settings icon
share icon
سوال

کیا لوقا 16باب19-31آیات میں پیش کردہ بیان ایک تمثیل ہے یا پھر وہ حقیقت میں ہو گزرنے والا کوئی واقعہ ہے؟

جواب


لوقا 16باب9-31آیات میں بیان کردہ واقعہ بہت زیادہ تنازعے کا نشانہ رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امیر آدمی اور لعزر کی وہ کہانی دراصل تاریخی حقائق پر مبنی ایک ایسا واقعہ ہے جو حقیقت میں وقوع پذیر ہوا تھا؛ جبکہ دیگر لوگ اِسے محض ایک تمثیل اور افسانوی قصہ خیال کرتے ہیں۔

وہ لوگ جو اِس بیان کو ایک حقیقی واقعے کے طور پر لیتے ہیں اُن کے پاس ایسا کرنے کی کئی ایک وجوہات موجود ہیں۔ سب سے پہلے تو اِس کہانی کو کبھی بھی تمثیل نہیں کہا گیا۔ یسوع کی طرف سے بیان کی جانے والی بہت ساری دیگر کہانیوں کو تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جیسے کہ بیج بونے والے کی تمثیل (لوقا 8باب4آیت)؛ خوشحال کسان کی تمثیل (لوقا 12 باب 16آیت)؛ پھل نہ دینے والے انجیر کے درخت کی تمثیل (لوقا 13باب6آیت) اور شادی کی ضیافت کی تمثیل (لوقا 14باب7آیت)۔ دوسرے نمبر پر امیر آدمی اور لعزر کی کہانی میں اصل ناموں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اِس طرح کی خاصیت اِس بیان کو ایک عام قصّے کی بجائے ایک حقیقی کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے کیونکہ اکثر قصّوں کے اندر لوگوں کے حقیقی ناموں کا بیان نہیں پایا جاتا۔

تیسرے نمبر پر تمثیل کی تعریف اِس کہانی پر صادر نہیں آتی کیونکہ کسی بھی تمثیل کے اندر زمینی اور مادی چیزوں کی مثال دے کر کوئی رُوحانی سبق سکھایا جاتا ہے۔ جبکہ امیر آدمی اور لعزر کی کہانی براہِ راست رُوحانی سچائی کا بیان پیش کرتی ہےاور اِس کے لیے وہ کوئی زمینی یا مادی مثال کا استعمال نہیں کرتی۔ اِس کہانی کا موضوع آخرت کی زندگی ہے جو کہ دیگر تماثیل کے بالکل برعکس ہے کیونکہ تماثیل کے اندر اکثر زمینی باتوں اور معاملات کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔

اِس کے برعکس ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ یہ بیان محض ایک تمثیل ہے اور یہ حقیقی زندگی میں ہو گزرنے والا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ خُداوند یسوع مسیح عام طور پر تعلیم دینے کے لیے بہت ساری تماثیل کا استعمال کیا کرتا تھا اور لوقا 15-16ابواب کو دیکھا جائے تو وہاں پر خُداوند یسوع کی طرف سے پیش کی جانے والی زیادہ ترتعلیم تماثیل کی صورت میں پائی جاتی ہے اور یہ کہانی بھی اُنہی کے درمیان میں پیش کی گئی ہے۔ اِس نظریے کے حامی اوپر بیان کردہ وجوہات کو اِس تمثیل کو حقیقی زندگی کی کہانی قرار دینے کے لیے ناکافی خیال کرتے ہیں۔

ابھی اِس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ چاہے اِس بیان کو ایک حقیقی واقعہ خیال کیا جائے یا پھر اِس کو ایک تمثیل سمجھا جائے، اِس میں دی جانے والی تعلیم ایک ہی ہے۔ اگر یہ ایک حقیقی کہانی نہیں بھی ہے تو بھی اِس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ چاہے یہ ایک تمثیل ہے یا نہیں یسوع نے اِس کہانی کو یہ تعلیم دینے کے لیے استعمال کیا کہ موت کے بعد نا راست لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خُدا سے جُدا ہو جاتے ہیں اور اپنی اُس حالت میں وہ یاد کرتے ہیں کہ اُنہوں نے مسیح کے وسیلے نجات کی خوشخبری کو رد کیا، وہ عذاب کی حالت میں ہیں اور اُن کی اُس حالت کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ لوقا 16 باب 19-31آیات میں بیان کردہ کہانی چاہے ایک تمثیل ہے یا پھر حقیقی واقعہ، یہاں پر یسوع نے واضح طور پر تعلیم دی ہے کہ آسمان اور جہنم حقیقت میں موجود ہیں اور اُس نے اُن لوگوں کو جو مادی مال و دولت پر ہی پورا بھروسہ کئے بیٹھے ہیں دولت کی دھوکا بازی کے بارے میں بھی تعلیم دی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا لوقا 16باب19-31آیات میں پیش کردہ بیان ایک تمثیل ہے یا پھر وہ حقیقت میں ہو گزرنے والا کوئی واقعہ ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries