settings icon
share icon
سوال

مَیں ایک مورمن ہوں، مجھے ایک مسیحی بننے کے بارے میں کیوں غور کرنا چاہیے؟

جواب


کوئی بھی شخص جو کسی بھی مذہب سے ہو – یا چاہے کسی کا کوئی بھی مذہب نہ ہو – اگر وہ یہ پوچھتا ہے کہ ، مجھے مسیحی بننے کے بارے میں کیوں غور کرنا چاہیے ؟ تو اُسے مسیحیت کے دعوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔وہ مورمن جو یہ سوال پوچھتے ہیں اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ بائبلی مسیحیت کے عقائد /اصولوں اور مورمن ازم کے فلسفے کے بنیادی عقائد کے درمیان فرق پر تحقیق کریں۔ اگر بائبل خُدا کا زندہ کلام ہے (جوزف سمتھ اور برگہم ینگ دونوں ہی اِس بات پر ایمان رکھتے تھے)، تو پھر مورمن ازم اور مقدسین برائے آخری ایام کے بنیادی عقائد (اگر وہ عقائد قابلِ اعتبار ہیں تو)اُس سب کے ساتھ ہم آہنگ ہونے چاہییں جس کی تعلیم بائبل مُقدس دیتی ہے۔ بہرحال اِن دونوں کے درمیان عدم مطابقت پائی جاتی ہے اور ہم مورمن ازم اور بائبل مُقدس کے درمیان تضادات کے چار مختلف پہلوؤں پر غور کریں گے۔

1) وہ مورمن جو مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اُنہیں اِس بات کو سمجھنا چاہیے کہ مورمن ازم کی بہت سارے تعلیمات کی بنیاد بہت سے غیر بائبلی وسائل ہیں۔ بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ مسیحی زندگی گزارنے کے لیےصرف بائبلی ہدایات کافی ہیں (2 تیمتھیس 3باب16آیت) اور بائبل خاص طور پر اُس شخص کو لعنت زدہ قرار دیتی ہے جو خُدا کی طرف سے بائبل میں ظاہر کردہ کلام کے اندر کچھ گھٹائے یا بڑھائے۔ دوسرے الفاظ میں خُدا اپنے اِس تحریر کردہ کلام کو مکمل قرار دیتا ہے (مکاشفہ 22باب18-19آیات)۔ اِس لیے خُدا کی طرف سے مزید کلام کے لکھے جانے کی کوئی وجہ بچتی نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنی کتاب لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مکمل ہے، اور پھر بعد میں اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اُس کتاب میں کچھ لکھنا بھول گیا تو ایسے شخص کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اُس شخص نے یا تو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی نہیں کی تھی یا پھر اُسے پہلے سے ہر ایک بات کو لکھنے کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ ایسا کوئی دیوتا یا ذات بائبل کا خُدا نہیں ہو سکتا۔ اِس کے باوجود مورمن ازم یہ تعلیم دیتا ہے کہ بائبل مُقدس چار الہامی وسائل میں سے ایک ہے،اُن کی تعلیمات کے مطابق دیگر تین الہامی وسائل میں مورمن کی کتاب، تعلیم اور عہد اور بیش قیمت موتی شامل ہیں۔ یہ سارے وسائل ایک ہی شخص کی طرف سے آئے جس نے اِنہیں خُدا کی طرف سے الہامی کلام قرار دیا حالانکہ یہ وسائل بائبل مُقدس جو کہ پہلا اور واحد الہامی وسیلہ ہے کی تعلیمات کے بالکل متضاد باتیں بیان کرتے ہیں۔ کلامِ مُقدس کے اندر اضافی مواد شامل کرنا اور پھر اُسے الہامی کہنا دراصل خُدا اور اُسکی تعلیمات کی تردید کرنا ہے۔

2) وہ مورمن جو مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اُنہیں اِس بات کو سمجھنا چاہیے کہ مورمن ازم ایک ایسے خُدا کے بارے میں سکھاتا ہے جو چھوٹا یا ناکامل خُدا ہے۔ مورمن ازم کی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ خُدا ہمیشہ ہی سے اِس کائنات کا واحد بڑا خُدا نہیں تھا (Mormon Doctrine, p. 321)، بلکہ اُس نے یہ رتبہ ایک راستبازی کی زندگی گزارنے کے ذریعے سے حاصل کیا ہے ۔ (نبی جوزف سمتھ کی تعلیمات، صفحہ 345)۔ ابھی وہ کون ہے جو راستبازی کی وضاحت کر سکتا ہے؟ ایسا معیار تو بس خُد اہی کی ذات سے آ سکتا ہے۔ پس یہ تعلیم دینا کہ خُدا کو خُدا بننے کے لیے ایک پہلے سے طے کردہ معیار کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت تھی جسے صرف اور صرف خُدا ہی طے کر سکتا ہے مکمل طور پر خود تردیدی اور خود غارتی بیان ہے۔ مزید برآں ایک ایسا خُدا جو ابدی اور واجب الوجود نہیں ہے وہ بائبل مُقدس کا خُدا نہیں ہو سکتا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ خُدا ابدی طور پر واجب الوجود ہے(استثنا 33باب27آیت؛ 90 زبور 2آیت؛ 1 تیمتھیس 1باب17آیت) اور اُسے کسی نے خلق نہیں کیا بلکہ وہ خود خالق ہے (پیدایش 1باب ؛ 24 زبور 1آیت؛ یسعیاہ 37باب16 آیت؛ کلسیوں 1باب 17-18آیات)۔

3) وہ مورمن جو مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اُنہیں اِس بات کو سمجھنا چاہیےمورمن ازم انسانیت کا جو تصور پیش کرتا ہے وہ بائبل میں بیان کردہ تصور سے بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور بائبلی تعلیمات کے ساتھ مکمل طور پر عدم مطابقت رکھتا ہے۔ مورمن ازم یہ تعلیم دیتا ہے کہ کوئی بھی انسان خُدا بن سکتا ہے (نبی جوزف سمتھ کی تعلیمات، صفحہ 345-354؛ تعلیم اور عہد 132باب20 آیت)۔جبکہ بائبل بار بار یہ تعلیم دیتی ہے کہ انسان موروثی طور پر گناہ آلود فطرت کا مالک ہے (یرمیاہ 17باب 9آیت؛ رومیوں 3 باب 10-23آیات؛ 8باب7آیت)، اور یہ کہ خُدا خود ہی واحد خُدا ہے (1 سموئیل 2باب2آیت؛ یسعیاہ 44باب 6، 8آیات؛ 46 باب 9 آیت)۔ یسعیاہ 43باب10 آیت کے اندر خُدا کے اپنے الفاظ کچھ اِس طرح سے مرقوم ہیں: " مجھ سے پہلے کوئی خُدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہو گا " جس طرح سے مورمن ازم کی تعلیم یہ بیان کرتی ہے کہ انسان خُدا بن سکتا ہے وہ کلامِ مُقدس کی اِس واضح گواہی کے بالکل خلاف ہے اور یہ انسان کے دِل کی اندرونی ترین خواہش کی نمائندگی ہے جس میں وہ خود خُدا کی جگہ لینا چاہتا ہے اور یہ خواہش اصل میں شیطان کے دِل کے اندر تھی (یسعیاہ 14باب14آیت)، اور اُس نے یہ خواہش آدم اور حوؔا کے دلِ و دماغ کے اندر ڈالی (پیدایش 3باب 5آیت)۔ خُدا کو اُس کے تخت سے ہٹانا یا اُس کے تخت پر بیٹھنے کی خواہش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایسی خواہش کے حامل لوگوں کا باپ شیطان ہے، اور ایسے لوگوں میں مخالفِ مسیح بھی شامل ہوگا جو اخیر زمانے میں اِسی خواہش کے تحت کام کرے گا (2 تھسلنیکیوں 2باب3-4 آیات)۔ انسانی تاریخ کے دوران بہت سارے جھوٹے مذاہب نے اِسی خواہش یعنی انسان کے خُدا بننے کو بنیاد بنا کر لوگوں کو دھوکا دیا ہے۔ لیکن خُدا اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اُس کے سوا اور کوئی خُدا نہیں ہے، اور ہمیں کبھی بھی اُس کی بات کی تردید کرنے کی جرات نہیں کرنی چاہیے۔

4) وہ مورمن جو مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اُنہیں اِس بات کو سمجھنا چاہیے کہ مورمن ازم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم خود اپنے اعمال کی بنیاد پر اپنی نجات حاصل کر سکتے ہیں، جو کہ کلامِ مُقدس کی تعلیمات کے بالکل برخلاف تعلیم ہے (ایمان کے ارکان ، صفحہ 92؛ 2 نیفی 25باب23آیت)۔ اگرچہ ہم ایمان لانے کے بعد ایک مختلف زندگی گزارتے ہیں لیکن یہ ہمارے اعمال نہیں جو ہمیں بچاتے ہیں بلکہ نجات ہمیں ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے فضل کی بدولت ملتی ہے جو کہ اُس کی ہمارے لیے مفت بخشش ہے (افسیوں 2باب4-6 آیات)۔ یہ اِس وجہ سے ہے کیونکہ خُدا صرف اپنی کامل راستبازی کو قبول کرتا ہے۔ مسیح نے ہمارے گناہوں کو اپنی راستبازی سے تبدیل کرنے کے لیے صلیب پر جان دی (2 کرنتھیوں 5باب21آیت)۔ ہم صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے ہی خُدا کی نظر میں پاک ٹھہر سکتے ہیں (1 کرنتھیوں 1باب2آیت)۔

پس بالآخر ایک جھوٹے مسیح پر ایمان لانے والے شخص کی نجات بھی جھوٹی ہوگی۔ کوئی بھی ایسی نجات جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ اُسے اپنے اعمال کے وسیلے سے حاصل کیا گیا ہے وہ جھوٹی نجات ہے (رومیوں 3باب20-28آیات)۔ ہم اپنے کاموں کی وجہ سے انسانی معیاروں پر پورا اترنے کے وسیلے سے نجات کے اہل نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم خُدا کے کلام پر اعتقاد نہیں رکھ سکتے تو پھر ہمارے لیے کسی بھی طرح کا ایمان رکھنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اور اگر ہم خُدا کے کلام پر ایمان رکھ سکتے ہیں تو پھر ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ خُدا کا کلام مستقل اور قابلِ اعتبار ہے۔ اگر خُدا اپنے کلام کی بالکل درست ہونے کے طور پر حفاظت نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا تو پھر وہ خُدا ہی نہیں ہے۔ مورمن ازم اور مسیحیت کے درمیان نمایاں فرق یہ ہے کہ مسیحیت ایک ایسے خُدا کے بارے میں تعلیم دیتی ہے جو ابدی طور پر واجب الوجود ہے، جو کامل اور پاک معیاروں کو قائم کرتا ہے جن کے مطابق ہم اپنی انسانی قوت سے زندگی نہیں گزار سکتے، اور پھر جس نے اپنی عظیم محبت کی بدولت اپنے بیٹے کو صلیب پر جان دینے کے لیے بھیج کر ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی۔

اگر آپ مسیح کی ہر دور کے لیے کافی اور میسر قربانی پر ایمان رکھنے کے لیے تیار ہیں تو آپ اِن الفاظ میں دُعا کر سکتے ہیں کہ :"خُدا باپ، مَیں جانتا ہوں کہ مَیں ایک گناہگار ہوں اور تیرے غضب کا مستحق ہوں۔ مَیں اِس بات کو جان گیا ہوں اور اِس پر ایمان رکھتا ہوں کہ خُداوند یسوع مسیح ہی واحد نجات دہندہ ہے۔ مَیں اپنی نجات کے لیے صرف اور صرف خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہوں۔ خُدا باپ، براہِ کرم مجھے معاف فرما، مجھے پاک کر اور مجھے تبدیل کر۔ تیرے حیرت انگیز فضل اور رحم کے لیے تیرا شکر ہو!"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں ایک مورمن ہوں، مجھے ایک مسیحی بننے کے بارے میں کیوں غور کرنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries