اور سست ہونے کی طرف مائل ہے۔ بدھ مت کسی ایسے شخص میں اِن پہلوؤں کو تبدیل کرنے کا کوئی خاص ذریعہ پیش نہیں کرتا ہے جو اُن کو تبدیل کرنے کا رجحان نہیں رکھتا۔ بائبل دل کو تبدیل کرنے کےلیے خدا کی خوشنودی اور صلاحیت کے بارے میں بات کرتی ہےحتیٰ کہ اُس وقت بھی جب ہم مزاحمت کررہے ہوتے ہیں ( 2تھسلنیکیوں 3باب 13آیت؛1- کرنتھیوں 6باب 11آیت)۔

"صحیح آگاہی" صحیح کوشش کی طرح ہی ہے لیکن یہ با طنی ذہنیت اور فلسفیانہ پہلوؤں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس بات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کہ کوئی شخص اپنے تجربات اور ماحول کے لیے کیسا رد عمل ظاہر کرتا ہے بدھ مت اعلیٰ سطح کی شخصی آگاہی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اس قسم کی فکر ماضی یا مستقبل پر کم اصرار کے ساتھ حال پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ بائبل کے مطابق اسی طرح ہمیں بھی اپنے خیالات کی حفاظت کرنے اور اس بات سے محتاط رہنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ہمارا ماحول ہماری رُوحانی زندگیوں کو کیسے متاثر کرتا ہے (1 کرنتھیوں 15باب 33آیت ؛ 6باب 12آیت)۔

"صحیح مراقبہ" بدھ مت کی بنیادی مشق ہے جس میں سانس لینے، منتر الاپنے اور توجہ مرکوز کرنے کے دیگر طریقہ کار شامل ہیں۔ مراقبے کے اس انداز کا مقصد ذہن کو ارتکاز کے مقصد کے علاوہ باقی ہر بات سے مکمل طور پر خالی کرنا ہے۔ سمادھی مراقبہ کی اس شکل کا حتمی اظہار ہے جب کوئی شخص مکمل عدم ادراک اور عدم احساس کی کیفیت حاصل کرنے تک مختلف فکر انگیز درجات کے ذریعے ترقی کرتا جاتا ہے ۔ یہ بائبلی تعلیم کے ساتھ ایک اور تضاد کی نمائندگی کرتا ہے۔ بائبل دھیان گیان اور فکر انگیزی کے تصورات کو سراہتی ہے ( 1زبور 2آیت؛ 119زبور 15آیت) لیکن اس کا مقصد ذہن کو "خالی" کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ مسیحی دھیان گیان کا مقصد ذہن کو خدا کے کلام کی سچائی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ بائبل کے مطابق دھیان گیان ذہن کو خدا کے عیاں کردہ کلام سے معمور کرنا ہے ۔

پس خلاصہ یہ ہے کہ بائبلی مسیحیت اور بدھ مت کے ہشت پہلو عظیم راستے کے درمیان کچھ نکات ہم آہنگ ہیں۔ تاہم بہت سے اختلافات بنیادی اور ناقابل مصالحت ہیں۔ ہشت پہلو عظیم راستے کے مطابق جو شخص خود کو بیرونی مدد کے بغیر اُٹھا کھڑا نہیں کر سکتا ہے وہ محض بدقسمت ہے۔ اس کے پاس واحد چارہ یہ اُمید رکھنا ہی ہے کہ اس کی خواہشات، ارادے اور کوششیں خود ہی بدل جائیں۔ بائبل وضاحت کرتی ہے کہ خود بخود بھلائی کی تلاش کرنے کے معاملہ میں کسی شخص کے دل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا (یرمیاہ 17باب 9آیت ؛ رومیوں 3باب 1-12آیات؛ 7باب 18-24آیات)لیکن کسی بھی دل کو مسیح کے ساتھ تعلق کے وسیلے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (رومیوں 7باب 25آیت ؛ گلتیوں 3باب 13آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہشت پہلو عظیم راستہ کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries